Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Sir Major James Abbott: Aik Muntazim, Aik Insan

Sir Major James Abbott: Aik Muntazim, Aik Insan

سر میجر جیمز ایبٹ: ایک منتظم، ایک انسان

برطانوی ہند کی تاریخ میں بہت سے افسر گزرے ہیں، مگر چند ہی ایسے تھے جن کا نام محض فائلوں، قوانین یا فوجی کارناموں سے نہیں بلکہ ایک پورے شہر کی شناخت سے جڑ گیا۔ سر میجر جیمز ایبٹ انہی میں سے ایک ہیں۔ ایبٹ آباد صرف ایک جغرافیائی نام نہیں بلکہ ایک طرزِ حکمرانی، ایک مزاج اور ایک عہد کی یادگار ہے۔ جیمز ایبٹ نہ تو محض ایک فاتح جنرل تھے اور نہ ہی روایتی نوآبادیاتی افسر جن کا مقصد صرف ٹیکس وصولی اور حکم کی تعمیل تھا۔ وہ انگریز ضرور تھے، مگر اس ذہنیت کے حامل نہیں جو مقامی آبادی کو محض رعایا سمجھتی تھی۔ 1840ء کی دہائی میں جب انہیں ہزارہ کا پہلا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا تو یہ خطہ بدامنی، قبائلی تصادم اور انتظامی خلا کا شکار تھا۔ ایبٹ نے طاقت کے اندھے استعمال کے بجائے نظم، انصاف اور انسانی ربط کو اپنی حکمتِ عملی کی بنیاد بنایا اور یہی وہ نکتہ ہے جو انہیں اپنے عہد کے اکثر انگریز افسروں سے ممتاز کرتا ہے۔

جیمز ایبٹ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ محض دفتری افسر نہیں تھے۔ انہیں زمین، موسم، زبان اور لوگوں کے مزاج سے دلچسپی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہزارہ کے لیے ایسا صدر مقام منتخب کیا جو نہ صرف دفاعی اور انتظامی اعتبار سے موزوں تھا بلکہ صحت اور رہائش کے لیے بھی بہترین تھا۔ ہری پور کی گرم اور نسبتاً بھاری فضا کے مقابلے میں موجودہ ایبٹ آباد کی وادی ٹھنڈی، سرسبز اور قدرتی حسن سے مالا مال تھی۔ یہاں شہر بسانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل المدت وژن کا نتیجہ تھا۔ ایبٹ نے سڑکیں، بازار، چھاؤنیاں اور انتظامی عمارتیں اس ترتیب سے بنوائیں کہ شہر بے ہنگم پھیلاؤ کا شکار نہ ہو۔ یہ وہی منصوبہ بندی تھی جس کی وجہ سے ایبٹ آباد طویل عرصے تک ایک منظم اور پرسکون شہر رہا اور آج بھی اس کی بنیادوں میں وہی نظم جھلکتا ہے۔

میجر ایبٹ کے بارے میں سب سے زیادہ دلچسپ اور اکثر دہرایا جانے والا پہلو یہ ہے کہ وہ بھیس بدل کر عام لوگوں میں گھل مل جاتے تھے۔ اس بات کو اگر محض رومانوی قصہ سمجھ کر رد کر دیا جائے تو زیادتی ہوگی، مگر اسے ڈرامائی رنگ دینا بھی حقیقت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایبٹ انتظامی رپورٹوں اور مخبروں پر اندھا اعتماد نہیں کرتے تھے۔ وہ خود حالات دیکھنا، لوگوں کی بات سننا اور زمینی حقائق جانچنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ سادہ لباس میں بازاروں، دیہات اور عوامی مقامات پر جاتے، لوگوں کے مسائل سنتے اور مقامی رویوں کو براہِ راست سمجھتے۔ یہ رویہ کسی اداکاری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منتظم کی سنجیدہ کوشش تھی کہ وہ اقتدار کے پردے کے پیچھے چھپی حقیقت سے واقف رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں ہزارہ میں نسبتاً کم بغاوتیں ہوئیں اور مقامی آبادی نے انہیں ایک سخت مگر منصف افسر کے طور پر قبول کیا۔

ایبٹ کی تحریریں اور خطوط اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ اس خطے اور اس کے لوگوں سے جذباتی وابستگی رکھتے تھے۔ ان کی مشہور نظم، جو انہوں نے ہزارہ سے رخصتی کے وقت لکھی، محض ایک نوآبادیاتی افسر کی شاعری نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کا اعتراف ہے جو اس زمین سے دل لگا بیٹھا تھا۔ وہ پہاڑوں، جنگلوں، موسموں اور لوگوں کا ذکر ایسے انداز میں کرتے ہیں جیسے کوئی مسافر نہیں بلکہ مقیم فرد بات کر رہا ہو۔ یہ سچ ہے کہ وہ برطانوی راج کا حصہ تھے اور اس نظام کی خاموش خدمت بھی کرتے تھے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے ذاتی سطح پر ظلم، لوٹ مار اور تحقیر کو کبھی اپنا شعار نہیں بنایا۔ ان کے فیصلوں میں قانون کے ساتھ ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی شامل ہوتی تھی اور یہی توازن انہیں محض ایک افسر کے بجائے ایک کردار بناتا ہے۔

یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ میجر ایبٹ کو کسی رومانوی ہیرو یا مقامی نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا تاریخی دیانت کے خلاف ہوگا۔ وہ ایک سامراجی نظام کے نمائندہ تھے اور اس نظام کی موجودگی بذاتِ خود مقامی خودمختاری کے لیے نقصان دہ تھی۔ مگر تاریخ میں کرداروں کو سیاہ اور سفید میں بانٹنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ ایبٹ کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ انہوں نے طاقت کو محض خوف کے ذریعے نافذ کرنے کے بجائے نظم، انصاف اور انسانی فہم کے ذریعے چلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مقامی روایات کو مکمل طور پر کچلنے کے بجائے انہیں سمجھنے کی سعی کی اور یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آج بھی نفرت کے بجائے احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

ایبٹ آباد آج ایک جدید، پھیلا ہوا اور کئی تضادات کا حامل شہر ہے۔ مگر اگر اس کی بنیادوں میں جھانکا جائے تو وہاں ایک ایسے شخص کی سوچ کارفرما نظر آتی ہے جو نظم و ضبط، انسانی رابطے اور عملی مشاہدے پر یقین رکھتا تھا۔ سر میجر جیمز ایبٹ نہ فرشتہ تھے، نہ ہی محض ایک چالاک انگریز افسر۔ وہ ایک فوجی، ایک منتظم اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا انسان تھے جو لوگوں کو دور سے نہیں بلکہ قریب سے جاننا چاہتا تھا۔ شاید اسی لیے وقت گزرنے کے باوجود ان کا نام محض تاریخ کی کتابوں میں نہیں بلکہ ایک زندہ شہر کی شناخت میں سانس لیتا ہے۔

Check Also

Shikarpur Ka Taleemi Zawal Aur Qabaili Khoon Ki Holi

By Muhammad Wasif Akram