Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Sarken, Saltanaten Aur Tareekh Ka Faisla

Sarken, Saltanaten Aur Tareekh Ka Faisla

سڑکیں، سلطنتیں اور تاریخ کا فیصلہ

یہ جملہ کہ "سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں ہوتی" بظاہر ایک دانشورانہ فقرہ لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ تاریخ کی طویل اور کڑی عدالت میں بار بار مجرم ٹھہر چکا ہے۔ سڑک محض اینٹ، پتھر اور اسفالٹ کا نام نہیں ہوتی، سڑک ریاست کی رگِ جاں ہوتی ہے، تہذیب کی شہ رگ، معیشت کا خاموش مگر مضبوط ستون۔ انسان نے جب پہلی بار قبیلے سے ریاست کی طرف سفر کیا تو سب سے پہلے راستہ بنایا، کیونکہ بغیر راستے کے نہ خیال آگے بڑھتا ہے، نہ تجارت، نہ فوج، نہ علم، نہ تہذیب۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جن سلطنتوں نے دور تک اثر چھوڑا، انہوں نے سب سے پہلے راستوں کو جوڑا، بکھری آبادیوں کو ایک لڑی میں پرویا اور فاصلے کم کیے۔ فارس کا بادشاہ سائرس اعظم ہو یا برصغیر کا شیر شاہ سوری، یا جدید پاکستان کا موٹروے منصوبہ، یہ سب محض تعمیرات نہیں بلکہ ایک وژن، ایک ریاستی شعور اور مستقبل کی طرف بڑھتا ہوا قدم تھے۔

سائرس اعظم نے جب رائل روڈ بنائی تو وہ محض ایک سڑک نہیں تھی، وہ پوری سلطنت کی زبان تھی۔ یہ بین البراعظمی شاہراہ ایشیا کے مختلف حصوں کو جوڑتی تھی، خبر، حکم، تجارت اور فوجی نقل و حرکت کو ممکن بناتی تھی۔ یہی وہ رگ تھی جس پر فارس کی سلطنت کی سانس چلتی تھی۔ پھر 330 قبل مسیح میں سکندر اعظم آیا، اس نے شہر جلا دیے، محلات مسمار کر دیے، مگر ایک چیز کو ہاتھ نہ لگایا، سائرس کا مقبرہ۔ یہ محض فاتح کی سخاوت نہیں تھی، یہ تاریخ کے سامنے اعتراف تھا۔ سکندر نے خود اس بات کی تصدیق کی کہ یہ واقعی سائرس اعظم کا مقبرہ ہے، وہ اندر داخل ہوا، اس نے قبریں دیکھیں، سونے کے تخت، قدیم زبان کی تحریریں اور وہ جملے جو آج بھی انسان کے غرور کو جھنجھوڑ دیتے ہیں: "اے انسان! میں سائرس ہوں، جس نے سلطنت فارس کی بنیاد رکھی، میری ہڈیوں کو ڈھانپنے والی زمین پر مجھ سے بدگمانی نہ کرنا"۔ یہ الفاظ محض قبر پر کندہ نہیں تھے، یہ تاریخ کے ماتھے پر لکھی ہوئی سطر تھی کہ اصل عظمت فتوحات سے نہیں، نظم، انصاف اور ریاستی ڈھانچے سے جنم لیتی ہے۔

یونانی مورخ ہیروڈوٹس نے بھی سائرس کا ذکر کیا، اس کے مقبرے کی تصدیق کی اور اس خطے کو پسرگارد کہا، پرشین گارڈن۔ باغ، محل، راستے، نظم، یہ سب ایک ہی فکرکے اجزا تھے۔ سائرس جانتا تھا کہ ریاست صرف تلوار سے نہیں چلتی، ریاست راستوں سے جڑی رہتی ہے۔ سڑک سلطنت کو سانس دیتی ہے، باغ اسے تہذیب عطا کرتا ہے اور قانون اسے دوام بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکندر، جو خود ایک عظیم فاتح تھا، سائرس کے مزار پر جھکنے پر مجبور ہوا۔ تاریخ میں یہی ہوتا ہے، اصل تعمیر کرنے والے، اصل جوڑنے والے، وقت کے شور میں دب نہیں پاتے۔

برصغیر میں یہی کام صدیوں بعد شیر شاہ سوری نے کیا۔ کابل سے بنگال اور برما تک پھیلی سڑک، گرینڈ ٹرنک روڈ، آج بھی زندہ ہے۔ سلطنتیں آئیں، گئیں، نام بدلے، جھنڈے بدلے، مگر وہ سڑک آج بھی چل رہی ہے، جیسے شیر شاہ کا وژن وقت کے کندھوں پر سوار ہو۔ اس سڑک کے کنارے سرائے، کنویں، درخت، میل کے پتھر، یہ سب اس بات کی علامت تھے کہ حکمران محض آج کے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے سوچ رہا ہے۔ شیر شاہ جانتا تھا کہ جب تاجر محفوظ ہوگا، مسافر مطمئن ہوگا، فوج بروقت پہنچے گی اور خبر تیزی سے پھیلے گی، تب ہی ریاست مضبوط ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مغل، انگریز اور جدید ریاستیں سب اسی سڑک پر چلتی رہیں۔ تاریخ نے فیصلہ دے دیا کہ سڑک بنانے والا مٹتا نہیں، وہ زمانے کے نقشے میں نقش ہو جاتا ہے۔

اسی تسلسل میں جدید پاکستان کا موٹروے منصوبہ بھی محض ایک سڑک نہیں تھا، بلکہ ایک سوچ تھی۔ میاں محمد نواز شریف کے دور میں بننے والی موٹروے نے صرف شہروں کو نہیں جوڑا، اس نے ریاست کے تصور کو بدلا۔ پہلی بار پاکستانی عوام نے دیکھا کہ سڑک بھی مہذب ہو سکتی ہے، قانون بھی لاگو ہو سکتا ہے اور سفر بھی عزت کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ یہ موٹروے وقت کے ساتھ پھیلتی گئی، شمال سے جنوب تک، صنعت، زراعت، تجارت اور سیاحت کے نئے دروازے کھلتے گئے۔ موٹروے نے فاصلے کم کیے، وقت بچایا، لاگت گھٹائی اور یہ سب ترقی کی خاموش بنیادیں ہوتی ہیں۔ جن قوموں نے یہ بات سمجھی، وہ آگے بڑھ گئیں، جنہوں نے اسے نظرانداز کیا، وہ نعرے لگاتی رہ گئیں۔

یہ کہنا کہ سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں ہوتی، دراصل تاریخ سے آنکھیں چرانا ہے۔ ترقی ایک دن میں نظر نہیں آتی، یہ آہستہ آہستہ راستوں پر چل کر آتی ہے۔ آج جو قوم سڑک بناتی ہے، کل وہ صنعت لگاتی ہے، پرسوں علم پھیلاتی ہے اور پھر دنیا کے نقشے پر اپنا مقام بناتی ہے۔ سڑک خود منزل نہیں ہوتی، مگر منزل تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ضرور ہوتی ہے۔ سائرس، شیر شاہ اور جدید دور کے منصوبہ سازوں میں یہی قدرِ مشترک ہے کہ انہوں نے انسان کو انسان سے جوڑا، شہر کو شہر سے ملایا اور ریاست کو بکھرنے سے بچایا اور جو آج بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سڑکیں ترقی نہیں لاتیں، اس کے لیے تاریخ کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ "ڈسٹ بن آف ہسٹری" میں چلا جاتا ہے، جہاں شور تو بہت ہوتا ہے، مگر نشان کوئی نہیں رہتا۔

سڑک مٹی اور پتھر کا راستہ نہیں ہوتی، یہ وقت اور انسان کے درمیان معاہدہ ہوتی ہے۔ اسی پر خیال سفر کرتا ہے، تجارت چلتی ہے، ریاست سانس لیتی ہے اور تہذیب ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتی ہے۔ جہاں راستے بند ہوں وہاں سوچ بھی رک جاتی ہے اور جہاں سڑک کھلتی ہے وہاں امکان جاگ اٹھتا ہے۔

یہ راستے ہی تو قوموں کو سفر دیتے ہیں
بکھرے ہوئے شہروں کو اک گھر دیتے ہیں

صرف پتھر نہیں بچھتے سڑک کے سینے پر
یہی تو وقت کو آگے پر دیتے ہیں

جہاں راستہ ہو وہاں سوال جنم لیتے ہیں
جہاں راہ نہ ہو، وہیں ڈر دیتے ہیں

سڑک نے جوڑ دیا کل کو آنے والے کل سے
یہی تو خوابوں کو پر دیتے ہیں

جو راستے کو حقیر سمجھے، مٹ جاتا ہے
راستے ہی نام کو عمر دیتے ہیں

Check Also

Mere Ilm Mein Na Aane Wali Meri Agenti

By Nusrat Javed