Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Quran: Hidayat, Shaoor Aur Maqsad e Hayat

Quran: Hidayat, Shaoor Aur Maqsad e Hayat

قرآن: ہدایت، شعور اور مقصدِ حیات

قرآن مجید وہ کتاب ہے جو انسانیت کے لیے خوشخبری بھی ہے اور تنبیہ بھی، بشارت بھی ہے اور نصیحت بھی۔ یہ محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اس کے وجود، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام سے آگاہ کرتی ہے۔ قرآن انسان کو روحانی اور فکری، دونوں سطحوں پر سچ کی تلاش کی دعوت دیتا ہے۔ یہ کتاب انسان کے سامنے یہ سوال رکھتی ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے، کیوں آیا ہے اور کہاں جانا ہے۔ ہر کتاب کا ایک مقصد ہوتا ہے اور قرآن کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اللہ کے تخلیقی منصوبے سے باخبر کیا جائے۔ یعنی یہ بتایا جائے کہ اللہ نے اس کائنات کو کیوں پیدا کیا، انسان کو زمین پر کیوں بسایا گیا، دنیا کی محدود زندگی میں اس سے کیا مطلوب ہے اور موت کے بعد اسے کن مراحل سے گزرنا ہے۔ قرآن انسان کو اس پوری حقیقت سے روشناس کرا کے اس کی دنیاوی زندگی سے لے کر آخرت کے سفر تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

قرآن مجید انسان کو محض معلومات نہیں دیتا بلکہ شعور عطا کرتا ہے۔ یہ شعور انسان کو اپنے رب کے قریب کرتا ہے، اس کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے اور اس کی زندگی کو ایک بامقصد سمت عطا کرتا ہے۔ قرآن بار بار انسان کو جھنجھوڑتا ہے کہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہو، اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں پر غور کرے اور کائنات کے ہر منظر میں اپنے خالق کی پہچان تلاش کرے۔ قرآن کا اندازِ خطاب یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل سے بھی بات کرتا ہے اور اس کے دل کو بھی مخاطب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب صرف مذہبی طبقے کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو سچ کی جستجو رکھتا ہے اور زندگی کو محض کھانے پینے اور جینے مرنے تک محدود نہیں سمجھتا۔

قرآن میں فکر، تدبر اور تفکر پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اس کے لیے مختلف اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، جیسے توسم، تدبر اور تفکر۔ توسم کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ظاہری چیزوں کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت کو پہچانے، نشانیوں کو سمجھے اور ان سے سبق حاصل کرے۔ تدبر کا مطلب ہے گہرائی میں اتر کر سوچنا، کسی بات کے انجام اور نتائج پر غور کرنا۔ تفکر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کائنات، اپنی ذات، تاریخ اور حالات پر سنجیدگی سے سوچے۔ قرآن ان سب رویّوں کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے۔ یہاں ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں بلکہ شعوری قبولیت کا نام ہے، جس کی بنیاد سوچ، غور و فکر اور سچائی کی تلاش پر ہوتی ہے۔

قرآن کا ایک بڑا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو مقصد کے بغیر نہ گزارے۔ دنیا آزمائش کی جگہ ہے، کھیل تماشے کی نہیں۔ قرآن انسان کو بتاتا ہے کہ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، اصل کامیابی آخرت کی ہے، لیکن آخرت کی تیاری اسی دنیا میں ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو قرآن کو ایک انقلابی کتاب بناتا ہے۔ یہ انسان کو دنیا سے کاٹتا نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اسے اللہ سے جوڑتا ہے۔ یہ توازن ہی قرآن کا حسن ہے۔ ایک طرف عبادت، تقویٰ اور روحانیت ہے تو دوسری طرف عدل، اخلاق، معاشرت اور انسانی حقوق ہیں۔ قرآن انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اچھا انسان بنے، کیونکہ اچھا انسان ہی اچھا بندہ بن سکتا ہے۔

قرآن کا اصل ہدف انسان کے اندر ایک فکری اور اخلاقی انقلاب برپا کرنا ہے۔ یہ کتاب انسان کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے، اسے یاد دلاتی ہے کہ اس کا ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے اور ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے جواب دینا ہے۔ یہ احساسِ جواب دہی انسان کی زندگی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ قرآن انسان کو خوف اور امید، دونوں کے درمیان رکھتا ہے۔ خوف اس بات کا کہ کہیں وہ اپنے مقصد سے غافل نہ ہو جائے اور امید اس بات کی کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے اور وہ سچی توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ یہی توازن انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے اور اسے مسلسل بہتری کی طرف گامزن رکھتا ہے۔

آج کے دور میں، جب انسان مادی ترقی کے باوجود ذہنی اضطراب، بے سکونی اور مقصدیت کے فقدان کا شکار ہے، قرآن کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ کتاب انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اصل امن باہر نہیں بلکہ اندر ہے اور وہ اندرونی سکون اللہ کی معرفت سے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن انسان کو کائنات کے شور میں اپنے رب کی آواز سننے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ہر دور کے انسان کے لیے زندہ کتاب ہے۔ یہ ہر زمانے میں نئے سوالات کا جواب دیتی ہے، بشرطیکہ انسان اسے کھلے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ پڑھنے پر آمادہ ہو۔ قرآن کا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے خالق کو پہچانے، اپنے مقصد کو سمجھے اور اپنی زندگی کو اس مقصد کے مطابق ڈھال لے، کیونکہ یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

Check Also

Iran Mein Ehtejaj, Crackdown Aur Aalmi Rad e Amal

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi