Thursday, 18 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Punjab Budget: Pension Izafa 3.5 Feesad

Punjab Budget: Pension Izafa 3.5 Feesad

پنجاب بجٹ: پینشن اضافہ 3.5 فیصد

پنجاب کا سالانہ بجٹ پیش ہو چکا ہے۔ حکومتی حلقے اسے ترقی، خوشحالی، فلاح اور عوامی خدمت کا بجٹ قرار دے رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے انبار لگائے جا رہے ہیں، اربوں اور کھربوں روپے کے منصوبوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، نئی سڑکوں، ہسپتالوں، سکولوں اور ترقیاتی پروگراموں کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ مگر پینشن اضافہ محض 3.5 فیصد! کتنی شرم کی بات ہے۔ اس سے بہتر تھا، نہ کرتے۔

یقیناً کسی بھی حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بیان کرے اور اپنے منصوبوں کو عوام کے سامنے رکھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ترقیاتی اخراجات ناگزیر ہوتے ہیں۔

لیکن بجٹ کا اصل امتحان بڑے بڑے منصوبوں میں نہیں بلکہ اس سوال میں پوشیدہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں کیا فرق پڑے گا؟ وہ سرکاری ملازم جو اپنی تنخواہ پر گھر چلاتا ہے، وہ پنشنر جس نے اپنی جوانی ریاست کی خدمت میں گزار دی، وہ بیوہ جس کا سہارا صرف پنشن ہے اور وہ سفید پوش خاندان جو ہر ماہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سامنے بے بس کھڑا ہے، کیا اس بجٹ میں ان کے لیے بھی کوئی حقیقی ریلیف موجود ہے؟

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے عوام نے جس مہنگائی کا سامنا کیا ہے، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ آٹا، چاول، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، گوشت، دودھ، بجلی، گیس، پٹرول، ادویات، تعلیمی اخراجات اور گھریلو ضروریات کی تقریباً ہر شے کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ وہ خاندان جو چند سال پہلے عزت کے ساتھ اپنی آمدنی میں گزارا کر لیتے تھے، آج ہر ماہ بجٹ کے خسارے کا شکار ہیں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنیں کاغذوں میں بڑھتی ہیں لیکن بازار میں ان کی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر کسی شخص کی آمدنی دس فیصد بڑھے اور اس کے اخراجات بیس یا پچیس فیصد بڑھ جائیں تو حقیقت میں وہ پہلے سے زیادہ غریب ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال آج لاکھوں خاندانوں کی ہے۔

اس پس منظر میں جب پنشن میں صرف 3.5 فیصد اضافے کی خبر سامنے آتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اضافہ واقعی ریلیف کہلانے کا مستحق ہے؟ کیا کسی نے بازار جا کر دیکھا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟

کیا کسی نے ان بزرگوں کی زندگی کا تصور کیا ہے جو مہینے کے آخر میں دوائی خریدنے اور راشن لینے کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہوتے ہیں؟

یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ حکومت کے پاس وسائل محدود ہوتے ہیں، مالی مشکلات ہوتی ہیں، قرضوں کا دباؤ ہوتا ہے اور بجٹ سازی آسان کام نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کا تحفظ ہے۔

پنشن کوئی خیرات نہیں، احسان نہیں اور نہ ہی کسی حکمران کی ذاتی سخاوت کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک حق ہے جو ایک ملازم اپنی پوری عمر کی خدمت کے بعد حاصل کرتا ہے۔ جس شخص نے تیس، پینتیس یا چالیس سال ریاست کی خدمت کی ہو، اس کی پنشن میں اضافہ کرتے وقت صرف حسابی فارمولے نہیں بلکہ انسانی وقار کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ 3.5 فیصد اضافہ سننے میں شاید ایک عدد ہو، لیکن جب اسے عملی زندگی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اضافہ بہت سے پنشنرز کے ماہانہ ادویات کے خرچ سے بھی کم ہے۔

ایسے فیصلے کاغذوں پر متوازن دکھائی دے سکتے ہیں لیکن عوامی زندگی میں ان کا اثر سخت مایوسی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سرکاری خزانہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں۔ یہ عوام کی امانت ہے۔ اس میں کسان کا پسینہ بھی شامل ہے، مزدور کی محنت بھی، تاجر کا ٹیکس بھی اور ملازم کی کمائی بھی۔ جب عوام کے پیسے سے عوام کو ان کا حق دیا جاتا ہے تو اسے احسان بنا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ریاست اپنے ہی شہریوں کو ان کا حق دیتے وقت بھی احسان جتا رہی ہو۔ حالانکہ حکمرانی کا اصل حسن اس میں ہے کہ عوام کو عزت کے ساتھ ان کا جائز حق دیا جائے۔

قرآن مجید بار بار عدل، انصاف اور امانت داری کا حکم دیتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے سنہری ادوار میں حکمران راتوں کو جاگتے تھے کہ کہیں کوئی شہری بھوکا نہ سو جائے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا وہ مشہور قول آج بھی تاریخ کے صفحات پر روشن ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔ جب ایک حکمران کا احساسِ جوابدہی یہ ہو تو پھر معاشرے میں عدل اور رحمت جنم لیتے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ سازی کو محض اعداد و شمار کا کھیل نہ سمجھا جائے۔ معاشی فیصلوں میں انسانی پہلو کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اگر مہنگائی کی شرح ایک سطح پر ہے تو تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ بھی کم از کم اسی تناسب سے ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کی قوتِ خرید برقرار رہ سکے۔

اگر خزانے پر دباؤ ہے تو سب سے پہلے غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں، شاہانہ مراعات کا جائزہ لیا جائے، فضول منصوبوں کو مؤخر کیا جائے اور وسائل کا رخ عام آدمی کی طرف موڑا جائے۔

ایک ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ وہ سکون اور تحفظ ہے جو اس کے بزرگوں، ملازمین اور کمزور طبقات کو حاصل ہوتا ہے۔

جب ایک پنشنر اپنے گھر میں عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے، جب ایک سرکاری ملازم اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج کے بارے میں فکرمند نہ ہو، تب ہی کسی بجٹ کو حقیقی معنوں میں عوام دوست کہا جا سکتا ہے۔

پنجاب حکومت اور تمام اربابِ اختیار کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ عوام صرف اعداد و شمار نہیں دیکھتے، وہ اپنے چولہے، اپنی دوائی، اپنے بچوں کی فیس اور اپنے ماہانہ اخراجات دیکھتے ہیں۔

ان کی دعائیں بھی سرمایہ ہیں اور ان کی آہیں بھی اثر رکھتی ہیں۔ اقتدار چند دن کا ہے، عہدے عارضی ہیں، فائلیں بند ہو جاتی ہیں، بجٹ بدل جاتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی عدالت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ وہاں نہ کوئی سرکاری نوٹ شیٹ کام آئے گی، نہ کوئی چالاکی، نہ کوئی چرب زبانی اور نہ کوئی معاشی جواز۔

وہاں صرف یہ سوال ہوگا کہ امانت کا حق ادا کیا گیا یا نہیں، کمزوروں کے ساتھ انصاف کیا گیا یا نہیں اور عوام کی آسانی کو ترجیح دی گئی یا نہیں۔

اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ پنشنرز، ملازمین اور عام شہریوں کے لیے زیادہ منصفانہ فیصلے کیے جائیں تنخواہ اور پینشن میں کم از کم 80% اضافہ کیا جائے اور یہ ممکن ہے۔ اس لیے کہ اسی ملک میں آج سے چند سال پہلے 100% اضافہ بھی ہو چکا ہے۔

نہیں تو نام نہاد عارضی حکمرانو!

پھر اللہ کے قہر کا انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔ ہمارا کیس اب اللہ بزرگ و برتر، خالقِ ارض و سمٰوات اور عالم کو زینت بخشنے والے کی عدالت میں ہے اور ہمیں وہاں سے 100% انصاف کی توقع ہے۔

عارضی حکمرانو!

عوام دوست فیصلے کرکے اللہ کے بندوں کی دعائیں حاصل کی کرو، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جو حکمران عوام کے دل جیت لیتے ہیں، وہی اصل کامیاب حکمران ہوتے ہیں اور جو اس میں ناکام رہتے ہیں وہ ڈسٹ آف ہسٹری میں جا کر گل سڑ جاتے ہیں۔

Check Also

Budget, Sifarat Kari Aur Maeeshat Ka Naya Ufaq

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi