Noor Khan, Be Misal o Barq Raftar
نور خان، بے مثال و برق رفتار

وہ میرے ساتھ پڑی خالی کرسی پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا آج میں ایئر مارشل نور خان کی زندگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے، ان سے ہونے والی اپنی دو مختصر مگر یادگار ملاقاتیں یاد کرنا چاہتا ہوں، جب وہ مغربی پاکستان کے گورنر تھے (70-1969) اور میں کراچی کا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھا۔ ایک بار ایئرپورٹ سے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جاتے ہوئے میں ان کے پہلو میں بیٹھا تھا۔ نہ کوئی پولیس اسکواڈ ساتھ تھا، نہ کوئی اضافی گاڑی پیچھے۔ اچانک ہماری کار ایک چوراہے پر سرخ اشارے کے باوجود گزر گئی۔ نور خان نے فوراً ڈرائیور کو ڈانٹا کہ کیا تم اندھے ہو جو پیلی بتی کے سرخ میں بدلنے کو نہ دیکھ سکے اور اسے حکم دیا کہ گاڑی واپس کرو۔ دوسری مرتبہ اسی راستے پر گاڑی خراب ہوگئی۔ میں نے مشورہ دیا کہ شاید اب پرانی کیڈیلک بدل دینی چاہیے۔ انہوں نے بڑے سکون سے جواب دیا: "گاڑی کی مرمت پر غور کرنا چاہیے، کراچی کے میرے کبھی کبھار کے دوروں کے لیے یہ بالکل کافی ہے۔ "
یہ وہ دن تھے جب ملک بھر میں طلبہ اور مزدور تحریک زوروں پر تھی اور کراچی یونیورسٹی خاص طور پر بے چینی کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ تمام تر مشوروں کے برخلاف انہوں نے خود یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا۔ وائس چانسلر، بزرگ مجاہدِ آزادی اشتیاق حسین قریشی کے دفتر سے نکلتے ہی ہمیں ایسے ہجوم کا سامنا کرنا پڑا جو نعرے تو لگا رہا تھا مگر کسی کی بات سننے پر آمادہ نہ تھا۔ صورتحال کشیدہ ہوئی تو وہاں موجود پولیس افسران نے گورنر کو ایک کھلی وین میں بٹھا کر آگے بڑھا دیا، مگر تھوڑی ہی دور جا کر گاڑی لوٹ آئی۔ بعد میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ جیسے ہی گورنر کو احساس ہوا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ وین میں نہیں ہے، انہوں نے فوراً واپسی کا حکم دیا تاکہ مجھے اس ہجوم سے نکال سکیں۔ راستے میں ہنستے ہوئے بولے: "میں تو سمجھا تھا کہ آپ مجھے بچانے آئے ہیں۔ " اس روز کردار بدل گئے تھے، مگر وہ اس غیر معمولی تجربے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
1969 میں جب میرے عزیز دوست اور گورنر کے سیکریٹری نصرم من اللہ نے میرا تقرر بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کراچی منظور کرانے کی بات کی تو کسی نے فرقہ وارانہ بنیاد پر اعتراضات کا خدشہ ظاہر کیا۔ نور خان نے فوراً کہا: "اگر آپ انہیں اہل سمجھتے ہیں تو باقی تمام باتیں غیر اہم ہیں۔ " جیسا کہ نصرم من اللہ نے بعد میں مجھے بتایا۔ میں تقریباً چار برس تک نہایت کٹھن حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ نور خان کے بعد ایک اور عظیم سپاہی جنرل عتیق الرحمن گورنر بنے۔ وہ جب بھی کراچی آتے، کبھی یہ کہنا نہ بھولتے کہ میں نے ان کی والدہ کے گھر، جو شہر کے ایک ایسے حصے میں تھا جہاں پانی کی شدید قلت رہتی تھی، کبھی کبھار ٹینکر بھجوا کر اچھا کیا۔ اس قصے کی تفصیل پھر کبھی سہی۔ یہاں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ جو بدعنوان سیاست دان پروٹوکول میں ڈوبے رہتے ہیں، عوام سے دور رہنے کے لیے مسلح محافظوں، پولیس اور قافلوں کے حصار میں گھومتے ہیں اور سڑکیں بند کراتے ہیں، انہیں نور خان اور عتیق الرحمن جیسے لوگوں کو غاصب یا آمر کہنے کا کوئی حق نہیں۔ عوامی یادداشت کمزور سہی، مگر ان مردانِ حق کا اصل سرمایہ ایک کفایت شعار اور عوام دوست طرزِ حکومت تھا۔ فیصلہ تاریخ پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فلک کی وسعتوں میں بھی ایک خاموشی چھا گئی ہو، کہ ایک غیر معمولی شہابِ ثاقب اپنی پوری تابانی کے ساتھ اپنے ابدی مقام کی طرف لوٹ رہا ہو۔ ایئر مارشل نور خان میرے لیے صرف ایک رہنما نہیں تھے بلکہ میرے مربی تھے۔ ایسا قائد جس کا جسم و جاں فولاد میں ڈھلے ہوئے تھے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جرات اور یقین کے ساتھ پوری زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کے دوسرے سربراہِ فضائیہ ضرور تھے، مگر مقام میں کسی سے دوسرے نہ تھے۔ ان کے نزدیک بہترین کارکردگی کوئی انتخاب نہیں بلکہ فطرت تھی، ایک جبلّت جو ہر فیصلے اور ہر اقدام میں جھلکتی تھی۔ نظم و ضبط ان کے لیے رسمی لفظ نہیں تھا بلکہ عملی اخلاقیات کا نام تھا۔ وہ خود کو قوم کے وسائل کا امین سمجھتے تھے، اس لیے پروٹوکول، آسائش اور نمائش سے دور رہتے۔ ان کے مزاج میں ایک عجیب سی سادگی تھی جس میں وقار بھی تھا اور بے نیازی بھی۔ طاقت ان کے لیے رعب جمانے کا ہتھیار نہیں بلکہ ذمہ داری کا بوجھ تھی۔ اسی لیے جب وہ کسی کو ڈانٹتے بھی تھے تو اس میں تحقیر نہیں بلکہ تربیت کا پہلو غالب رہتا تھا۔
نور خان کی قیادت کی اصل عظمت ان کی انکساری میں چھپی تھی۔ وہ قانون کی پاسداری کو دوسروں پر نافذ کرنے سے پہلے خود پر لازم سمجھتے تھے۔ سرخ بتی پر گاڑی رکوانے کا واقعہ محض ایک نظم و ضبط کا مظاہرہ نہیں بلکہ اس سوچ کی علامت تھا کہ حکمران قانون سے بالاتر نہیں ہوتے۔ اسی طرح سرکاری وسائل کے استعمال میں ان کی کفایت شعاری ایک مثال تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ قوموں کی تعمیر بڑے بڑے دعوؤں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے درست فیصلوں سے ہوتی ہے۔ وہ جہاں جاتے، وہاں کے مسائل کو آنکھوں سے دیکھتے، لوگوں سے براہِ راست بات کرتے اور پھر خاموشی سے عملی اقدامات کر دیتے۔ ان کے نزدیک عوامی خدمت کوئی نعرہ نہیں تھی بلکہ روزمرہ کا معمول تھی۔ شاید اسی لیے لوگ آج بھی انہیں صرف ایک فوجی افسر نہیں بلکہ ایک اعلیٰ ظرف انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ایسا انسان جو اقتدار میں رہ کر بھی عاجزی نہ بھولا اور قوت پا کر بھی انصاف سے نہ ہٹا۔
آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ نور خان جیسے لوگ تاریخ کے عام کردار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے دور سے آگے دیکھنے والے لوگ ہوتے ہیں، جو قوموں کو صرف حکم نہیں دیتے بلکہ راستہ دکھاتے ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل قیادت میں جلال کم اور جمال زیادہ ہوتا ہے، شور کم اور اثر زیادہ۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ وقار قافلوں سے نہیں کردار سے جنم لیتا ہے اور عظمت خطابات سے نہیں خدمت سے بنتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، نام مٹ جاتے ہیں، مگر کچھ چراغ ایسے ہوتے ہیں جو دلوں میں روشن رہتے ہیں۔ ایئر مارشل نور خان بھی انہی چراغوں میں سے ایک تھے۔ فولاد کا آدمی، مگر دل میں انسانیت کی حرارت لیے ہوئے۔
کچھ لوگ تاریخ میں اس لیے زندہ نہیں رہتے کہ وہ طاقتور تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ طاقت کو امانت سمجھتے تھے۔ ایئر مارشل نور خان انہی نادر انسانوں میں سے تھے جن کی قیادت شور سے نہیں، سکوت سے بولتی تھی اور جن کی عظمت کا چرچا ان کے بعد بھی دلوں میں ہوتا ہے۔
وہ جس کے نام سے حوصلے جاگ اٹھے
اندھیری رات میں دیے سے جل اٹھے
نہ زر کی ہوس تھی، نہ تخت کی طلب
وہ جس طرف بھی چلا، راستے سنور اٹھے
قانون کو پہلے خود پہ لاگو کیا
تبھی تو اس کے فیصلے امر ٹھہر اٹھے
نہ نعروں کی گونج، نہ دعوؤں کا ہجوم
بس اس کا کردار تھا، سب سر اٹھے
نور خان! تو صرف ایک نام نہیں
تری سیرت سے کئی زمانے نکھر اٹھے

