Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Nanha Magar Naqabil e Shikast: Suryavanshi Ka Din

Nanha Magar Naqabil e Shikast: Suryavanshi Ka Din

ننھا مگر ناقابلِ شکست: سوریہ ونشی کا دن

کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب کرکٹ محض کھیل نہیں رہتی، وہ کسی عہد کی خبر بن جاتی ہے۔ ہرارے اسپورٹس کلب کی اس پچ پر بھی ایک ایسا ہی دن رقم ہوا، جب چودہ برس کا ایک لڑکا، جس کے چہرے پر اب بھی بچپن کی معصومیت باقی ہے، دنیا کی سب سے بڑی انڈر نائنٹین اسٹیج پر آ کر یوں کھڑا ہوا جیسے وقت اس کے ہاتھ میں ہو۔ ویبھو سوریہ ونشی کوئی اچانک نمودار ہونے والا نام نہیں تھا، مگر اس ورلڈ کپ فائنل سے پہلے وہ کیمروں، وائرل کلپس اور سوشل میڈیا کے شور سے ذرا دور رہا۔ اس کے اسکور، 72، 40، 52، 30، 68 اہم ضرور تھے مگر سرخی نہیں بنے۔ مگر فائنل کا دن سرخیوں کے لیے ہی ہوتا ہے اور اس دن سوریہ ونشی نے نہ صرف انگلینڈ کو، بلکہ پوری کرکٹ دنیا کو زمین پر لا پٹخا۔ یہ محض رنز کی کہانی نہیں تھی، یہ انداز، بدن کی زبان اور ایک ایسے اعتماد کا مظہر تھی جو عموماً عمر کے ساتھ آتا ہے، پیدائش کے ساتھ نہیں۔

جب وہ بھارت کے لیے اننگز کا آغاز کرنے میدان میں اترا تو اس کے قد سے زیادہ اس کا بیٹ نمایاں تھا، ہیلمٹ اس کے چہرے پر کچھ زیادہ ہی بڑا لگ رہا تھا اور سر بالکل ساکت۔ بیٹ اونچا اٹھا ہوا، بالکل ویسے جیسے اس کے پسندیدہ بلے باز برائن لارا کا ہوتا تھا۔ گیند پھینکے جانے سے پہلے بیٹ کی ہلکی سی جنبش، جیسے کوئی باکسر اپنے قدم جما رہا ہو۔ ڈین جونز نے کبھی لکھا تھا کہ بیٹسمین کا اسٹانس کوئی معنی نہیں رکھتا، اصل چیز وہ لمحہ ہے جب گیند ریلیز ہو اور بلے باز باکسر کی پوزیشن میں ہو۔ سوریہ ونشی اسی لمحے کا بیٹسمین ہے۔ ابتدا میں اس نے تحمل دکھایا، پہلی سترہ گیندوں پر محض پندرہ رنز، کچھ شاٹس کھیلے، کچھ مس ہوئے، جیسے وہ پچ، رفتار اور دن کا مزاج پڑھ رہا ہو۔ پھر الیکس گرین آیا، بیک آف لینتھ، ذرا سی چوڑائی اور بس وہی لمحہ کافی تھا۔ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے، اوپری دھڑ پیچھے کو جھکا، بیٹ کا رخ کھلا اور گیند ڈیپ تھرڈ کے اوپر سے پار۔ یہ محض چھکا نہیں تھا، یہ جسمانی ہم آہنگی کا مظاہرہ تھا۔

انگلینڈ نے فوراً حکمتِ عملی بدلی۔ اگر چوڑائی خطرناک ہے تو تنگی آزمائی جائے۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر جیمز منٹو نے گیند کو اندر کی طرف اینگل کیا، ایسی گیند جو زیادہ تر بیٹسمینوں کو جکڑ لیتی ہے۔ مگر سوریہ ونشی نے خود کو اس طرح موڑا کہ دونوں پاؤں سیدھے بولر کی طرف ہو گئے، کولہے اور کندھے کھل گئے اور وہ شاٹ جو اصولاً ممکن ہی نہیں لگتا، وائیڈ لانگ آن کے اوپر سے تماشائیوں میں جا گرا۔ یہ وہ شاٹس ہوتے ہیں جن کے ساتھ انتباہ ہونا چاہیے، سر لڑھک سکتا ہے، قدم الجھ سکتے ہیں، مگر یہ خطرہ دیکھنے والے کے لیے تھا، کھیلنے والے کے لیے نہیں۔ اسپن ہو یا پیس، زیادہ تر گیندیں اسی انجام کو پہنچیں۔ بتیس گیندوں پر پچاس مکمل ہوا اور پھر انگلینڈ نے آخری حربہ آزمایا: شارٹ بال۔ فلیٹ پچ پر شارٹ گیند شاذ و نادر ہی فائدہ دیتی ہے، مگر کوشش تو کی جا سکتی ہے۔

مینی لمزڈن کی گیند واقعی اچھی تھی۔ آف اسٹمپ کے آس پاس، سینے کی اونچائی پر اٹھتی ہوئی۔ پل شاٹ خطرناک، جھکنے کی گنجائش نہیں۔ سوریہ ونشی نے اچھل کر اپنے پورے جسم کو چند انچ لیگ سائیڈ پر منتقل کیا، گیند کو آنکھوں کے عین نیچے لایا، بیٹ کا رخ کھولا اور اتنی دیر سے کھیلا کہ گیند بیک ورڈ پوائنٹ اور شارٹ تھرڈ کے درمیان سے نکل گئی۔ چار رنز۔ اس کے بعد سب کچھ تیز دھند میں بدل گیا۔ پچپن گیندوں پر سنچری، پھر رالفی البرٹ کے ایک اوور میں ستائیس، سباسچین مورگن کے ایک اوور میں بیس۔ اسکور بورڈ پر نمبر محض ہندسے نہیں رہے، وہ ایک کیفیت بن گئے۔ سولہ گیندوں میں سو سے ایک سو اکاون، پھر اگلی آٹھ گیندوں میں چوبیس رنز۔ چوبیس گیندوں میں چودہ بار باؤنڈری۔ ہر بار بولر دوڑ کر آتا اور دو تہائی امکان یہی ہوتا کہ گیند رسّیوں کے پار جائے گی۔ بائیس گز کا فاصلہ تھا، مگر منظر کسی قدیم، بنیادی تصادم جیسا تھا۔ ایک مکے کھاتا ہوا بولر، توازن کھوتا ہوا اور باہر بیٹھا ناظر بھی اسی چکر میں مبتلا۔

جب آخرکار ایک معمولی سی گلوز کی چھوت پر وہ آؤٹ ہوا تو اس کے نام 175 رنز درج تھے، 80 گیندوں پر۔ کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ فائنل میں سب سے بڑا انفرادی اسکور۔ پندرہ چھکے، یوتھ ون ڈے کی تاریخ میں سب سے زیادہ۔ ڈیڑھ سو رنز محض باؤنڈریز سے۔ ریکارڈز کی ایک لمبی فہرست، جو سرخیوں پر چھا جائے گی۔ مگر جس نے اسے دیکھا، اس کے لیے اعداد و شمار ثانوی تھے۔ جیسے 2013 میں کرس گیل کے 175 تھے۔ ایسا لگتا تھا وہ کھیل کا مستقبل کھیل رہا ہے، باقی سب حال میں اٹکے ہوئے ہیں۔ سوریہ ونشی بھی اسی طرح اپنے ہم عمر کھلاڑیوں سے کئی قدم آگے دکھائی دیا، حالانکہ وہ سب سے کم عمر تھا۔ یہ حقیقت تب یاد آتی ہے جب وہ ہیلمٹ اتار کر واپس جاتا ہے اور چہرے پر پھر وہی بچپن ابھر آتا ہے۔ ایک ننھا مگر ناقابلِ شکست باکسر، جو پوری دنیا کو رنگ میں آنے کی دعوت دے رہا ہو۔

کچھ اننگز میچ جتاتی ہیں، کچھ ریکارڈ توڑتی ہیں اور کچھ تاریخ کو اپنا نام یاد رکھنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ سوریہ ونشی کی یہ اننگز تیسری قسم کی تھی۔

یہ بچہ وقت کے کندھوں پہ سوار آیا ہے
کوئی بتائے، یہ کس خواب سے بیدار آیا ہے

ہنوز چہرے پہ معصومیت کا پہرہ ہے
مگر یہ ہاتھ میں طوفان بے شمار آیا ہے

جو گیند تھی وہ محض گیند نہ رہ سکی اس دن
وہی تو تھی جسے قسمت کا وار آیا ہے

عمر نے جس کو ابھی کھیلنا سکھایا تھا
وہی تو کھیل کے معنی سمجھا گیا ہے

Check Also

Brain Drain Ya Brain Gain?

By Atiq Chaudhary