Thursday, 02 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kuch Tareekhi Kirdar: Maxim Gorky

Kuch Tareekhi Kirdar: Maxim Gorky

کچھ تاریخی کردار: میکسم گورکی

ادب کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو محض مصنف نہیں رہتے بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک زندہ تحریک بن جاتے ہیں۔ میکسم گورکی بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے قلم سے نہ صرف کہانیاں لکھیں بلکہ ایک پورے معاشرے کے دکھ، کرب اور امیدوں کو لفظوں کا لباس پہنایا۔ ان کا اصل نام الیکسی میکسمووچ پیشکوف تھا، مگر دنیا انہیں گورکی کے نام سے جانتی ہے، جس کے معنی ہیں "تلخ"۔ یہ نام محض ایک ادبی تخلص نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی اور تخلیقی سفر کا خلاصہ ہے۔ غربت، یتیمی، بے بسی اور معاشرتی ناانصافی نے ان کے اندر ایک ایسا شعور پیدا کیا جس نے انہیں عام ادیبوں سے الگ کر دیا۔ وہ زندگی کو دور سے دیکھنے والے نہیں تھے، بلکہ اس کے کٹھن راستوں پر ننگے پاؤں چلنے والے مسافر تھے۔

گورکی کی زندگی کا آغاز ہی آزمائشوں سے ہوا۔ بچپن میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور پھر ماں بھی زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکیں۔ یوں وہ کم عمری میں ہی دنیا کی سختیوں سے آشنا ہو گئے۔ انہوں نے نان بائی کی دکان سے لے کر جہازوں پر مزدوری تک، ہر طرح کے کام کیے۔ یہ وہی تجربات تھے جنہوں نے ان کے اندر ایک ایسا مشاہدہ پیدا کیا جو بعد میں ان کی تحریروں میں جابجا نظر آتا ہے۔ ان کا مشہور ناول "ماں " دراصل اسی سماجی شعور کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے، جہاں ایک عام عورت انقلابی جدوجہد کی علامت بن جاتی ہے۔ گورکی کے ہاں کردار محض کہانی کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ وہ جیتے جاگتے انسان ہوتے ہیں، جن کی سانسیں، جن کے خواب اور جن کے دکھ قاری کو اپنے اندر کھینچ لیتے ہیں۔

روس کے انقلابی حالات نے گورکی کی شخصیت کو مزید جلا بخشی۔ وہ صرف ایک ادیب نہیں رہے بلکہ ایک سماجی کارکن اور انقلابی بھی بن گئے۔ ان کے تعلقات ولادیمیر لینن جیسے رہنماؤں سے رہے اور انہوں نے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کی تحریروں میں مزدور طبقے کی زندگی، ان کے مسائل اور ان کے خواب ایک خاص شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کا وسیلہ بننا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں ایک مقصد کے تحت لکھی گئی محسوس ہوتی ہیں، جن میں شعور، بیداری اور تبدیلی کا پیغام نمایاں ہے۔

گورکی کا اسلوب سادہ مگر پراثر ہے۔ وہ مشکل الفاظ اور پیچیدہ جملوں کے بجائے سیدھی سادی زبان میں گہری بات کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں زندگی کی تلخیوں کے باوجود ایک عجیب سی امید بھی جھلکتی ہے۔ وہ انسان کی عظمت پر یقین رکھتے تھے اور یہی یقین ان کی تحریروں میں بار بار ظاہر ہوتا ہے۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ انسان چاہے کتنی ہی مشکلات کا شکار ہو، اس کے اندر ایک ایسی قوت موجود ہے جو اسے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ان کے کردار اکثر ٹوٹے ہوئے، پسے ہوئے اور تھکے ہوئے لوگ ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر ایک چنگاری ضرور ہوتی ہے جو انہیں جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گورکی کی شہرت دنیا بھر میں پھیل گئی اور وہ روسی ادب کے نمایاں ترین ستونوں میں شمار ہونے لگے۔ ان کی خود نوشت سوانح "بچپن"، "جوانی" اور "میری یونیورسٹیاں " نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کا احوال ہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی تصویر بھی پیش کرتی ہیں۔ ان کتابوں میں ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جو ہر مشکل کے باوجود علم، شعور اور خود آگہی کی طرف بڑھتا ہے۔ گورکی نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، انسان اگر ہمت نہ ہارے تو وہ اپنے لیے ایک نئی راہ بنا سکتا ہے۔

آج جب ہم گورکی کو پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے زمانے کے ادیب نہیں تھے بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک رہنما ہیں۔ ان کی تحریریں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ دکھ اور محرومی کے باوجود زندگی سے محبت کیسے کی جائے اور ناانصافی کے خلاف آواز کیسے اٹھائی جائے۔ وہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ادب محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے، جسے ایمانداری سے ادا کرنا چاہیے۔ میکسم گورکی کا نام آج بھی اسی لیے زندہ ہے کہ انہوں نے اپنے قلم کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا اور یہی وہ چیز ہے جو کسی بھی ادیب کو ہمیشہ کے لیے امر بنا دیتی ہے۔

Check Also

Rangers Ki Shahadat, Afridi Ki Rehlat Aur Dil Kharash Qatal

By Abdul Hannan Raja