Kuch Tareekhi Kirdar: Dostoevsky
کچھ تاریخی کردار: دستوئیفسکی

جب انتون چیخوف یہ کہتے ہیں کہ "جب میں دستوئیفسکی کو پڑھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے میں خدا کے ساتھ بات کر رہا ہوں"، تو یہ محض ایک ادبی تعریف نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی اعتراف ہے فیودور دوستوئیفسکی کا فن محض کہانی سنانا نہیں، بلکہ انسان کے اندر اتر کر اس کے وجود کے ان گوشوں کو روشن کرنا ہے جہاں عام نظر نہیں پہنچتی۔ وہ قاری کو صرف واقعات نہیں دیتے، بلکہ اسے اس کے اپنے باطن کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوستوئیفسکی کا مطالعہ ایک ادبی تجربہ نہیں بلکہ ایک وجودی مکالمہ بن جاتا ہے، انسان اور خدا کے درمیان، گناہ اور نجات کے درمیان، شک اور یقین کے درمیان۔
میکسم گورکی نے دوستوئیفسکی کی تصویر کشی کو ولیم شیکسپیئر کے برابر قرار دیا اور یہ بات بلا مبالغہ محسوس ہوتی ہے۔ دوستوئیفسکی کے کردار محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ زندہ، سانس لیتے ہوئے، تضادات سے بھرپور انسان ہوتے ہیں کرامازوف برادران کے دمتری، ایوان اور الیوشا تین مختلف فلسفوں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر جو کشمکش ہے وہ ایک ہی انسانی روح کی مختلف پرتیں ہیں۔ دوستوئیفسکی کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کو جج نہیں کرتا، بلکہ انہیں پوری آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنی سچائی خود بیان کریں، چاہے وہ سچائی کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
فریڈرک نطشے کا یہ کہنا کہ "دستوئیفسکی واحد ماہرِ نفسیات ہے جس سے میں کچھ سیکھتا ہوں"، دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ دوستوئیفسکی نے انسانی نفسیات کو اس گہرائی سے سمجھا جس تک فلسفہ بھی کم ہی پہنچ سکا۔ اس کے کردار صرف اچھے یا برے نہیں ہوتے بلکہ وہ بیک وقت دونوں ہوتے ہیں۔ وہ جرم کرتے ہیں مگر پچھتاوے سے بھی بھر جاتے ہیں، وہ خدا سے انکار کرتے ہیں مگر اسی کی تلاش میں بھی رہتے ہیں۔ یہی پیچیدگی دوستوئیفسکی کو جدید نفسیات کا پیش رو بناتی ہے البرٹ آئن سٹائن جیسے سائنسدان کا یہ کہنا کہ "دستوئیفسکی نے مجھے وہ کچھ دیا جو کسی سائنسدان سے نہیں ملا"، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ سائنس کائنات کو سمجھ سکتی ہے، مگر انسان کے اندر کے خلا کو نہیں بھر سکتی، وہ خلا جو دوستوئیفسکی اپنے الفاظ سے بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ماریو پوزو کا یہ اعتراف کہ اگر انہوں نے کرامازوف برادران نہ پڑھی ہوتی تو وہ کبھی ادیب نہ بنتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ دوستوئیفسکی محض ایک لکھاری نہیں بلکہ لکھنے والوں کا استاد ہے۔ اس کی تحریر میں جو شدت، سچائی اور بے رحمی ہے، وہ ہر سنجیدہ قاری کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔
ارنسٹ ہیمنگوے نے کہا کہ دوستوئیفسکی کو سائبیریا بھیجے جانے نے انہیں تراشا اور واقعی، اس جلاوطنی نے انہیں وہ آنکھ عطا کی جس سے وہ انسانی دکھ کو نہ صرف دیکھ سکے بلکہ اسے بیان بھی کر سکے۔ دوستوئیفسکی کا فن اس بھٹی میں پکا جس میں ناانصافی، اذیت اور تنہائی کی آگ جلتی ہے۔
سفید راتیں دوستوئیفسکی کی ان تخلیقات میں سے ہے جہاں اس کا نرم، حساس اور رومانوی پہلو سامنے آتا ہے۔ یہ کہانیاں ثابت کرتی ہیں کہ دوستوئیفسکی صرف تاریکی کا مصنف نہیں بلکہ روشنی کا بھی ہے۔ وہ صرف جرم اور سزا کی بات نہیں کرتا بلکہ امید، محبت اور خوابوں کی بھی تصویر کشی کرتا ہے۔ یہی تضاد اس کے فن کو مکمل بناتا ہے۔ وہ ہمیں دکھاتا ہے کہ انسان صرف اپنے زخموں کا مجموعہ نہیں بلکہ اپنے خوابوں کا بھی امین ہے۔
آخرکار دوستوئیفسکی کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ ہمیں ہمارے اپنے اندر لے جاتا ہے۔ اس کی تحریر ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے سوالات کا سامنا کریں، ہم کون ہیں؟ ہم کیوں ہیں؟ اور ہمارا انجام کیا ہے؟ اس کے کرداروں کی طرح ہم بھی شک اور یقین کے درمیان جھولتے رہتے ہیں اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ ہمیں ہماری اپنی کہانی سنا دیتا ہے۔ دوستوئیفسکی کو پڑھنا دراصل خود کو پڑھنا ہے اور یہی وہ تجربہ ہے جسے چیخوف نے خدا سے بات کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

