Tuesday, 13 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. John Buchanan Aur Philip Lal

John Buchanan Aur Philip Lal

جان بکانن اور فلپ لال

کوچنگ اور مینٹورشپ کی دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بولتے کم ہیں مگر ان کا اثر گہرا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ بھر کی داد سے زیادہ دیرپا تربیت پر یقین رکھتے ہیں۔ جان بکانن اور فلپ لال اسی قبیل کے لوگ تھے۔ دونوں کا میدان مختلف تھا۔ ایک کرکٹ کا، دوسرا کارپوریٹ اور مینجمنٹ ٹریننگ کا۔ مگر انداز ایک جیسا، خاموش مشاہدہ، گہرا تجزیہ اور بروقت، جامع رہنمائی۔ ان کی کہانیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ حقیقی کوچنگ کا کمال شور میں نہیں، خاموشی میں ہوتا ہے، وقتی حوصلہ افزائی میں نہیں، دیرپا بہتری میں ہوتا ہے۔

سن دو ہزار میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے کوچ جان بکانن تھے، جنہوں نے 1999 کے اواخر میں ذمہ داری سنبھالی اور اس کے بعد ٹیم کو تاریخ کے سنہری دور سے گزارا۔ اس عرصے میں آسٹریلیا نے نہ صرف ورلڈ کپ جیتے بلکہ ایشز سیریز میں بھی فتح حاصل کی اور اس تمام عروج کے دوران اسٹیو وا اس غالب ٹیم کے کپتان رہے۔ جان بکانن کا اندازِ کوچنگ روایتی نہیں تھا۔ وہ نیٹس میں کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے، خاموشی سے نوٹس لیتے، کبھی لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے، مگر میدان یا پریکٹس کے دوران شاذ ہی کوئی ہدایت دیتے۔ نہ تعریف میں جلدی، نہ تنقید میں عجلت۔ بس مشاہدہ، صبر اور گہرا تجزیہ۔ پھر جب دن ختم ہوتا اور سب کھلاڑی ہوٹل واپس آتے تو ہر ایک کو ایک ای میل موصول ہوتی۔ ایسی ای میل جس میں اُس دن میدان اور نیٹس میں ہونے والی ہر اہم بات درج ہوتی۔ کہاں بہتری آئی، کہاں کمی رہ گئی، کس لمحے فیصلہ درست تھا اور کس جگہ مزید محنت درکار ہے۔ یہی وہ طریقہ تھا جس نے دنیا کے بہترین کرکٹ کوچز میں جان بکانن کا نام امر کر دیا۔

اسی طرزِ فکر کی جھلک ہمیں پاکستان کے معروف مینجمنٹ ٹرینر فلپ لال میں بھی دکھائی دیتی ہے، جو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد اور مختلف اداروں کے سی ای اوز کو تربیت دیتے رہے ہیں۔ ایک بڑے ادارے کے سابق سی ای او نے بتایا کہ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے بے شمار تربیتی سیشنز میں شرکت کی، مگر جہاں فلپ لال موجود ہوتے وہاں جانے کو وہ ترجیح دیتے۔ ایک دن انہوں نے فلپ لال سے درخواست کی کہ وہ ان کے اپنے تربیتی سیشن میں آ کر پیچھے بیٹھیں اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ فلپ لال نے خوش دلی سے یہ درخواست قبول کی۔ وہ سیشن کے دوران خاموشی سے پیچھے بیٹھے رہے۔ وقفہ ہوا تو شاگرد نے آگے بڑھ کر کہا، "سر، بس اتنا ہی کافی ہے۔ " فلپ لال نے انہیں گلے لگایا، خوب تعریف کی اور رخصت ہو گئے۔ وہ لمحہ شاگرد کے لیے عروجِ مسرت تھا۔ اپنے ہیرو سے تعریف پا کر ان کا اعتماد آسمان کو چھونے لگا، انہیں لگا کہ اب وہ بھی کچھ بن گئے ہیں۔

مگر اصل کوچنگ کا جادو تب سامنے آیا جب شام کو دو صفحات پر مشتمل ایک ای میل موصول ہوئی۔ اس ای میل میں اس سیشن کے دوران ہونے والی ہر بڑی چھوٹی لغزش، ہر کمی، ہر ایسی بات درج تھی جس پر کام کرنے کی ضرورت تھی۔ وہی فلپ لال جنہوں نے سامنے آ کر تعریف کی تھی، پسِ پردہ پوری دیانت داری سے رہنمائی بھی کر رہے تھے۔ نہ حوصلہ شکنی، نہ خوش فہمی۔ بس حقیقت، تجزیہ اور بہتری کی واضح راہ۔ یہی وہ تربیت تھی جس نے شاگردوں کو معمولی پیشہ وروں سے غیر معمولی لیڈرز میں بدلا۔

ان دونوں کہانیوں میں ایک قدر مشترک ہے: حقیقی مینٹورشپ۔ یہ وہ رہنمائی ہے جو شاگرد کو وقتی سرشاری نہیں دیتی بلکہ مستقل ارتقا کی بنیاد رکھتی ہے۔ جان بکانن نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو اسی فلسفے کے تحت سنوارا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو میدان میں ڈانٹ کر نہیں، بلکہ نجی طور پر، ٹھوس شواہد کے ساتھ آئینہ دکھا کر بہتر بنایا۔ فلپ لال نے بھی اپنے شاگردوں کے اعتماد کو توڑا نہیں بلکہ پہلے سہارا دیا، پھر آئینہ تھمایا۔ اس طرزِ تربیت میں عزت بھی ہے، دیانت بھی اور اثر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے زیرِ تربیت افراد نے بعد میں اپنی اپنی دنیا میں کمال دکھایا۔ چاہے وہ کھیل کا میدان ہو یا کارپوریٹ دنیا کا سخت مقابلہ۔

آج جب ہم کوچنگ اور لیڈرشپ کی بات کرتے ہیں تو اکثر شور، تیز لہجے اور فوری ردِعمل کو کامیابی کی علامت سمجھ لیتے ہیں۔ مگر جان بکانن اور فلپ لال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل قیادت خاموشی میں پنپتی ہے۔ جو کوچ کھلاڑی کو میدان میں سب کے سامنے ڈانٹتا ہے، وہ شاید وقتی اطاعت تو حاصل کر لے، مگر دیرپا اعتماد نہیں اور جو مینٹور تعریف کے ساتھ ساتھ دیانت دارانہ تنقید بھی وقت پر پہنچا دے، وہ شاگرد کو مضبوط بنا دیتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو صرف کامیاب ٹیمیں یا کامیاب افراد نہیں بناتے، بلکہ کامیابی کا ایک کلچر تخلیق کرتے ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ عظیم کوچنگ کا راز کسی ایک تکنیک میں نہیں، بلکہ اس رویّے میں ہے جو شاگرد کو عزت دے کر بہتر بناتا ہے۔ جان بکانن کی ای میلز اور فلپ لال کی دو صفحوں کی فیڈبیک ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رہنمائی اگر خاموش بھی ہو تو گونج دار ہو سکتی ہے، اگر سادہ بھی ہو تو اثر رکھتی ہے اور اگر بروقت ہو تو زندگیوں کا رخ بدل سکتی ہے۔ شاید اسی لیے ایسے مینٹور کم ملتے ہیں، مگر جب مل جائیں تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔

کچھ لوگ زندگی میں استاد نہیں ہوتے، چراغ ہوتے ہیں۔ وہ شور نہیں مچاتے، راستہ روشن کر دیتے ہیں۔ ان کی رہنمائی ہاتھ پکڑ کر نہیں، آئینہ دکھا کر ہوتی ہے۔ تاکہ انسان خود کو دیکھے، سمجھے اور بہتر بنے۔ ایسے ہی لوگوں کی تربیت وقتی داد سے آگے جا کر شخصیت کو سنوار دیتی ہے اور خاموش رہنمائی وقت کے شور سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتی ہے۔

وہ بولتے کم تھے مگر اثر کمال رکھتے تھے
ہر اک نگاہ میں اک مکمل سوال رکھتے تھے

نہ شورِ داد، نہ لمحوں کی سطحی تعریفیں
وہ دل میں اتارتے تھے جو اصل حال رکھتے تھے

ہمیں سکھایا کہ ہمت کہاں سے آتی ہے
وہ خامشی میں بھی پورا مقال رکھتے تھے

جو سامنے ہنساتے تھے، پیچھے سنوارتے تھے
وہ رہنماؤں کے سب سے نرالے حال رکھتے تھے

اسی سکوت نے ہم کو بلند تر کر دیا
وہی تھے جو ہمیں خود سے ہم خیال رکھتے تھے

Check Also

Aglay Janam Mohe Tail Na Deejo

By Wusat Ullah Khan