Faqr Ki Saltanat: Taj o Takht Se Buland Aik Batni Anqilab
فقر کی سلطنت: تاج و تخت سے بلند ایک باطنی انقلاب

فقر، اقبال کے ہاں محض فاقہ کشی یا ظاہری غربت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر باطنی کیفیت، ایک اخلاقی منصب اور ایک روحانی اقتدار ہے جو انسان کو تاج و تخت سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اقبال جب کہتے ہیں کہ فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ تو وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اصل اقتدار زر و جواہر، لشکر و اسلحہ یا شاہی پروٹوکول میں نہیں بلکہ اس باطنی آزادی میں ہے جو انسان کو خوف، لالچ اور غلامی سے نجات دلاتی ہے۔ فقر وہ قوت ہے جو انسان کے اندر ایسی خودی کو بیدار کرتی ہے جو نہ صرف اسے اپنے نفس کا بادشاہ بناتی ہے بلکہ وقت کے فرعونوں کے سامنے بھی کلمۂ حق کہنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں اور افراد نے فقر کی اس روح کو اپنایا، انہوں نے مادی کمزوری کے باوجود فکری اور اخلاقی برتری قائم کی اور یہی وہ معجزہ ہے جسے اقبال فقر کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔
اقبال کا فقر، رہبانیت نہیں، دنیا سے فرار نہیں، بلکہ دنیا میں رہ کر دنیا پر غالب آنے کا نام ہے۔ یہ وہ فقر ہے جو سائل نہیں، سوال گر نہیں، بلکہ صاحبِ غیرت اور خوددار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال فرماتے ہیں فقر ہے میروں کا میر، فقر ہے شاہوں کا شاہ۔ یہاں فقر ایک ایسا تاج بن جاتا ہے جو کسی دربار سے عطا نہیں ہوتا اور ایک ایسی بادشاہی ہے جو کسی تخت کی محتاج نہیں۔ میر و شاہ کی یہ نسبت دراصل اس تضاد کو توڑ دیتی ہے جس کے تحت ہم اقتدار کو صرف ظاہری قوت سے جوڑتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک وہ شخص جو اپنی ذات میں کامل، اپنے ضمیر میں آزاد اور اپنے مقصد میں واضح ہے، وہی حقیقی بادشاہ ہے، چاہے اس کے پاس ایک پیوند زدہ جبہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں وہ حکمران جو دولت اور طاقت کے باوجود خوف اور مفاد کا غلام ہو، دراصل مفلس اور محتاج ہے۔
فقر کی اس تعبیر میں سب سے اہم عنصر خودی ہے۔ اقبال کی خودی، فقر کے بغیر نامکمل ہے اور فقر، خودی کے بغیر کھوکھلا۔ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو وہ دنیا کی چکاچوند سے مرعوب نہیں ہوتا اور یہی وہ مقام ہے جہاں فقر جنم لیتا ہے۔ یہ فقر انسان کو نہ تو سست بناتا ہے اور نہ ہی بے عمل، بلکہ اسے جری، متحرک اور مقصد سے وابستہ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کا فقر، سپاہ بھی رکھتا ہے، مگر یہ سپاہ تلواروں سے نہیں بلکہ کردار، علم اور یقین سے لیس ہوتی ہے۔ یہ وہ سپاہ ہے جو ظلم کے ایوانوں کو ہلا دیتی ہے اور باطل کے قلعوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے، بغیر اس کے کہ خونریزی کو اپنا شعار بنائے۔
اگر ہم تاریخ اسلام پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں فقر کی یہ عملی تصویر واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ، خلفائے راشدین کا طرزِ حکومت اور اولیائے کرام کا کردار، اس فقر کی زندہ مثالیں ہیں جس میں اقتدار خدمت بن جاتا ہے اور طاقت امانت۔ یہی وہ فقر ہے جس نے چند مٹھی بھر افراد کو ایک عالمی تہذیب کا معمار بنا دیا۔ اقبال اسی روایت کو جدید انسان کے سامنے ایک چیلنج کے طور پر رکھتے ہیں کہ کیا تم اس فقر کو اختیار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہو، یا تم محض تاج و تخت کی چمک میں کھو کر اپنی روح کا سودا کر بیٹھو گے؟
آج کے عہد میں، جہاں سرمایہ داری، صارفیت اور طاقت کی سیاست نے انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے، فقر کی اقبالی تعبیر پہلے سے کہیں زیادہ معنویت اختیار کر چکی ہے۔ یہ فقر ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل دولت کردار ہے، اصل طاقت سچائی ہے اور اصل بادشاہی خدمتِ خلق ہے۔ اگر فرد اس فقر کو اپنا لے تو وہ ذاتی سطح پر آزاد ہو جاتا ہے اور اگر قوم اس فقر کو اجتماعی شعور بنا لے تو کوئی طاقت اسے محکوم نہیں بنا سکتی۔ اقبال کا پیغام دراصل ایک دعوتِ فکر ہے: تاج و سریر کی خواہش چھوڑ کر فقر کی سلطنت کو اختیار کرو، کیونکہ یہی وہ سلطنت ہے جو دلوں پر حکومت کرتی ہے اور صدیوں تک قائم رہتی ہے۔
آخرکار، فقر ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ اپنے نفس کے خلاف، اپنی کمزوریوں کے خلاف اور اس نظام کے خلاف جو انسان کو محض ایک صارف یا ایک مہرہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب فقر بیدار ہو جائے تو میر بھی اس کے سامنے جھک جاتا ہے اور شاہ بھی اس کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔ یہی فقر انسان کو انسان بناتا ہے اور یہی وہ معجزہ ہے جو تاج، تخت اور سپاہ سب پر بھاری ہے۔
فقر کوئی ماضی کی داستان یا صوفیانہ خواب نہیں، یہ آج کے شور زدہ عہد میں بھی زندہ اور متحرک سچ ہے۔ جب انسان اپنی اصل پہچان کو پا لیتا ہے اور دل کی سلطنت میں حرص و خوف کو دخل نہیں دیتا، تب فقر جنم لیتا ہے۔ یہی فقر فرد کو باوقار بناتا ہے اور قوموں کو اندرونی استحکام عطا کرتا ہے۔ اس تحریر کا حاصل یہی ہے کہ تاج و تخت وقتی ہیں، مگر فقر کی بادشاہی دیرپا اور باوقار ہے۔
نہ زر کی چاہ باقی ہے، نہ تخت و تاج کی خواہش
فقر نے بخش دی ہم کو خودی کی لاج کی خواہش
جو سر جھکائے حق پر وہی ہے اصل میں حاکم
نہ دربار کی حاجت، نہ کسی راج کی خواہش
سپاہِ دل ہے کافی، اگر یقین ہو ساتھ
ہمیں نہیں رہی اب تیر و تلوار کی خواہش
فقیر وہ ہے جو دل میں امیر ہو جائے
اسی مقام پہ مرتی ہے ہر سماج کی خواہش

