Falsafa, Tafheem, Nazriyat Aur Falsafi: Insani Shaoor Ki Char Manazil
فلسفہ، تفہیم، نظریات اور فلسفی: انسانی شعور کی چار منازل

فلسفہ دراصل سوال کرنے کی جرأت کا نام ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کائنات کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یونانی مفکر سقراط نے کہا تھا کہ "غیر پرکھا ہوا علم، علم نہیں ہوتا" اور اسی ایک جملے میں فلسفے کی پوری روح سمٹ آتی ہے۔ فلسفہ محض خیالات کی مشق نہیں بلکہ حقیقت کے پیچھے چھپے ہوئے معنی کی تلاش ہے۔ اسی تلاش سے تفہیم جنم لیتی ہے، وہ صلاحیت جس کے ذریعے انسان محض معلومات کو جمع نہیں کرتا بلکہ ان کے باہمی ربط کو سمجھتا ہے۔ جہاں فلسفہ سوال اٹھاتا ہے، وہاں تفہیم ان سوالوں کو دل و دماغ میں جگہ دیتی ہے۔ پھر انہی سوالوں اور انہی سمجھ بوجھ سے نظریات وجود میں آتے ہیں، یعنی وہ فکری سانچے جن کے ذریعے ہم دنیا کو دیکھتے، پرکھتے اور اس پر ردِعمل دیتے ہیں اور ان سب کے درمیان فلسفی کھڑا ہوتا ہے: وہ شخص جو سوال سے ڈرتا نہیں، شک سے گھبراتا نہیں اور سچ کی تلاش میں تنہائی سے بھی خوفزدہ نہیں ہوتا۔
اگر ہم انسانی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر بڑی تہذیبی تبدیلی کے پیچھے کسی نہ کسی فلسفیانہ سوال کی گونج سنائی دیتی ہے۔ افلاطون کا "عدل کیا ہے؟" ہو یا ارسطو کا "خوشی کی حقیقت کیا ہے؟"، کانٹ کا "ہم کیا جان سکتے ہیں؟" ہو یا اقبال کا "خودی کیا ہے؟"، یہ سب سوال محض علمی مشق نہیں تھے بلکہ انسانی فکر کی سمت متعین کرنے والے سنگِ میل تھے۔ فلسفہ یہاں محض نظری بحث نہیں رہا، بلکہ عملی زندگی میں اتر آیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تفہیم کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ فلسفہ اگر سمجھ میں نہ آئے تو وہ محض پیچیدہ اصطلاحات کا جنگل بن جاتا ہے اور اگر تفہیم پیدا ہو جائے تو وہی فلسفہ انسان کی اخلاقیات، سیاست، تعلیم اور معاشرت سب کو بدل دیتا ہے۔ مسئلہ ہمارے عہد کا یہ ہے کہ ہم نظریات تو اپناتے ہیں، مگر ان کی فکری جڑوں کو سمجھنے کی زحمت کم ہی کرتے ہیں۔ ہم کسی ازم، کسی مکتبِ فکر یا کسی نعروں کی دنیا میں داخل تو ہو جاتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ ان کے پیچھے کون سا فلسفہ کام کر رہا ہے اور وہ فلسفہ ہمیں کس سمت لے جا رہا ہے۔
نظریات دراصل فلسفے کی عملی صورت ہوتے ہیں۔ فلسفہ سوال پیدا کرتا ہے، نظریہ جواب کی ایک شکل پیش کرتا ہے۔ مگر ہر نظریہ سچ نہیں ہوتا اور ہر جواب درست نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں نظریات نے کبھی انسانیت کو آزادی دی اور کبھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ سرمایہ داری، اشتراکیت، قوم پرستی، لبرل ازم، مذہبی فکر، یہ سب نظریات فلسفیانہ سوالوں سے جنم لیتے ہیں، مگر پھر سیاست اور طاقت کے ہاتھوں میں آ کر اپنی اصل روح سے دور بھی ہو سکتے ہیں۔ یہاں فلسفی کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ اصل فلسفی وہ نہیں جو محض کتابوں میں الجھا رہے، بلکہ وہ ہے جو نظریات کے پیچھے چھپے مفادات کو بے نقاب کرے، جو یہ پوچھے کہ یہ فکر کس کے فائدے کے لیے ہے اور کس کی قیمت پر؟ سقراط کو زہر کا پیالہ اسی لیے پینا پڑا کہ اس نے ایتھنز کے نوجوانوں کو سوال کرنا سکھایا تھا۔ منصور حلاج کو سولی اسی لیے ملی کہ اس نے رائج تصورات سے آگے جا کر حقیقت کی بات کی تھی۔ فلسفی کی تاریخ دراصل قربانیوں کی تاریخ ہے، کیونکہ سوال کرنے والا ہمیشہ طاقتوروں کو ناگوار گزرتا ہے۔
ہمارے دور کا المیہ یہ ہے کہ ہم فلسفہ کو محض نصابی مضمون سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہم اسے امتحان میں پاس ہونے کے لیے پڑھتے ہیں، زندگی میں برتنے کے لیے نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ڈگری یافتہ لوگ تو بہت ہیں، مگر فکری طور پر بالغ افراد کم ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر نظریات کی جنگ لڑتے ہیں، مگر ان نظریات کے فلسفیانہ پس منظر سے ناواقف رہتے ہیں۔ ہم الفاظ کے تیر برساتے ہیں، مگر معنی کی تلاش نہیں کرتے۔ تفہیم کی کمی ہمیں انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیتی ہے، جہاں ہر شخص خود کو حق پر اور دوسرے کو باطل سمجھنے لگتا ہے۔ اگر فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر سوال کے کئی زاویے ہو سکتے ہیں، تو تفہیم ہمیں یہ سلیقہ دیتی ہے کہ ہم ان زاویوں کو برداشت کر سکیں۔ یہی برداشت تہذیب کی بنیاد ہے۔ جہاں برداشت ختم ہوتی ہے، وہاں مکالمہ مر جاتا ہے اور جہاں مکالمہ مر جائے وہاں تشدد جنم لیتا ہے، چاہے وہ زبان کا ہو یا ہاتھ کا۔
فلسفی دراصل معاشرے کا ضمیر ہوتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت عارضی ہے، مگر سچ دیرپا۔ وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نظریات کو مقدس بنانے سے پہلے انہیں انسانی بھلائی کے ترازو میں تولنا چاہیے۔ فلسفی ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ تفہیم محض ذہنی عمل نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری ہے، یعنی یہ جاننے کی کوشش کہ میرا خیال دوسرے انسان پر کیا اثر ڈالے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے فلسفی ہمیشہ اخلاقیات کے میدان میں بھی بڑے نظر آتے ہیں۔ کنفیوشس نے سیاست کو اخلاق سے جوڑا، افلاطون نے حکمران کے لیے دانش کو شرط بنایا، اقبال نے خودی کو ذمہ داری کے ساتھ باندھا۔ یہ سب ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ نظریات اگر اخلاق سے خالی ہوں تو وہ ہتھیار بن جاتے ہیں اور اگر اخلاق سے جڑ جائیں تو رہنمائی کا چراغ۔
آخر میں سوال پھر وہی رہ جاتا ہے: فلسفہ، تفہیم، نظریات اور فلسفی، یہ سب ہمارے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ شاید جواب یہ ہے کہ یہ چاروں مل کر ہمیں انسان بناتے ہیں۔ فلسفہ ہمیں سوچنے کا حوصلہ دیتا ہے، تفہیم ہمیں سمجھنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، نظریات ہمیں عمل کی سمت دیتے ہیں اور فلسفی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر سمت کا احتساب بھی ضروری ہے۔ اگر ہم نے فلسفے کو زندہ رکھا، تفہیم کو عام کیا، نظریات کو انسانیت کے تابع کیا اور فلسفی کے سوال کو برداشت کرنا سیکھ لیا، تو ہم صرف ایک پڑھا لکھا معاشرہ نہیں بلکہ ایک دانا معاشرہ بن جائیں گے اور شاید یہی وہ منزل ہے جس کی طرف انسانی تاریخ صدیوں سے رواں دواں ہے، ایک ایسی دنیا جہاں علم طاقت نہیں، روشنی ہو، نظریہ ہتھیار نہیں، راستہ ہو اور فلسفی مجرم نہیں، ضمیر کی آواز ہو۔
جب فکر لفظ بن جائے اور لفظ ضمیر کو جگا دے تو تحریر محض کالم نہیں رہتی، چراغ بن جاتی ہے۔ فلسفہ اگر سوال ہے تو تفہیم اس کی سانس، نظریہ اگر سمت ہے تو اخلاق اس کی روح اور فلسفی وہ مسافر ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی کا پتا پوچھتا ہے۔ یہ چند سطریں اسی یقین کے ساتھ پیش ہیں کہ اگر ہم نے سوال سے دوستی کر لی تو ہمارے آسمان پر ستارے کم نہیں ہوں گے۔
سوال جاگ اٹھا تو سوچ نے پر کھول لیے
اندھیری رات میں ہم نے ستارے ڈھونڈ لیے
نظریہ آیا تو رستوں نے معنی پہنے
فلسفہ بولا تو ہم نے کنارے ڈھونڈ لیے
تفہیم نے دل کو بھی پڑھنے کا ہنر بخشا
ہم نے لفظوں میں چھپے اشارے ڈھونڈ لیے
جہاں سکوت تھا وہاں ضمیر نے صدا دی
ہم نے خاموشیوں میں بھی نعرے ڈھونڈ لیے
یہی کمالِ دانش ہے اے اہلِ نظر
کہ ہم نے فکرکے آسمان پہ تارے ڈھونڈ لیے

