Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Ehd e Qayadat Aur Aaina e Qaum

Ehd e Qayadat Aur Aaina e Qaum

عہدِ قیادت اور آئینۂ قوم

"میں عوام کے لیے پوری طرح وقف ہوں گا اور کبھی انہیں مایوس نہیں کروں گا"۔ یہ جملہ چینی صدر شی جن پنگ نے اپنی قوم سے مخاطب ہو کر کہا تھا۔ یہ محض ایک خوب صورت جملہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی عہد، ایک اخلاقی پیمانہ اور ایک اجتماعی رویّے کی سمت اشارہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ بات کس نے کہی، اصل سوال یہ ہے کہ یہ بات کس طرح کہی گئی اور پھر کس طرح نبھائی گئی۔ چین کی سیاسی تاریخ میں قیادت اور عوام کے درمیان جو رشتہ تشکیل پایا ہے، وہ محض ووٹ اور وعدے کا رشتہ نہیں، بلکہ طویل المدت وژن، ادارہ جاتی تسلسل اور قومی مفاد کی یکسوئی کا رشتہ ہے۔ وہاں صدر ہو یا وزیرِاعظم، پارٹی ہو یا ریاست، بیانیہ ایک ہوتا ہے۔

ملک پہلے، نظام پہلے، عوام کی اجتماعی فلاح پہلے۔ اس کے مقابلے میں ہم پاکستانی خود سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کم ہی کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں قیادت نے کب عوام کے سامنے اسی سطح کا اخلاقی عہد باندھا؟ اور اگر باندھا بھی تو کب اس عہد کو ریاستی عمل میں ڈھالا؟ ہمارے ہاں الفاظ بہت ہیں، مگر ادارہ جاتی حافظہ کمزور ہے، نعرے بلند ہیں، مگر نظمِ عمل منتشر ہے۔ چینی صدر کے ایک جملے میں جو وزن ہے، وہ اس تسلسل سے آتا ہے جو ریاست نے برسوں میں قائم کیا۔ جہاں فیصلے شخصیت سے آگے بڑھ کر پالیسی بنتے ہیں اور پالیسی وقت کے امتحان میں ڈھل کر روایت۔

پاکستانی سیاق میں قیادت کی بات آئے تو منظرنامہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ صدر اور وزیرِاعظم آئینی عہدوں کے امین ضرور ہیں، مگر ہماری سیاست کی تاریخ میں عہدے اکثر طاقت کے مراکز کے درمیان کشمکش کی نذر رہے ہیں۔ کبھی ہم نے صدراتی نظام آزمایا، کبھی پارلیمانی، کبھی عسکری ادوار، کبھی جمہوری وقفے۔ مگر عوام کے لیے مستقل مزاجی کم ہی دیکھنے کو ملی۔ ہمارے حکمرانوں نے بھی بڑے بڑے وعدے کیے، عوامی خدمت کے دعوے کیے، مگر مسئلہ یہ رہا کہ ان دعوؤں کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات کی وہ سنجیدگی نہیں آئی جو قوموں کو بدلتی ہے۔

چین میں جب قیادت غربت کے خاتمے کا اعلان کرتی ہے تو وہ محض تقریر نہیں کرتی، وہ انتظامی ڈھانچے، ڈیٹا، احتساب اور ٹائم لائن کے ساتھ میدان میں اترتی ہے۔ ہمارے یہاں جب یہی اعلان ہوتا ہے تو اکثر یہ اگلے الیکشن تک کا بیانیہ بن جاتا ہے۔ فرق نیت سے زیادہ نظمِ عمل کا ہے، فرق افراد سے زیادہ اداروں کا ہے۔ اگر ہمارے صدر اور وزیرِاعظم واقعی اس عہد کے حامل ہوں کہ "ہم عوام کے لیے پوری طرح وقف ہیں "، تو اس عہد کی پہلی علامت یہ ہونی چاہیے کہ قانون سب پر یکساں ہو، احتساب منتخب اور غیر منتخب سب کے لیے ہو اور پالیسیوں کا تسلسل حکومتوں کی تبدیلی سے متزلزل نہ ہو۔

لیکن یہ تصویر صرف قیادت تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم بطور قوم بھی اپنے ملک کے لیے اسی طرح وابستہ ہیں جس طرح چینی عوام اپنی ریاست کے ساتھ نظر آتے ہیں؟ چین میں اختلاف ہے، مگر نظم بھی ہے، تنقید ہے، مگر نظمِ اجتماعی کے دائرے میں۔ وہاں شہری اپنے حقوق مانگتے ہیں، مگر فرائض سے فرار نہیں چاہتے۔ ہمارے ہاں حقوق کی بات تو زور شور سے ہوتی ہے، مگر فرائض کی باری آئے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ ہم ٹیکس سے بچنے کو ہوشیاری سمجھتے ہیں، قانون توڑنے کو چالاکی اور قطار سے بچ نکلنے کو ذہانت۔ پھر ہم یہی شکایت کرتے ہیں کہ ریاست ہمیں کیا دے رہی ہے؟ ریاست آخر ہے کیا؟ ہم ہی تو ہیں۔ اگر ہم خود قانون کو مذاق بنا دیں تو حکمرانوں سے کیسا انصاف مانگیں؟ چین کی ترقی کے پیچھے صرف قیادت نہیں، عوام کی اجتماعی نظم بھی ہے۔ وقت کی پابندی، قواعد کی پاسداری، قومی اہداف سے ہم آہنگی۔ ہمارے یہاں فرد اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہوا ریاست سے بدظن ہو چکا ہے اور ریاست فرد سے خائف۔ یہ باہمی بداعتمادی وہ زہر ہے جو کسی بھی خوب صورت وعدے کو بے اثر کر دیتا ہے۔

یہ کہنا بھی سچ ہے کہ پاکستان کے حالات چین سے مختلف ہیں۔ ہمارا جغرافیہ، ہماری سیاست، ہمارے معاشی دباؤ، ہماری تاریخ، سب کچھ الگ ہے۔ مگر اصول آفاقی ہوتے ہیں۔ قیادت کا اخلاقی قد، عوام کی اجتماعی ذمہ داری اور اداروں کی مضبوطی، یہ تینوں جہاں بھی یکجا ہو جائیں، ترقی کا راستہ نکل آتا ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہمارے ہاں مسئلہ صرف چہروں کا نہیں، طریقِ کار کا ہے۔ جب تک ہم شخصیات کے گرد سیاست گھماتے رہیں گے، پالیسی کبھی ادارہ نہیں بنے گی۔ جب تک ہم ہر مسئلے کا حل ایک نئے مسیحا میں تلاش کریں گے، نظام کبھی بالغ نہیں ہوگا۔ چین نے یہ فیصلہ کیا کہ فرد سے اوپر نظام ہوگا، ہم نے الٹا یہ روایت ڈالی کہ نظام سے اوپر فرد ہوگا۔ یہی فرق ہمیں آگے بھی دھکیلتا ہے اور پیچھے بھی کھینچتا ہے۔ اگر ہمارے صدر اور وزیرِاعظم واقعی عوام کے لیے وقف ہونا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے دائرۂ اختیار کو مضبوط بنانا ہوگا، پارلیمان کو مرکزِ فیصلہ بنانا ہوگا، بیوروکریسی کو سیاست سے آزاد اور کارکردگی سے وابستہ کرنا ہوگا اور عدل کو محض نعرہ نہیں بلکہ عمل بنانا ہوگا۔

اور پھر ذمہ داری صرف ایوانوں میں نہیں، گلی کوچوں میں بھی ہے۔ ہمیں خود سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم بھی اپنے حصے کا کام کریں گے۔ ہم اپنے ووٹ کو ذاتی فائدے کے بجائے قومی مفاد کے لیے استعمال کریں گے۔ ہم تنقید ضرور کریں گے، مگر کردار کشی نہیں، سوال ضرور اٹھائیں گے، مگر نظام کو آگ لگانے کے بجائے اسے درست کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم یہ مانیں گے کہ ریاست کی کمزوری میں ہمارا بھی حصہ ہے اور اس کی مضبوطی میں بھی ہمارا ہی کردار ہوگا۔ چین کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، نظم سے بنتی ہیں، جذبات سے نہیں، استقامت سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر آج ہم یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ہمارے حکمران شی جن پنگ جیسے اپنے عوام کے لیے وقف ہیں، تو اسی سانس میں ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم خود اپنے ملک کے لیے ویسے ہی وقف ہیں جیسے چینی عوام اپنی ریاست کے لیے؟ شاید اصل تبدیلی اسی سوال کے سچے جواب سے شروع ہو۔

آخر میں بات پھر اسی جملے پر آ ٹھہرتی ہے: "میں عوام کے لیے پوری طرح وقف ہوں گا اور کبھی انہیں مایوس نہیں کروں گا۔ " یہ جملہ اگر ہمارے یہاں کسی صدر یا وزیرِاعظم کی زبان سے نکلے تو ہمیں تالیاں بجانے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے پیچھے کون سا نظام کھڑا ہے، کون سی پالیسی، کون سا احتساب، کون سی مدت اور کون سی قربانی اور اگر ہم بطور قوم یہ جملہ اپنے لیے دہرا لیں، "ہم اپنے ملک کے لیے پوری طرح وقف ہوں گے"، تو شاید تاریخ ہمیں بھی وہ موقع دے دے کہ ہم محض شکایت کرنے والی قوم نہ رہیں، بلکہ حل پیدا کرنے والی قوم بن جائیں۔ چین نے اپنے لیے یہ راستہ چنا، پاکستان کے لیے بھی راستہ موجود ہے، بس شرط یہ ہے کہ قیادت اور عوام ایک دوسرے کو آئینہ دکھانے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں۔

قوموں کی تقدیر صرف معیشت سے نہیں بنتی، کردار سے بنتی ہے اور کردار کی بنیاد وہ وعدہ ہوتا ہے جو قیادت عوام سے کرتی ہے اور وہ عہد جو عوام اپنی ریاست سے باندھتے ہیں۔ جب اقتدار خدمت بن جائے اور اختیار امانت، تو ترقی محض ہدف نہیں رہتی، رویہ بن جاتی ہے۔ چین کی مثال ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ لفظ اگر ذمہ داری کے ساتھ ادا ہو تو تاریخ میں وزن پیدا کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم اپنے لفظوں کو کب وزن دار بنائیں گے؟ یہی سوال اس کالم کی روح ہے اور یہی سوال ہماری آئندہ نسلوں کے لیے امتحان بھی۔

ہم نے وعدوں کو بھی نعروں میں بدل رکھا ہے
اس لیے خواب نے تعبیر سے منہ موڑ رکھا ہے

وہاں قیادت نے خدمت کو عبادت جانا
ہم نے خدمت کو بھی سودوں میں بدل رکھا ہے

قوم بنتی ہے تو کردار کی بنیادوں پر
ہم نے بنیاد کو تصویروں میں بدل رکھا ہے

وہ وطن پہلے، پھر سب، یہی دستور بنا
ہم نے دستور کو خواہش میں بدل رکھا ہے

آؤ اب عہد کریں، خود سے بھی، حاکم سے بھی
وقت نے آئینہ پھر سامنے رکھ رکھا ہے

Check Also

Mushahida

By Mehran Khan