Saturday, 17 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Darakht Dar Ul Hukumat Ke Phephre

Darakht Dar Ul Hukumat Ke Phephre

درخت دارالحکومت کے پھیپھڑے

بالکل درست کہا گیا ہے کہ شہر صرف عمارتوں کا نام نہیں ہوتے، شہر سانسوں سے بنتے ہیں اور سانس درختوں سے جڑی ہوتی ہے۔ جب کراچی کی فضا پر دھواں غالب آیا تو ہم نے اسے "بڑی آبادی کی مجبوری" کہہ کر نظرانداز کر دیا، پھر لاہور پر سموگ نے حملہ کیا تو ہم نے چند موسمی اقدامات سے دل بہلا لیا اور اب نوبت اسلام آباد تک آن پہنچی ہے۔ وہ شہر جو کبھی ہوا کی تازگی اور سبزہ زاری کی پہچان تھا۔ ایک دن کسی دوست نے بتایا کہ لاہور کے ایک باپ نے اپنے بیمار بیٹے کو اسلام آباد کے ایک سیکٹر میں فلیٹ صرف اس لیے کرائے پر لے کر دیا ہے کہ لاہور کی سموگ اور آلودگی میں اسے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ سموگ اور آلودگی اور آلودگی نے باپ بیٹے میں جدائی ڈال دی۔ یہ محض ایک کہانی نہیں، یہ ہمارے اجتماعی زوال کی علامت ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو صاف ہوا دینے کے لیے شہروں کے اندر ہجرت شروع کر دی ہے اور اسی تناظر میں معروف صحافی کلاسرا صاحب کی آواز ایک یاد دہانی بن کر اٹھی ہے کہ اگر آج ہم نے اسلام آباد کو بھی درختوں سے خالی اور دھوئیں سے بھرا کر دیا تو کل ہمارے پاس کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی۔

حیرت یہ ہے کہ جن اداروں پر شہر کی حفاظت کی ذمہ داری ہے وہی شہر کے پھیپھڑوں پر ہاتھ ڈالنے لگیں تو سوال صرف نیت کا نہیں، ترجیحات کا بن جاتا ہے۔ سی ڈی اے کا یہ مؤقف کہ یہاں کچھ جنگی یادگاریں تعمیر کرنی ہیں۔ یہ نیت اپنی جگہ قابلِ احترام سہی، مگر کیا قومیں یادگاریں درخت کاٹ کر بناتی ہیں یا درخت لگا کر اپنی یادگار قائم کرتی ہیں؟ دنیا بھر میں جدید شہری منصوبہ بندی کا اصول واضح ہے: ہر نئی تعمیر کے ساتھ کم از کم اتنی ہی سبزہ کاری اور جہاں ممکن ہو اس سے زیادہ۔ ہم مگر الٹا حساب لے کر چل رہے ہیں، پہلے سبزہ ختم، پھر کنکریٹ کا جشن۔ کراچی اور لاہور کے تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ کیا ہم نے واقعی کچھ سیکھا؟ اگر سیکھا ہوتا تو آج اسلام آباد میں ہر کٹتا ہوا درخت سوال بن کر نہ کھڑا ہوتا۔ یہ شہر تو اسی لیے آباد ہوا تھا کہ دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماڈل سٹی بھی ہو، جہاں ماحول دوست ترقی کی مثال قائم کی جائے، مگر افسوس کہ ہم نے اسے بھی عام شہروں کی طرح آلودگی کی دوڑ میں شامل کر دیا۔

دنیا کا منظرنامہ دیکھیں تو تضاد اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ خلیج کے ریگزاروں میں آج دنیا بھر درخت اور پودے لا کر جنگلات اگائے جا رہے ہیں، بنجر زمینوں پر درختوں کی قطاریں کھڑی کی جا رہی ہیں، سمندر سے پانی نکال کر اسے زندگی میں ڈھالا جا رہا ہے اور ہم جن کے پاس قدرتی جنگلات کی امانت ہے وہ انہیں بے دریغ کاٹ رہے ہیں۔ کہیں سڑک چوڑی کرنے کے نام پر، کہیں پلازوں کی بھوک میں، کہیں یادگاروں کی آڑ میں۔ سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیسی ترقی؟ وہ جو نسلوں کو بیمار کر دے یا وہ جو نسلوں کو صحت مند رکھے؟ دنیا نے سیکھ لیا ہے کہ شہری ہیٹ آئی لینڈ کا اثر کم کرنے کے لیے درخت سب سے سستا اور مؤثر حل ہیں، ہوا کی آلودگی کم کرنے کے لیے سبز پٹی سب سے مضبوط ڈھال ہے، ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے پارکس اور جنگلات سب سے نرم دوا ہیں۔ ہم مگر ان تمام سچائیوں کے باوجود خود کو دھوئیں کے حوالے کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔

اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ماحولیات پر پی ایچ ڈی تک ہو رہی ہے، تحقیقی مقالے شائع ہوتے ہیں، سیمیناروں میں پاورپوائنٹ چمکتی ہیں، مگر عملی زندگی میں خاموشی کی چادر تنی رہتی ہے۔ ڈگری یافتہ ہوں یا ڈگری دادا، سب جیسے اس بات پر متفق ہیں کہ فائلوں میں ماحول محفوظ رہے تو کافی ہے، میدان میں نہ بھی رہے تو کوئی بات نہیں۔ حالانکہ حقیقی علم وہی ہے جو عمل میں ڈھلے، ورنہ ڈگریاں محض دیواروں پر لٹکی تصویریں بن کر رہ جاتی ہیں۔ اگر آج ہمارے جامعات کے اساتذہ، ہمارے ماہرینِ ماحولیات، ہمارے شہری منصوبہ ساز اور ہمارے پالیسی ساز یک زبان ہو کر یہ نہ کہیں کہ درخت کٹنے کا ہر فیصلہ قابلِ بازگشت ہونا چاہیے، تو کل تاریخ ان سب کو خاموش تماشائیوں کی صف میں کھڑا کر دے گی اور یاد رکھیے، خاموشی بھی ایک جرم ہوتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب فضا زہر آلود ہو رہی ہو۔

اسلام آباد کی خوبصورتی اس کے سیکٹرز، اس کی شاہراہوں یا اس کے پلازوں میں نہیں، اس کے درختوں کی چھاؤں میں ہے، اس کی پہاڑیوں کی ٹھنڈی ہوا میں ہے، اس کے پارکس میں دوڑتے بچوں کی ہنسی میں ہے۔ یہ شہر اگر ہرا رہے گا تو ملک کے لیے امید کی علامت رہے گا، اگر یہ بھی خاکستری ہوگیا تو پھر ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچے گا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم جنگی یادگاریں ضرور بنائیں گے مگر ماحول اور درختوں کی قیمت پر نہیں، ہم سڑکیں ضرور بنائیں گے مگر سبز پٹیوں کے ساتھ، ہم عمارتیں ضرور کھڑی کریں گے مگر ہر عمارت کے ساتھ سایہ دار درخت بھی۔ دنیا ہمیں یہ سکھا چکی ہے کہ جدیدیت کی اصل پہچان کنکریٹ نہیں، توازن ہے اور توازن وہی قومیں قائم کرتی ہیں جو اپنے بچوں کی سانسوں کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھتی ہیں۔

آخر میں گزارش صرف اتنی ہے کہ اس خوبصورت ہرے بھرے شہر کو ہرا بھرا ہی رہنے دیجیے۔ اسے دھوئیں، سموگ اور غبار کے ڈھیر میں تبدیل نہ کیجیے۔ آج اگر ہم نے اسلام آباد کو بچا لیا تو کل شاید لاہور اور کراچی کے لیے بھی کوئی راستہ نکل آئے اور اگر ہم نے یہاں بھی درختوں کی جگہ صرف سنگِ مرمر اور کنکریٹ چُن لیا تو پھر آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وہ ہمیں وہ لوگ کہیں گی جن کے پاس سب کچھ تھا، مگر انہوں نے ہوا تک سنبھال کر نہ رکھی۔

یہ تحریر صرف شکایت نہیں، ایک دعا بھی ہے کہ ہمارے شہر پھر سے سانس لینے لگیں، ہمارے بچے صاف ہوا میں آنکھیں کھولیں اور ہم ترقی کے نام پر اپنی ہی جڑیں کاٹنے کی روایت ترک کر دیں۔ اگر آج ہم نے درختوں کی حفاظت کر لی تو کل شاید ہماری آنے والی نسلیں ہمیں اسی فیصلے کی روشنی میں بہتر ماحولیات کے لیے کام کریں گی۔

ہوا سے پوچھا تو اس نے بس اتنا کہا
درخت ہوں تو یہ شہر بھی زندہ رہے گا

ہم نے ترقی کے شوق میں سب کچھ گنوایا
اب سانس کا حق بھی مہنگا رہے گا

جو کل تک سایہ تھے دھوپ کے خلاف
وہی سایہ آج قصۂ پارینہ رہے گا

اگر نہ سنبھالا ہم نے یہ سبز امانت
تو آنے والا ہر موسم شرمندہ رہے گا

چلو ابھی سے بدل دیں اپنی یہ روش
کہ کل ہمارا نام بھی روشن رہے گا

اور آخر میں یہ دعا کہ اے ربِ کریم! ہمارے شہروں کو زندہ رکھ، ہماری ہوا کو پاک صاف رکھ اور ہمارے دلوں میں درختوں حفاظت کا حوصلہ پیدا فرما۔ ہمیں درخت کاٹنے کے بجائے انہیں بچانے والا بنا۔

Check Also

Qaumiat Paraston Ki Zehniyat Ka Aik Profile

By Hafiz Safwan