Danish Kahan Karch Hoti Hai?
دانش کہاں خرچ ہوتی ہے؟

انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ Information ڈیٹا بنتی ہے، ڈیٹا Knowledge میں ڈھلتا ہے، Knowledge Wisdom کی صورت اختیار کرتا ہے اور Wisdom آگے بڑھ کر دانش کہلاتی ہے۔ یہ جملہ بظاہر ایک علمی زنجیر دکھاتا ہے، مگر درحقیقت انسانی شعور کی پوری کہانی سموئے ہوئے ہے۔ ہم معلومات اکٹھی کرتے ہیں، انہیں ترتیب دے کر علم بناتے ہیں، علم سے فیصلے کرتے ہیں تو عقل یا حکمت جنم لیتی ہے، مگر اس کے بعد ایک درجہ اور ہے جسے ہم دانش کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم علم کہاں استعمال کرتے ہیں؟ اکثر اپنے فائدے کے لیے۔ عقل کہاں صرف کرتے ہیں؟ زیادہ تر دوسروں کو سمجھانے میں۔ مگر دانش؟ وہ کہاں خرچ ہوتی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر انسان رک جاتا ہے۔ دانش صرف مسئلہ حل کرنے کا نام نہیں، بلکہ مسئلے سے اوپر اٹھ کر انسان، معاشرہ اور تاریخ کے لیے راستہ بنانے کا نام ہے۔ علم ہمیں کامیاب بناتا ہے، عقل ہمیں مؤثر بناتی ہے، مگر دانش ہمیں بامعنی بناتی ہے۔
ہم روز دیکھتے ہیں کہ ہمارے گرد پڑھے لکھے، ذہین اور نہایت ہوشیار لوگ موجود ہیں۔ وہ حساب جانتے ہیں، قانون سمجھتے ہیں، سیاست کے گر جانتے ہیں، نفسیات پڑھ چکے ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ان کے فیصلے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ علم اور عقل تو ان کے پاس ہے، مگر دانش نہیں۔ علم انسان کو طاقت دیتا ہے، مگر دانش اسے سمت دیتی ہے۔ عقل ہمیں بتاتی ہے کہ کیا ممکن ہے، مگر دانش ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کیا مناسب ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں تہذیبیں بنتی یا بگڑتی ہیں۔ جب علم طاقت کے ہاتھ میں آ جائے اور دانش کمزور ہو تو سلطنتیں ظلم میں بدل جاتی ہیں۔ جب عقل سازش کا ہنر سکھائے اور دانش خاموش رہے تو معاشرے بحرانوں میں گھِر جاتے ہیں۔ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ بڑی بڑی تباہیاں ہمیشہ جہالت سے نہیں، بلکہ بے دانش ذہانت سے جنم لیتی ہیں۔
ہم عام طور پر دانش کو بھی نصیحت تک محدود کر دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ بزرگوں کی باتیں، شاعروں کی حکمت، فلسفیوں کے اقوال، یہ سب دانش ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دانش کتابوں سے زیادہ کردار میں بولتی ہے۔ دانش اس لمحے سامنے آتی ہے جب کوئی شخص اپنے حق سے پیچھے ہٹ کر انصاف کا ساتھ دیتا ہے۔ جب کوئی طاقتور بدلہ لینے کے بجائے معاف کر دیتا ہے۔ جب کوئی حکمران وقتی فائدے کے بجائے آنے والی نسلوں کا سوچتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقل ختم ہوتی ہے اور دانش شروع ہوتی ہے۔ عقل کہتی ہے: فائدہ دیکھو۔ دانش کہتی ہے: انجام دیکھو۔ عقل کہتی ہے: میں جیت جاؤں۔ دانش کہتی ہے: ہم سب بچ جائیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ عقل انسان کو کامیاب بناتی ہے، مگر دانش انسان کو انسان بناتی ہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے پاس علم کی کمی نہیں، عقل کی بھی کمی نہیں، مگر دانش کا بحران ضرور ہے۔ ہم انجینئر بھی ہیں، ڈاکٹر بھی، وکیل بھی، سیاست دان بھی، مگر ہم میں یہ شعور کم ہے کہ اپنے علم اور ذہانت کو کب روکنا ہے اور کب قربان کرنا ہے۔ ہم دلیل جیتنا جانتے ہیں، مگر دل جیتنے کا ہنر بھول گئے ہیں۔ ہم قانون پڑھتے ہیں، مگر انصاف کا بوجھ اٹھانے سے گھبراتے ہیں۔ ہم حکمت کے اقوال دہراتے ہیں، مگر حکمت کے تقاضے نبھانے سے کتراتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں قومیں ٹھہر جاتی ہیں۔ دانش صرف فرد کا وصف نہیں، یہ اجتماعی سطح پر قوم کی پہچان بن جاتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں لوگ یہ سوچنے لگیں کہ "میں نہیں، ہم" اہم ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ وہاں دانش نے جنم لے لیا ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ دانش کو ہم کہاں استعمال کریں؟ اس کا سب سے بڑا مصرف اختیار کے مقام پر ہے۔ جہاں اختیار ہو، وہاں دانش نہ ہو تو تباہی یقینی ہے۔ حکمران کے لیے دانش یہ ہے کہ وہ طاقت کو امانت سمجھے۔ استاد کے لیے دانش یہ ہے کہ وہ علم کو تکبر کے بجائے تربیت کا ذریعہ بنائے۔ تاجر کے لیے دانش یہ ہے کہ وہ منافع کے ساتھ انسانیت بھی دیکھے۔ صحافی کے لیے دانش یہ ہے کہ وہ خبر کے ساتھ ذمہ داری کو جوڑے۔ والدین کے لیے دانش یہ ہے کہ وہ اولاد پر رعب نہیں، رہنمائی مسلط کریں اور عام شہری کے لیے دانش یہ ہے کہ وہ اپنے حق کے ساتھ دوسروں کے حق کو بھی پہچانے۔ یوں دانش کسی ایک طبقے کی میراث نہیں، یہ ہر اس جگہ درکار ہے جہاں انسان کو فیصلہ کرنا ہو، کیونکہ فیصلہ ہی وہ لمحہ ہے جہاں عقل ختم اور دانش شروع ہوتی ہے۔
آخر میں بات پھر وہیں آ کر رکتی ہے جہاں آپ نے سوال اٹھایا تھا۔ ہم علم اپنے لیے استعمال کرتے ہیں، عقل دوسروں کو دیتے ہیں، مگر دانش؟ دانش ہم تاریخ کے سپرد کرتے ہیں، یا تو ہم اسے استعمال کرکے تاریخ بدل دیتے ہیں، یا اسے نظرانداز کرکے خود تاریخ کا عبرتناک حوالہ بن جاتے ہیں۔ دانش کا اصل مصرف یہ ہے کہ وہ ہمیں وقتی کامیابی سے نکال کر دائمی وقار کی طرف لے جائے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ سب کچھ جان لینا بڑی بات نہیں، سب کچھ سمجھ لینا بڑی بات نہیں، اصل کمال یہ ہے کہ سب کچھ جان کر بھی انسان رہنا آ جائے۔ اگر ہم نے یہ سیکھ لیا تو پھر نہ ہمیں علم پر غرور ہوگا، نہ عقل پر گھمنڈ، بلکہ ہم اس مقام تک پہنچ جائیں گے جہاں انسان صرف ذہین نہیں، دانا کہلاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں تاریخ میں امر ہو جاتی ہیں۔
ہر دور میں علم چراغ جلاتا ہے، عقل اس کی لو سنبھالتی ہے، مگر دانش وہ روشنی ہے جو اندھیروں کا راستہ بدل دیتی ہے۔ جب قلم سوال اٹھائے اور دل جواب ڈھونڈے، تو تحریر محض لفظ نہیں رہتی، ضابطۂ حیات بن جاتی ہے۔ یہی چند سطریں اسی امید کے ساتھ پیش ہیں کہ یہ کالم صرف سوچ کو نہیں، سمت کو بھی روشن کرے۔
علم نے آنکھیں دیں، عقل نے رستہ دکھایا
دانش آئی تو ہمیں منزل کا پتہ دکھایا
ہم نے مفاد میں ہر بات کو تول کے دیکھا
اس نے انجام کا بھی آئینہ دکھایا
عقل نے جیت کے معنی ہمیں سمجھائے
دانش نے ہار میں بھی وقار دکھایا
روشنی پھیلی تو بس آنکھ تک ہی پہنچی
دانش نے دل کو بھی آفتاب دکھایا
آؤ اب عہد کریں، حرف نہیں عمل ہو
کہ اسی عہد نے ہر دور کو نیا دکھایا

