Cricketer Baap, Beta: Himmat o Hoslay Ka Afsana
کرکٹر باپ، بیٹا: ہمت و حوصلے کا افسانہ

وہ منظر کسی اسٹیڈیم کی اسکرین پر نہیں، دلوں کی اسکرین پر ثبت ہونے والا تھا۔ پریس کانفرنس کے کمرے میں ہنسی کی ہلکی سی گونج، باپ اور بیٹے کی بے ساختہ گفتگو اور پھر وہ تاریخی لمحہ جب محمد نبی اور ان کے انیس سالہ بیٹے حسن ایساخیل ایک ہی ٹیم کے لیے ایک ہی کریز پر کھڑے تھے، یہ محض ایک میچ کی خبر نہیں، ایک عہد کی کہانی تھی۔ حسن کہتا ہے، "ہم عام باپ بیٹے ہیں، دوست ہیں" اور نبی مسکرا کر کہتا ہے، "میں صرف ٹریننگ میں سخت ہوں، وہاں کوئی بہانہ نہیں چلتا"۔
یہی جملہ دراصل اس پوری داستان کی کنجی ہے: دوستی کے لمس کے ساتھ نظم و ضبط کی گرفت۔ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں یہ پہلا موقع تھا کہ باپ بیٹا ایک ہی فرنچائز کے لیے کھیلے اور پھر قسمت نے کیسی تصویر بنائی کہ نوکھالی ایکسپریس کی فتح میں دونوں کی شراکت نے رنگ بھر دیا، حسن کی 92 رنز کی اننگز، نبی کے تجربے کی چھاؤں اور وہ پارٹنرشپ جو اسکور بورڈ سے آگے دلوں پر لکھی گئی۔ ایسے لمحات کرکٹ کی کتابوں میں کم آتے ہیں، مگر جب آتے ہیں تو کھیل کو زندگی کے استعاروں سے بھر دیتے ہیں۔
اس کہانی کی اصل شان صرف رنز میں نہیں، اس راستے میں ہے جو ان رنز تک پہنچتا ہے۔ افغانستان، ایک ایسا ملک جہاں زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی خواب ہوں، جہاں شورش کے سائے روزمرہ کا حصہ ہوں، وہاں ایک نوجوان کا اپنی توجہ کو بیٹ کی گرپ میں سمیٹ لینا، بال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فیصلہ کرنا کہ کون سا شاٹ کھیلنا ہے، یہ معمولی بات نہیں۔ یہاں توجہ محض ٹیکنیک نہیں، مزاحمت بن جاتی ہے۔ جہاں بجلی کی روشنی بھی مستقل نہ ہو، وہاں ذہن کی روشنی کو مستقل رکھنا پڑتا ہے۔ جہاں کل کی خبر آج بدل جائے، وہاں پچ پر ایک گیند کی رفتار کا اندازہ لگا کر اگلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ حسن ایساخیل کی اننگز دراصل اس ذہنی تربیت کی گواہی تھی جو شور میں سکون ڈھونڈنے سے ملتی ہے اور اس تربیت کے پیچھے ایک باپ کھڑا تھا جو صرف نامور آل راؤنڈر نہیں، ایک معلم بھی ہے، جو بتاتا ہے کہ بولر اب کیا سوچ رہا ہے، سلوَر بال آئے گی یا پوری رفتار اور بیٹا اس علم کو شاٹ میں بدل دیتا ہے۔ یہ کرکٹ نہیں، یہ مکالمہ ہے، تجربے اور جوانی کے درمیان۔
یہاں سوال اٹھتا ہے: یہ کمال کس کا ہے، باپ کا، بیٹے کا، یا دونوں کا؟ شاید اس کا جواب بھی کرکٹ کی طرح ٹیم گیم میں چھپا ہے۔ نبی کہتے ہیں کہ انہوں نے بیٹے کو پروفیشنل کرکٹر کی طرح تیار کیا، میچ سے ایک دن پہلے نوے منٹ کی ذہنی مشق، سائیڈ آرم کے ساتھ پریکٹس، مختلف بولرز کے خلاف منصوبہ بندی، یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ کامیابی اتفاق نہیں ہوتی، اسے ترتیب دیا جاتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ حسن کا کہنا کہ وہ شعوری طور پر اپنے والد کی نقل نہیں کرتا، اس کی بیٹنگ اس کی اپنی فطرت ہے، یہ بھی ضروری ہے، کیونکہ سکھایا ہوا علم تبھی کمال بنتا ہے جب طالب علم اسے اپنی شخصیت میں ڈھال لے۔ یہاں باپ کی سختی دراصل حفاظت ہے اور بیٹے کی خود مختاری دراصل پرواز۔ یہی توازن مضبوط اعصاب کی علامت ہے، وہ اعصاب جو شورش کے بیچ بھی کپکپاتے نہیں، جو دباؤ میں بھی مسکراہٹ سنبھال لیتے ہیں اور جو کریز پر کھڑے ہو کر وقت کو تھام لیتے ہیں۔
اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو ہمیں چونکا دیتا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ وہ ہیں جن کے پاس بہترین سہولتیں ہیں، اکیڈمیز، نیٹس، کوچز، جم، ٹیکنالوجی، مگر ہم پھر بھی شکایتوں کے سہارے جیتے ہیں؟ اور ادھر افغانستان کے نوجوان، جن کے لیے ایک صاف میدان بھی نعمت ہو، وہ اپنی قسمت کے ساتھ نہیں، اپنی محنت کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ حسن کی اننگز محض 92 رنز نہیں، ان ہزاروں گھنٹوں کی نمائندگی ہے جو بے سکون ماحول میں سکون سیکھنے میں لگیں۔ یہ ان لمحوں کی ترجمانی ہے جب ایک باپ بیٹے کو کہتا ہے: "بہانہ نہیں، بس تیاری" اور بیٹا جواب دیتا ہے: "میں تیار ہوں"۔ ایسے میں فتح کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے، یہ صرف اسکور کی فتح نہیں، حالات پر فتح ہے۔
پھر وہ منظر یاد آتا ہے جب نبی کریز پر جھک کر بیٹے کو بتا رہے تھے کہ اب کیا ہوگا اور حسن اگلی گیند پر وہی کرتا ہے جس کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ اس لمحے میں باپ کی آنکھوں کی چمک بھی ہوگی اور دل کی شکرگزاری بھی، کہ وہ خوش نصیب ہے جو اپنے بیٹے کے ساتھ ایک ہی پچ پر کھڑا ہے، ایک ہی مقصد کے لیے سانس لے رہا ہے اور ایک ہی فتح میں شریک ہے۔ کرکٹ کے ریکارڈز میں شاید یہ ایک لائن بن کر رہ جائے، مگر زندگی کے ریکارڈ میں یہ ایک باب ہے، باپ بیٹے کے رشتے کا، تربیت اور اعتماد کا اور اس یقین کا کہ مشکل حالات میں پلنے والے اگر توجہ اور محنت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں تو وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔
آخر میں، یہ کالم صرف داد دینے کے لیے نہیں، ایک آئینہ رکھنے کے لیے ہے۔ ان لوگوں کے لیے جن کے پاس سب کچھ ہے مگر حوصلہ کم ہے، ان نوجوانوں کے لیے جو معمولی رکاوٹوں پر ہمت ہار دیتے ہیں اور ان والدین کے لیے جو کبھی کبھی تربیت اور دوستی کے درمیان توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ محمد نبی اور حسن ایساخیل ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ سختی اگر محبت کے دائرے میں ہو تو وہ طاقت بن جاتی ہے اور آزادی اگر نظم کے ساتھ ہو تو وہ کامیابی میں ڈھل جاتی ہے۔ افغانستان جیسے ماحول میں جنہوں نے کمال دکھایا، انہیں سلام اور ہمیں سبق کہ سہولتیں نہیں، عزم جیتتا ہے۔ جب باپ اور بیٹا ایک ہی کریز پر کھڑے ہو جائیں، تو دراصل دو نسلیں ایک ہی خواب کے لیے کھیل رہی ہوتی ہیں اور یہی خواب کسی بھی شورش زدہ دنیا میں امید کا سب سے خوبصورت اسکور ہے۔
کچھ لمحے صرف کھیل کے نہیں ہوتے، وہ نسلوں کے درمیان پل بن جاتے ہیں۔ جب باپ اپنے تجربے کی روشنی اور بیٹا اپنے حوصلے کی تازگی کے ساتھ ایک ہی خواب کے لیے قدم بڑھائیں، تو کریز محض کھیل کی جگہ نہیں رہتی۔ وہ کردار سازی کی درسگاہ بن جاتی ہے۔ اسی احساس کو دل میں سمیٹ کر یہ چند اشعار نذر ہیں۔
کریز پر باپ نے خوابوں کو صدا دے دی تھی
بیٹے نے آ کے صدا کو ہی دعا دے دی تھی
شورشِ وقت میں ہم نے بھی سکوں سیکھ لیا
ایک ہنر تھا جو ہمیں صبر نے جا دے دی تھی
بیٹ کی ضرب میں محنت کی صدا بول اٹھی
ہر گیند نے ہمت کو نئی راہ دکھا دی تھی
دوستی، نظم، وفا، سب ایک قرینے میں ملے
باپ نے سختی کو بھی آغوشِ وفا دے دی تھی
جو نہ تھے اہلِ سہولت وہی تاریخ بنے
ہم نے آسانی کو اکثر ہی سزا دے دی تھی

