Saturday, 03 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. China Ke Saddar Ka Naye Saal Ka Khitab

China Ke Saddar Ka Naye Saal Ka Khitab

چین کے صدر کا نئے سال کا خطاب

چین کے صدر شی جن پنگ کا 2026 کے آغاز پر اپنی قوم سے خطاب محض ایک رسمی پیغام نہیں تھا بلکہ ایک باقاعدہ قومی دستاویز، ایک فکری نقشۂ راہ اور ایک اجتماعی اعتماد کا اظہار تھا۔ انہوں نے نئے سال کی مبارک باد کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ چین نے اپنا چودھواں پانچ سالہ منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ پانچ برسوں پر محیط اس سفر میں انہوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ معیشت ایک سو چالیس ٹریلین یوان کے سنگِ میل تک پہنچ چکی ہے، سائنسی و تکنیکی صلاحیتیں نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں، دفاع مضبوط ہوا ہے، ماحولیات میں بہتری آئی ہے اور عام آدمی کے احساسِ تحفظ، خوشی اور فائدے میں اضافہ ہوا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ سب آسانی سے حاصل نہیں ہوا بلکہ محنت، استقامت اور اجتماعی قربانیوں کا نتیجہ ہے اور انہوں نے پوری قوم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ اندازِ خطاب دراصل قیادت اور عوام کے درمیان ایک مضبوط رشتے کی علامت ہے، جہاں حکمران صرف وعدے نہیں کرتے بلکہ مکمل شدہ کاموں کا حساب بھی دیتے ہیں۔

اپنے پیغام میں چینی صدر نے 2025 کے تاریخی لمحات کو بھی یاد کیا۔ جاپانی جارحیت کے خلاف جنگ اور عالمی فاشزم پر فتح کی اسّی ویں سالگرہ، تائیوان ریکوری ڈے کا قیام اور ان مواقع کو قومی شعور کی بیداری کے لیے استعمال کرنا، یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ قومیں صرف مستقبل کے خوابوں سے نہیں بلکہ تاریخ کے شعور سے بھی مضبوط ہوتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاریخ کو یاد رکھنا، شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرنا اور امن کی قدر کرنا ہی وہ عناصر ہیں جو قوموں کو متحد رکھتے ہیں۔ یہی اتحاد آگے چل کر قومی نشاۃِ ثانیہ کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس پر ہمیں بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی تاریخ، اپنی قربانیوں اور اپنی اجتماعی کامیابیوں کو اس انداز میں قومی تعمیر کا ذریعہ بناتے ہیں یا نہیں۔

خطاب کا ایک نمایاں حصہ جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور علم پر مبنی ترقی کے گرد گھومتا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے بتایا کہ چین میں مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز تیار ہو رہے ہیں، اپنے چپس میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، خلائی تحقیق میں تیان وین-ٹو جیسے مشن شروع ہو چکے ہیں، بڑے آبی منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، جدید طیارہ بردار بحری جہاز بحری بیڑے میں شامل ہو چکے ہیں اور روبوٹس و ڈرونز روزمرہ زندگی کو نئی جہتیں دے رہے ہیں۔ یہ سب کچھ محض سائنسی نمائش نہیں بلکہ "نئی نوعیت کی پیداواری قوت" کا حصہ ہے، جو معیشت، روزگار اور معیارِ زندگی کو براہِ راست بہتر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ثقافت کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ عجائب گھروں، ثقافتی ورثے، عالمی ثقافتی فہرست میں نئے مقامات، ووکانگ اور نزہا جیسے ثقافتی کرداروں کی عالمی مقبولیت، کھیل، سیاحت اور روایات کا جدید انداز میں فروغ۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ چین ترقی کو صرف کنکریٹ اور فولاد تک محدود نہیں رکھتا بلکہ روح اور شناخت کو بھی ساتھ لے کر چلتا ہے۔

خطاب میں عام آدمی کی فلاح کو خاص اہمیت دی گئی۔ بزرگوں کے لیے سہولتیں، نئے طرزِ روزگار میں کام کرنے والوں کے حقوق، بچوں کی نگہداشت کے لیے ماہانہ سبسڈی اور دور دراز علاقوں میں قومی یکجہتی کے مناظر، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ منصوبہ بندی صرف کاغذی نہیں بلکہ انسانی ضرورتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ صدر شی جن پنگ نے دنیا کے ساتھ چین کے تعلقات، عالمی امن، ماحولیاتی ذمہ داری اور منصفانہ عالمی نظام کی بات بھی کی اور ساتھ ہی یہ پیغام دیا کہ چین تاریخ کے درست رُخ پر کھڑا ہے۔ آخر میں انہوں نے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے واضح اہداف، اعتماد، اصلاحات اور مسلسل جدوجہد پر زور دیا اور قوم کو حوصلہ دیا کہ بلند خواب اور طویل سفر جرات مندانہ قدموں سے ہی طے ہوتے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم یہ خطاب سنتے یا پڑھتے ہیں تو ہمارے دل میں ایک ٹیس کیوں اٹھتی ہے؟ اس لیے کہ ہمیں یاد آتا ہے کہ پانچ سالہ منصوبے کبھی ہمارے ملک پاکستان میں بھی ہوا کرتے تھے۔ کبھی یہاں بھی اہداف طے کیے جاتے تھے، صنعت، زراعت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے لیے سمت متعین کی جاتی تھی اور اس کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ ترقی ضرور ہو جایا کرتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ نہ نئے سال پر کوئی واضح قومی منصوبہ سننے کو ملتا ہے، نہ مکمل شدہ اہداف کا حساب۔ یہ نہیں کہ بالکل مایوسی ہے، بہت کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے، مگر جو کچھ ہو سکتا ہے وہ نہیں ہو پا رہا۔ منصوبوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، فیصلے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں اور اجتماعی مفاد انفرادی یا گروہی مفاد کی نذر ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے راستے کھولے جائیں، ترقی کے عمل کو آسان اور شفاف بنایا جائے اور قوم کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کا مستقبل کسی واضح منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔

نئے سال کے موقع پر اگر ہم بھی بطور قوم یہ عہد کر لیں کہ ہم دوبارہ منصوبہ بندی کی طرف لوٹیں گے، اہداف طے کریں گے، ان پر عملدرآمد کریں گے اور قوم کو جواب دہی کے ساتھ آگاہ رکھیں گے، تو شاید چند برس بعد ہمارے پاس بھی کچھ کہنے اور دکھانے کو ہو۔ تب آنے والی نسلیں ہمیں بددعائیں نہیں بلکہ دعائیں دیں گی کہ ہمارے بڑوں نے سوچا، منصوبہ بنایا اور کچھ کرکے گئے اور ہم نے بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کچھ کرکے جانا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قوموں کو نئے سال کی حقیقی خوشی عطا کرتا ہے اور یہی وہ سبق ہے جو چین کے صدر کے خطاب سے ہمیں ملتا ہے۔

Check Also

Qaleen

By Rao Manzar Hayat