China-Africa Awami Rawabit: Aalmi Janoob Ke Liye Umeed Ki Nai Kiran
چین۔افریقہ عوامی روابط: عالمی جنوب کے لیے امید کی نئی کرن

چین کے صدر شی جن پنگ کا چین-افریقہ عوامی روابط کے سال 2026 کے موقع پر بھیجا گیا پیغام محض ایک رسمی سفارتی خط نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کی علامت ہے جو بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں نئی سمتوں کا تعین کر رہا ہے۔ ادیس ابابا میں افریقی یونین کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب میں جب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ پیغام پڑھ کر سنایا تو افریقی رہنماؤں اور دانش وروں کے تاثرات نے واضح کر دیا کہ یہ خط افریقہ کے لیے محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور سیاسی اعتماد کی تجدید ہے۔ ستر برس پہلے شروع ہونے والے چین-افریقہ سفارتی تعلقات کی سالگرہ کے موقع پر عوامی سطح کے روابط کو مرکزی حیثیت دینا اس بات کا اعلان ہے کہ اب عالمی تعلقات صرف حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ قوموں کے دلوں کے درمیان استوار کیے جا رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس پورے عمل کو محض سفارت کاری سے بلند کرکے تہذیبی مکالمے میں بدل دیتا ہے۔
ایتھوپیا کے صدر تائے اتسکے سیلاسی نے اس پیغام کو "برادرانہ وحدت" کا احساس قرار دیا اور کہا کہ آج کے پُرآشوب عالمی ماحول میں یہ جذبہ نہایت قیمتی ہے۔ ان کے الفاظ میں، شی جن پنگ کا خط ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا میں اب بھی امید باقی ہے۔ افریقی یونین کمیشن کے چیف آف اسٹاف محمد الامین صوف نے بھی اسی جذبے کی ترجمانی کی اور کہا کہ یہ پیغام افریقہ اور اس کے رہنماؤں کے لیے ایک مضبوط اشارہ ہے کہ وہ چین پر اعتماد کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ مل کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ بیانات دراصل اس بدلتے ہوئے عالمی شعور کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ترقی پذیر دنیا اب خود کو صرف امداد کا مستحق نہیں بلکہ عالمی نظم میں ایک باوقار شریک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ چین اور افریقہ کا یہ رشتہ اسی نئے شعور کی عملی صورت ہے۔
جنوبی افریقہ کے سیاسی تجزیہ کار سینڈائل سوانا نے شی جن پنگ کے خط کے اس جملے کو خاص طور پر اہم قرار دیا جس میں کہا گیا کہ چینی اور افریقی تہذیبیں صدیوں سے ایک دوسرے کو تقویت دیتی آئی ہیں۔ یہ محض تاریخی دعویٰ نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے کہ تہذیبیں تصادم سے نہیں بلکہ مکالمے سے نکھرتی ہیں۔ جب مختلف ثقافتیں ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں تو نہ صرف تعصبات ٹوٹتے ہیں بلکہ ترقی کی نئی راہیں بھی کھلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین-افریقہ تعلقات اب صرف تجارت اور سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہے بلکہ فکری اور تہذیبی ہم آہنگی کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ہم آہنگی دراصل اس بات کی دلیل ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا نیا مرکز اب صرف عسکری یا معاشی قوت نہیں بلکہ اخلاقی اور تہذیبی اثر بھی بن رہا ہے۔
کینیا کے بین الاقوامی امور کے ماہر ادھیر کیونس نے درست کہا کہ چینی اور افریقی عوام کے درمیان گہرے جذباتی روابط ہی اس شراکت داری کی اصل قوت ہیں۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، پالیسیاں تبدیل ہو سکتی ہیں، مگر جب عوامی سطح پر اعتماد پیدا ہو جائے تو رشتے دیرپا ہو جاتے ہیں۔ عوامی روابط کا یہی پہلو چین-افریقہ تعلقات کو محض اسٹریٹجک تعاون سے آگے لے جا کر ایک ہمہ گیر شراکت داری میں بدل دیتا ہے۔ روانڈا کے تجزیہ کار ژاں بپتست گاسومیناری نے بھی اس پہلو پر زور دیا کہ چین کے ساتھ تعاون نے افریقہ کو غربت کے خاتمے، غذائی تحفظ، صنعتی ترقی اور پائیدار ترقی میں نمایاں مدد دی ہے اور اس کے نتیجے میں افریقہ اب عالمی حکمرانی میں زیادہ باوقار کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کیے گئے چار بڑے عالمی اقدامات چین-افریقہ تعلقات کو ایک جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں جو بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ چین-افریقہ عوامی روابط کا سال بالخصوص افریقی نوجوانوں کے لیے ایک نئے افق کی حیثیت رکھتا ہے۔ تعلیم، ثقافت، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں تعاون نہ صرف نئی مہارتیں پیدا کرے گا بلکہ ایک عالمی وژن بھی پروان چڑھائے گا۔ سینیگال کے وزارتِ مواصلات کے ڈائریکٹر حبیبو دیا کے مطابق عوامی سطح کے یہ روابط نہ صرف چین اور افریقہ بلکہ پورے عالمی جنوب کے لیے اتحاد اور تعاون کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ جب ترقی پذیر ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتے ہیں اور اپنی حکمرانی کے ماڈلز میں بہتری لاتے ہیں تو وہ عالمی نظام میں اپنی خودمختاری کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو چین-افریقہ تعلقات کو محض دو طرفہ شراکت داری سے بڑھا کر عالمی جنوب کی اجتماعی طاقت میں تبدیل کر رہا ہے۔
انگولا کے ماہرِ بین الاقوامی تعلقات جووینل کوئیکاسا نے بجا طور پر کہا کہ چین-افریقہ تعاون آج کے عالمی منظرنامے میں عالمی جنوب کے عروج کی کلید بن چکا ہے۔ یہ تعلقات دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہیں کہ کس طرح باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ فریم ورک ہے جو رفتہ رفتہ ایک زیادہ متوازن اور جامع عالمی نظام کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔ مغربی طاقتوں کے زیرِ اثر طویل عرصے تک چلنے والے عالمی نظم کے بعد اب دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں نئے اتحاد، نئی اقدار اور نئی ترجیحات ابھر رہی ہیں۔ چین اور افریقہ کا یہ اشتراک اسی نئے دور کی علامت ہے، جہاں طاقت کا مطلب صرف غلبہ نہیں بلکہ شراکت ہے اور قیادت کا مفہوم حکم دینا نہیں بلکہ ساتھ لے کر چلنا ہے۔
اگر اس پورے پس منظر کو دیکھا جائے تو شی جن پنگ کا پیغام دراصل ایک بڑی کہانی کا حصہ ہے: عالمی سیاست کی نئی تعبیر۔ یہ تعبیر اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ دنیا کو محض طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ اقدار کے توازن سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔ چین-افریقہ عوامی روابط کا سال اسی تصور کی عملی شکل ہے، جہاں حکومتیں نہیں بلکہ عوام تاریخ کا رخ موڑنے کے لیے میدان میں آ رہے ہیں۔ یہ عمل بتا رہا ہے کہ عالمی جنوب اب محض سامراجی ماضی کا وارث نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کا معمار بن رہا ہے جس میں تعاون، احترام اور مشترکہ انسانیت کی قدریں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایتھوپیا کے صدر نے اس پیغام کو امید کی کرن قرار دیا تھا، کیونکہ آج کی دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ طاقت نہیں بلکہ اعتماد ہے اور چین-افریقہ تعلقات اسی اعتماد کی بنیاد پر ایک نئے عالمی افق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
جب قوموں کے بیچ دیواریں اونچی ہونے لگیں اور مفادات کے شور میں انسانیت کی آواز دب جائے، تو تاریخ کبھی کبھار ایسے لمحے بھی عطا کرتی ہے جب دور دراز تہذیبیں ایک دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھا کر یاد دلاتی ہیں کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں، دلوں کے رشتوں میں ہوتی ہے۔ چین اور افریقہ کے عوامی روابط کا یہ سفر اسی حقیقت کی بازگشت ہے کہ اگر نیتیں صاف ہوں تو جغرافیے سمٹ جاتے ہیں اور اگر خواب مشترک ہوں تو مستقبل روشن ہو جاتا ہے۔
نہ مشرق جدا ہے نہ مغرب جدا ہے
جہاں دل ملیں، وہی نسبت جدا ہے
تہذیب نے تہذیب کو پہچانا جب
تعصب کا ہر ایک پہاڑ گرا ہے
جو ہاتھ میں ہاتھ دے کر چلے ہیں
انہیں وقت نے بھی ہمیشہ سراہا ہے
نہ ہم کسی کے ہیں محکوم اب
نہ کوئی ہمارا خدا بن سکا ہے
جہاں احترام ہو، مفاد نہیں
وہی رشتہ دنیا میں سب سے بڑا ہے

