Thursday, 01 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Cheeni Jadeediat, Insan Aur Fitrat Ke Darmiyan Ham Ahangi Ka Naya Tasawur

Cheeni Jadeediat, Insan Aur Fitrat Ke Darmiyan Ham Ahangi Ka Naya Tasawur

چینی جدیدیت، انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کا نیا تصور

دنیا بھر میں جدیدیت کا مطلب عموماً تیز رفتار ترقی، صنعتی انقلاب، بڑے شہروں کی تعمیر اور معاشی دوڑ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر ممالک نے جب ترقی کا سفر اختیار کیا تو انہوں نے فطرت کو قربان کرکے اس دوڑ میں حصہ لیا۔ جنگلات کٹے، ندیاں آلودہ ہوئیں، آب و ہوا کا توازن بگڑا اور زمین انسان کی بے تحاشا سرگرمیوں سے زخمی ہوتی چلی گئی۔ لیکن چین نے جدیدیت کا جو ماڈل پیش کیا ہے وہ اس روایتی تصور سے مختلف ہے۔ چینی جدیدیت کی روح میں یہ اصول شامل ہے کہ ترقی اور فطرت ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ دونوں کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔ یہی وہ بنیادی فلسفہ ہے جسے سمجھنا آج کی دنیا کے لیے ضروری ہو چکا ہے۔

چین نے اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ فطرت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اگر زمین کی سانس بند کر دی جائے تو انسان کی زندگی کا سفر بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ اسی سوچ نے چین کو مجبور کیا کہ وہ ایسا ماڈل تشکیل دے جس میں انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی ایک لازمی رکن ہو۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں چین نے ماحول دوست پالیسیوں، قابلِ تجدید توانائی، جنگلات کی بحالی، آلودگی کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے بہتر استعمال پر غیر معمولی کام کیا۔ دنیا کی سب سے بڑی سولر اور ونڈ انرجی کی تنصیب اسی سوچ کا حصہ ہے اور یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ چین نے جدیدیت کو فطرت دشمن نہیں بلکہ فطرت دوست بنانے کا عزم کیا۔

چینی قیادت کا ماننا ہے کہ صاف پانی، صاف ہوا اور صحت مند ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اسی لیے چین نے ماحولیات کو قومی ایجنڈے کے مرکز میں رکھا۔ بڑے شہروں میں آلودگی کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے، صنعتوں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانے پر مجبور کیا گیا اور ماحولیات کے قوانین پر وہی سنجیدگی دکھائی گئی جو معاشی پالیسیوں پر دکھائی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ چند برس پہلے جو شہر دھوئیں اور سموگ کا شکار تھے، آج وہاں صاف آسمان اور بہتر ہوا دنیا کو حیران کرتی ہے۔ یہ وہ کامیابی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نیت اور حکمت عملی درست ہو تو فطرت کو تباہ کیے بغیر ترقی کی جا سکتی ہے۔

چینی جدیدیت کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں فطرت کو دشمن نہیں بلکہ ساتھی سمجھا گیا ہے۔ چین نے اربوں درخت لگائے، بنجر علاقوں کو جنگلات میں تبدیل کیا اور دریاؤں اور جھیلوں کی اصل حالت بحال کی۔ ملک میں کئی ایسے ماحولیاتی زون بنائے گئے جہاں کسی قسم کی تعمیر یا صنعتی سرگرمی کی اجازت نہیں۔ اس ماڈل کا مقصد صرف ماحول کو بچانا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند چین تشکیل دینا ہے۔ ترقی اگر آنے والی نسلوں کی قیمت پر کی جائے تو وہ ترقی نہیں تباہی ہے اور چین نے یہی بات وقت پر سمجھ لی۔

عالمی سطح پر بھی چین نے ماحولیات کے تحفظ کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنا دیا ہے۔ Belt and Road Initiative میں گرین ڈیولپمنٹ کو بنیادی حیثیت دی گئی، دنیا بھر کے ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کی گئی اور عالمی ماحولیاتی معاہدوں میں فعال کردار ادا کیا گیا۔ یہ رویہ عالمی طاقتوں کے روایتی انداز سے مختلف ہے جو ترقی کے نام پر دیگر ممالک کے وسائل کو بے دریغ استعمال کرتی رہیں۔ چین نے ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جس میں ترقی، شراکت، ماحول دوستی اور باہمی احترام ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔

چینی جدیدیت کا ماڈل دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی اور فطرت کے درمیان کوئی جنگ نہیں۔ اصل ضرورت ایک متوازن سوچ کی ہے جس میں انسان اپنی حدود پہچانے، فطرت کے ساتھ مقابلے کے بجائے اس کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرے اور ایسی ترقی کرے جو نہ صرف آج کے انسان بلکہ کل کی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو۔ چین نے جدیدیت کی اس نئی تعریف کو عملی شکل دے کر دکھایا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جسے اختیار کرنا آج کی دنیا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ دنیا اگر اس ماڈل سے سیکھنا چاہے تو شاید زمین خود بھی ایک بار پھر سکون کا سانس لے سکے اور انسانیت بھی ایک زیادہ محفوظ، متوازن اور پائیدار مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔

Check Also

Shatt Al Furat Se Najaf Ki Saraye Tak

By Ali Akbar Natiq