Cheeni Communist Party Ne Akhir Konsi Baatein Durust Keen?
چینی کمیونسٹ پارٹی نے آخر کون سی باتیں درست کیں؟

دنیا بھر میں سیاسی نظاموں کی ناکامیاں اور کمزوریاں روز اخباروں کی سرخیوں میں نظر آتی ہیں، لیکن چین کی کمیونسٹ پارٹی (CPC) ایک ایسی مثال ہے جس نے اپنے ملک کو مختصر عرصے میں معاشی، سیاسی اور سماجی اعتبار سے جس مقام تک پہنچایا ہے، وہ جدید تاریخ میں ایک غیر معمولی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر CPC نے ایسا کیا کیا جو دنیا کے دیگر نظام نہ کر سکے؟ کون سی حکمتِ عملی، کون سا نظم و ضبط اور کون سی سوچ تھی جس نے چین کو زبوں حالی سے نکال کر دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنا دیا؟ اس سوال کا جواب چند بنیادی اصولوں میں پوشیدہ ہے جن پر پارٹی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور جنہوں نے چین کی تقدیر بدل دی۔
سب سے پہلی بات جو CPC نے درست کی وہ یہ کہ اس نے ریاست کی بنیاد استحکام پر رکھی۔ سیاسی استحکام نہ ہو تو کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا اور چین نے اس حقیقت کو سب سے پہلے سمجھا۔ پارٹی نے ایسے نظام کو فروغ دیا جس میں قیادت مضبوط، فیصلہ سازی مربوط اور پالیسیوں میں تسلسل ہو۔ مغربی جمہوریتوں میں ہر حکومت اپنے سے پہلے والی حکومت کی پالیسیوں کو بدل دیتی ہے، لیکن چین میں یہ تسلسل اس قدر مضبوط ہے کہ بیس، تیس اور پچاس سال کے منصوبے بھی بغیر رکاوٹ آگے بڑھتے ہیں۔ یہی استحکام وہ بنیاد ہے جس پر چین کی معاشی ترقی کی پوری عمارت کھڑی ہے۔
دوسری بڑی بات جو CPC نے درست کی وہ یہ کہ اس نے ترقی کو عوام کے معیارِ زندگی سے جوڑ دیا۔ ترقی صرف بڑے شہروں یا سرمایہ دار طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ دیہات، مزدوروں، کسانوں اور کم آمدنی والے طبقوں تک پہنچی۔ پاکستان اور کئی دیگر ممالک میں ترقی صرف گراف اور رپورٹس میں نظر آتی ہے، لیکن چین نے اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا۔ 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنا دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی انقلاب تھا اور یہ کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہوئی جب عوام کو ترقی کا حقیقی مرکز بنایا گیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دنیا کی اکثریت غلطی کرتی ہے اور چین نے بالکل درست قدم اٹھایا۔
تیسری بات جو CPC نے درست کی وہ یہ کہ اس نے سائنس، تعلیم اور ٹیکنالوجی کو قومی بقا کا مسئلہ سمجھا۔ دنیا کے ممالک عام طور پر روزمرہ سیاست اور وقتی مفادات میں الجھے رہتے ہیں، لیکن چین نے ٹیکنالوجی کو اپنی ترجیح بنا لیا۔ مصنوعی ذہانت، 5G، کوانٹم کمپیوٹنگ، خلائی سائنس اور جدید صنعتوں میں چین کی غیر معمولی ترقی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس طویل المدتی سوچ کا ثمر ہے کہ مستقبل انہی ممالک کا ہے جو علم اور تحقیق میں آگے ہوں گے۔ اسی لیے آج مغربی دنیا چین کو اپنے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک مقابل سمجھتی ہے، کیونکہ چین نے سائنسی میدان میں بہت کچھ صحیح سمت میں کیا۔
چوتھی بڑی بات یہ کہ CPC نے دنیا سے تعلقات میں برابری اور باہمی احترام کی بنیاد قائم کی۔ وہ ممالک جو نوآبادیاتی سوچ رکھتے تھے وہ دوسروں پر حکم چلانے کے عادی تھے، لیکن چین نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ افریقہ ہو یا ایشیا، لاطینی امریکہ ہو یا مشرقِ وسطیٰ، چین نے سرمایہ کاری اور تعاون کو سیاست کے بجائے ترقی کا ذریعہ بنایا۔ اسی وجہ سے دنیا کے درجنوں ممالک چین کو ایک قابلِ اعتماد دوست سمجھتے ہیں۔ یہ بھی CPC کا وہ فیصلہ ہے جس نے چین کی عالمی ساکھ کو مضبوط بنایا اور اسے ایک نرم قوت (Soft Power) بنا دیا۔
آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ CPC نے نظم و ضبط، میرٹ اور کارکردگی کو ریاستی نظام کا بنیادی اصول بنا دیا۔ حکمران بننے کے لیے تقریریں یا جوش کافی نہیں، بلکہ دہائیوں کا تجربہ، انتظامی قابلیت اور عملی کارکردگی ضروری ہے۔ چین کی قیادت اس اصول پر سختی سے قائم رہی، اسی لیے پارٹی کی اوپر سے نیچے تک قیادت ایک ہنر مند نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ جب قیادت مضبوط ہو تو فیصلے درست ہوتے ہیں اور جب فیصلے درست ہوں تو نتائج بدلتے ہیں۔ چین نے یہی کیا، چپ چاپ، مسلسل اور بغیر شور شرابے کے۔
مختصراً، CPC نے جن باتوں کو درست کیا وہ دنیا کے لیے سبق ہیں: استحکام، عوام کو مرکزیت دینا، علم اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، عالمی سطح پر باہمی احترام کی سفارت کاری اور میرٹ پر مبنی قیادت۔ یہی وہ اقدامات ہیں جنہوں نے چین کو ایک گرتی ہوئی معیشت سے اٹھا کر ایک طاقتور، باوقار اور ترقی یافتہ قوم بنا دیا۔ چین کی یہ کہانی محض سیاسی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وژن درست ہو اور نیت عوامی مفاد پر مبنی ہو تو دنیا کی کوئی طاقت قوم کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

