Bichra Hua Saal 2025, Aik Khamosh Gawah
بچھڑا ہوا سال 2025، ایک خاموش گواہ

سال 2025 رخصت ہوگیا۔ بالکل یوں جیسے کسی پرانے مسافر نے خاموشی سے دروازہ کھولا، آخری بار پلٹ کر دیکھا اور بغیر کوئی شور مچائے اندھیرے میں گم ہوگیا۔ اس کی آخری صبح شاید ہمارے لیے بھی عام سی تھی، مگر وقت کی ڈائری میں وہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھی۔ گھڑی کی سوئیاں چلتی رہیں، سانسیں آتی جاتی رہیں، مگر ایک پورا سال، اپنی تمام خوشیوں، غموں، امیدوں، دھوکوں، وعدوں اور ٹوٹے خوابوں سمیت، ہم سے جدا ہوگیا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اس لمحے کو صرف ایک کیلنڈر کی تبدیلی سمجھ کر گزر گئے، مگر درحقیقت یہ ہماری زندگی کے ایک باب کا اختتام تھا، جس کا ہر صفحہ ہمارے اعمال، نیتوں اور فیصلوں سے لکھا گیا تھا۔
2025 ہمارے لیے کیسا سال تھا؟ اس سوال کا جواب ہر شخص کے لیے مختلف ہے۔ کسی کے لیے یہ کامیابیوں کا سال تھا، کسی کے لیے محرومیوں کا، کسی نے اس میں اپنے پیارے کھوئے، کسی نے نئے رشتے پائے، کسی نے خواب پورے ہوتے دیکھے اور کسی نے خوابوں کی تدفین کی۔ مگر ایک حقیقت سب کے لیے مشترک رہی: وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جو لمحے ہم نے سستی، غفلت، ٹال مٹول اور خود فریبی میں گزار دیے، وہ ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل گئے۔ جو سچ ہمیں بولنا چاہیے تھا، وہ شاید ہم نے دبائے رکھا۔ جو معافیاں مانگنی تھیں، وہ انا کی نذر ہوگئیں۔ جو نیکیاں ہم کل پر چھوڑتے رہے، وہ کل کبھی آیا ہی نہیں۔ 2025 ہمیں یہی سبق دے کر گیا کہ زندگی مؤخر کرنے کا نام نہیں۔
یہ سال ہمیں آئینہ دکھا گیا۔ ایک ایسا آئینہ جس میں ہم نے اپنی اصل صورت دیکھی، بغیر فلٹر، بغیر بناوٹ۔ ہم نے دیکھا کہ ہم سوشل میڈیا پر کتنے سرگرم تھے، مگر اپنے گھر کے لوگوں سے کتنے غافل۔ ہم نے جانچا کہ ہم نے دنیا کے مسائل پر کتنی بحثیں کیں، مگر اپنے کردار کی اصلاح پر کتنا کم سوچا۔ ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ ہم نے سچ کی بات کرنے کے بجائے آسان راستہ اختیار کیا اور مشکل مگر درست راستے سے کتنی بار منہ موڑا۔ 2025 نے ہمیں بتایا کہ علم ہونے اور عمل کرنے میں کتنا بڑا فاصلہ ہے اور ہم میں سے اکثر اسی فاصلے میں زندگی گزار دیتے ہیں۔
عالمی منظرنامے پر بھی 2025 ایک ہلچل خیز سال تھا۔ طاقت، مفاد اور سیاست کے کھیل جاری رہے، کمزور کچلے جاتے رہے، سچ کو بار بار شور کے نیچے دبایا گیا۔ ٹیکنالوجی نے ترقی کی نئی منازل طے کیں، مگر انسان دل کے اعتبار سے مزید تنہا ہوگیا۔ مصنوعی ذہانت نے سوالات کے جواب دے دیے، مگر انسان اپنے وجود کے سوالوں میں اور الجھ گیا۔ جنگ، غربت، مہنگائی، بے یقینی، یہ سب 2025 کے مستقل عنوانات رہے۔ مگر اس سب کے باوجود، کہیں نہ کہیں انسانیت کی چھوٹی چھوٹی شمعیں بھی جلتی رہیں، جنہوں نے اندھیرے کو مکمل ہونے سے بچائے رکھا۔
انفرادی سطح پر 2025 ہم سے حساب مانگ کر گیا۔ اس نے پوچھا کہ تم نے اپنے وقت کا کیا کیا؟ تم نے صحت کو کتنی اہمیت دی؟ تم نے رشتوں کو کتنا وقت دیا؟ تم نے رب کے سامنے خود کو کتنا جھکایا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب شور میں نہیں، خاموشی میں ملتا ہے۔ خاص طور پر سال کی آخری رات، جب سب کچھ تھم جاتا ہے اور انسان اپنے آپ سے نظریں ملانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اس لمحے کو آتش بازی اور شور میں ضائع کر دیتے ہیں، تاکہ اندر کی آواز سنائی نہ دے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ آواز پھر بھی باقی رہتی ہے۔
جب 2025 رخصت ہوا تو وہ ہمیں یہ احساس دے گیا کہ اصل دولت وقت ہے اور اصل خسارہ وقت کا ضیاع۔ اس نے ہمیں بتایا کہ نیکی کا موقع کبھی بھی چھوٹا نہیں ہوتا اور برائی کا جواز کبھی بھی مضبوط نہیں ہوتا۔ اس نے یہ بھی سکھایا کہ تبدیلی کا آغاز کیلنڈر سے نہیں، نیت سے ہوتا ہے۔ نیا سال نیا موقع ضرور لاتا ہے، مگر وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو پرانے سال کے اسباق کو ساتھ لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ جو لوگ صرف تاریخ بدلنے پر اکتفا کرتے ہیں، ان کی کہانی ہر سال وہی رہتی ہے۔
2025 اب ہماری زندگی کا حصہ نہیں، مگر وہ ہمارے اعمال کے اثرات چھوڑ کر جا چکا ہے۔ کچھ زخم شاید وقت بھر دے، کچھ یادیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی اور کچھ فیصلے پوری زندگی کا رخ متعین کریں گے۔ یہ سال ہمیں خاموشی سے سمجھا گیا کہ زندگی محدود ہے، مہلت مختصر ہے اور واپسی کا راستہ یقینی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ 2025 کیسا تھا، بلکہ یہ ہے کہ ہم 2025 میں کیسے تھے۔ اگر ہم اس سوال کا سچا جواب ڈھونڈ لیں، تو شاید آنے والے سال ہمارے لیے واقعی نئے ثابت ہوں۔
الوداع 2025۔ تم گزر گئے، مگر تمہارا حساب باقی ہے۔ ہماری یادوں میں بھی، ہمارے ضمیر میں بھی اور اس رب کے حضور بھی جو وقت کا بھی مالک ہے اور ہمارے دلوں کا بھی۔

