Tuesday, 20 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Beijing Book Fair: Insani Zindagi Aur Kitab

Beijing Book Fair: Insani Zindagi Aur Kitab

بیجنگ بک فیئر: انسانی زندگی اور کتاب

بیجنگ، چین میں 2026 کا بیجنگ بک فیئر جنوری کی پہلی جمعرات کے روز شروع ہوا، جہاں چار لاکھ سے زائد کتابوں کے عنوانات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس سال کے اس عظیم الشان کتابی میلے میں دس سے زیادہ موضوعاتی زون قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف ثقافتی مصنوعات کے لیے بھی ایک علیحدہ نمائشی حصہ رکھا گیا ہے۔ یہ میلہ نہ صرف کتاب دوستوں کے لیے ایک تہوار کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ علم، تہذیب اور تخلیقی سوچ کے فروغ کی ایک علامت بھی ہے۔ جب ہم ایسے مناظر دیکھتے ہیں جہاں لوگ قطار در قطار کتابوں کے اسٹالز کے سامنے رکے ہوئے ہیں، صفحات پلٹ رہے ہیں، سوال کر رہے ہیں اور نئے خیالات سمیٹ رہے ہیں تو ہمیں شدت سے احساس ہوتا ہے کہ کتاب محض کاغذ اور سیاہی کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کی فکری تاریخ، اس کے تجربات اور اس کی اجتماعی دانش کا امین ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قوموں کی ترقی اور زوال کے درمیان فرق صاف دکھائی دینے لگتا ہے، کیونکہ جو معاشرے کتاب سے جڑے رہتے ہیں وہ وقت کی دھول میں گم نہیں ہوتے بلکہ تاریخ میں اپنی روشن لکیر کھینچ جاتے ہیں۔

انسانی زندگی میں کتاب کی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں ہم اس اہمیت کو بھولتے جا رہے ہیں۔ موبائل اسکرینوں کی چکاچوند نے ہماری آنکھوں کو تو مسحور کر لیا ہے مگر دل و دماغ کی وہ گہرائی پیدا نہیں کر سکی جو ایک کتاب کے خاموش مطالعے سے پیدا ہوتی ہے۔ کتاب انسان کو رک کر سوچنا سکھاتی ہے، سوال اٹھانے کا حوصلہ دیتی ہے اور پھر ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کا شعور بھی بخشتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی تہذیبیں، خواہ وہ قدیم یونان ہوں، بغداد کا بیت الحکمہ ہو یا چین کی شاہی لائبریریاں، سب نے اپنی بنیاد کتاب ہی پر رکھی۔ بیجنگ بک فیئر جیسے میلوں کی اصل قدر یہی ہے کہ وہ ہمیں بار بار یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہم نے مستقبل کو روشن بنانا ہے تو ہمیں حال میں کتاب سے دوستی کرنی ہوگی، کیونکہ جو قومیں مطالعہ ترک کر دیتی ہیں وہ رفتہ رفتہ اپنی فکری خودمختاری بھی کھو بیٹھتی ہیں۔

کتاب انسان کو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ اسے ایک بہتر انسان بھی بناتی ہے۔ ادب پڑھنے والا شخص دوسروں کے دکھ درد کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے، تاریخ کا مطالعہ کرنے والا حال کے فیصلوں میں زیادہ محتاط ہو جاتا ہے اور سائنس پڑھنے والا فطرت کے قوانین کو سمجھ کر زندگی کو آسان بنانے کے نئے راستے نکالتا ہے۔ یوں کتاب فرد کی ذات سے نکل کر پورے معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں کتاب میلے محض ثقافتی تقریبات نہیں بلکہ قومی پالیسی کا حصہ ہوتے ہیں۔ وہاں حکومتیں، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر کتاب کی ترویج کے لیے کام کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس سرمایہ کاری کا منافع فوری طور پر نہیں بلکہ نسلوں کے سفر میں سامنے آتا ہے۔ بیجنگ بک فیئر میں چار لاکھ سے زائد کتابوں کی نمائش دراصل اسی شعور کا عملی اظہار ہے کہ علم کو جتنا زیادہ عام کیا جائے گا، معاشرہ اتنا ہی مضبوط اور پائیدار ہوگا۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اکثر کتاب کو محض امتحان پاس کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ کتاب زندگی کو سمجھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسکول اور کالج کے دنوں میں جب نصابی کتابیں ختم ہو جاتی ہیں تو اکثر لوگ مطالعہ بھی چھوڑ دیتے ہیں، جیسے کہ علم کا دروازہ صرف ڈگری کے ساتھ ہی بند ہوگیا ہو۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اصل مطالعہ تو وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں نصاب ختم ہوتا ہے۔ وہیں سے انسان اپنے شوق، تجسس اور خوابوں کی دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ بیجنگ بک فیئر جیسے عالمی ایونٹس ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ کتاب کو صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے گھروں، بازاروں اور عوامی مقامات تک لے جائیں۔ جب بچے اپنے والدین کو کتاب پڑھتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں بھی مطالعے کا شوق پیدا ہوتا ہے اور یوں ایک ایسا سلسلہ جنم لیتا ہے جو آنے والی نسلوں کو بھی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔

آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے، وہاں اصل مسئلہ علم کی کمی نہیں بلکہ حکمت کی کمی ہے اور حکمت وہ دولت ہے جو کتاب کے گہرے مطالعے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا ہمیں لمحاتی جذبات دیتا ہے، مگر کتاب ہمیں دیرپا سوچ عطا کرتی ہے۔ فوری ردعمل کے اس زمانے میں کتاب ہمیں تحمل سکھاتی ہے، اختلاف کے اس شور میں ہمیں برداشت سکھاتی ہے اور انتشار کے اس ماحول میں ہمیں یکسوئی عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے رہنما، عظیم مفکر اور کامیاب انسان ہمیشہ کتاب کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جس دن انسان نے پڑھنا چھوڑ دیا، اس دن اس کی فکری نشوونما رک جاتی ہے۔ بیجنگ بک فیئر کی تصویروں میں جب ہم لوگوں کو کتابوں کے درمیان کھوئے ہوئے دیکھتے ہیں تو دراصل ہمیں انسان کی اس ازلی پیاس کی جھلک نظر آتی ہے جو علم کے بغیر کبھی بجھ نہیں سکتی۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ دنیا میں کتنے کتاب میلے منعقد ہو رہے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے معاشروں میں کتاب کے لیے کتنی جگہ بنا رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب کو اپنی زندگی کے مرکز میں لانا ہوگا۔ گھروں میں چھوٹی سی لائبریری، اسکولوں میں مطالعہ کا وقت اور شہروں میں کتاب میلے، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں علم ایک معمول بن جاتا ہے، نہ کہ ایک استثنا۔ بیجنگ بک فیئر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں اپنی تقدیر بندوقوں یا نعروں سے نہیں بلکہ کتابوں سے بدلتی ہیں۔ جو ہاتھ کتاب تھام لیتا ہے، وہ نفرت چھوڑ دیتا ہے، جو ذہن مطالعے سے روشن ہو جاتا ہے، وہ تعصب سے آزاد ہو جاتا ہے اور جو دل علم کی روشنی میں دھڑکنے لگتا ہے، وہ انسانیت کی خدمت کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ یہی کتاب کی اصل قیمت ہے، یہی اس کی اصل طاقت اور یہی انسانی زندگی میں اس کا سب سے بڑا مقام۔

کتاب کی بات ہو تو گویا انسان کی پوری فکری تاریخ آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ یہ وہ خاموش استاد ہے جو نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ شعور، تحمل اور انسان دوستی بھی سکھاتا ہے۔ اسی لیے جب ہم کتاب کو اپناتے ہیں تو دراصل ہم اپنے بہتر مستقبل کا انتخاب کرتے ہیں۔

کتاب کھولی تو دل کو راستہ مل گیا
اندھیروں میں بھی اک چراغ سا جل گیا

جو لفظ لفظ میں چھپی تھی زندگی کی بات
وہی پڑھا تو مجھے اپنا ہی حال مل گیا

نہ شور، نہ ہجوم، بس خامشی کی دعا
کتاب ساتھ رہی تو سکونِ لافنا مل گیا

جو قوم حرف سے رشتہ نبھا لے عمر بھر
اسی کے نام زمانے کا کمال مل گیا

Check Also

Mujra Aik Latt, Mujra Aik Lazzat

By Azhar Hussain Bhatti