Sunday, 18 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Alag Sa Magar Apna, Usman Khawaja Ki Kahani

Alag Sa Magar Apna, Usman Khawaja Ki Kahani

الگ سا مگر اپنا، عثمان خواجہ کی کہانی

کرکٹ کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف رنز اور ریکارڈ کی وجہ سے یاد نہیں رکھے جاتے بلکہ اس لیے بھی کہ وہ اپنے عہد میں ایک مختلف علامت بن جاتے ہیں۔ عثمان خواجہ انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔ وہ آسٹریلیا کے لیے کھیلے، مگر صرف آسٹریلوی کرکٹر نہیں رہے۔ وہ ایک کہانی تھے، ایک سفر تھے، ایک علامت تھے۔ اس مطلب کی علامت کہ کھیل صرف گیند اور بلے کا رشتہ نہیں، شناخت اور وقار کا بھی نام ہے۔

عثمان خواجہ کا کیریئر بظاہر دوسرے عظیم آسٹریلوی کھلاڑیوں جیسا ہی لگتا ہے، مگر ذرا گہرائی میں جائیں تو یہ راستہ باقیوں سے بالکل جدا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے 88 ٹیسٹ میچوں میں سے صرف 37 انگلینڈ اور بھارت کے خلاف کھیلے گئے۔ یہ وہ دو ٹیمیں ہیں جن کے مقابلے کو آسٹریلوی کرکٹ میں سب سے بڑی آزمائش سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر جدید آسٹریلوی کھلاڑیوں کا کیریئر انہی سیریز سے پہچانا جاتا ہے۔ ایشز اور بارڈر گاوسکر ٹرافی۔ مگر عثمان خواجہ کی شناخت ان مقابلوں تک محدود نہ رہی۔ ان کا کیریئر ان بڑے مقابلوں سے کم اور اپنے اندرونی سفر سے زیادہ پہچانا گیا۔

یہ محض اعداد و شمار کی بات نہیں، یہ ایک مزاج کی بات ہے۔ اسٹیو اسمتھ کو ہم یاد کرتے ہیں تو ذہن میں فوراً ایشز کی سنچریاں آتی ہیں۔ ڈیوڈ وارنر کا ذکر ہو تو اسی تناظر میں ان کی کامیابیاں اور ناکامیاں گنی جاتی ہیں۔ مگر عثمان خواجہ کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کے ساتھ کوئی ایک سیریز، کوئی ایک میدان، کوئی ایک لمحہ چپک کر نہیں رہتا۔ وہ ایک مکمل کہانی ہیں۔ جس میں ہجرت بھی ہے، شناخت کی تلاش بھی، قبولیت کی جدوجہد بھی اور پھر عزت کی فتح بھی۔

عثمان خواجہ کی پیدائش پاکستان میں ہوئی۔ بچپن میں والدین کے ساتھ آسٹریلیا گئے۔ ایک ایسے ملک میں پرورش پائی جہاں کرکٹ صرف کھیل نہیں، قومی فخر ہے۔ مگر وہ اس فخر کے سانچے میں فوراً فٹ نہیں بیٹھتے تھے۔ ان کا نام الگ تھا، چہرہ الگ تھا، لہجہ الگ تھا۔ وہ اس ٹیم میں آئے جس کی تاریخ میں روایتی آسٹریلوی شناخت گہری جڑیں رکھتی تھی۔ سفید لباس، سخت لہجہ، جارحانہ انداز اور اس سب کے بیچ ایک نرم گفتار، مسکراتا ہوا، شائستہ سا نوجوان، جو میدان میں بیٹ اٹھاتا تو کھیل کے ساتھ تہذیب بھی لے آتا۔

ان کے کیریئر کا آغاز بھی سیدھی لکیر نہیں تھا۔ کبھی ٹیم میں آئے، کبھی باہر ہوئے۔ کبھی اچھی اننگز کھیل کر بھی اگلی سیریز میں نظر انداز کر دیے گئے۔ کبھی فارم کی بات ہوئی، کبھی کمبینیشن کی۔ مگر دراصل یہ سب اس جدوجہد کا حصہ تھا جو وہ صرف اپنی جگہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی شناخت منوانے کے لیے کر رہے تھے۔ وہ صرف ٹیم میں جگہ نہیں چاہتے تھے، وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ آسٹریلیا کا کرکٹر صرف ایک خاص شکل یا ایک خاص لہجے کا محتاج نہیں۔

عثمان خواجہ کا سب سے بڑا امتحان شاید وہ وقت تھا جب انہیں اوپننگ کی ذمہ داری دی گئی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اوپن کرنا ایسے ہی ہے جیسے اندھیرے میں چراغ لے کر چلنا۔ نئی گیند، تازہ پچ، تازہ دم تیز گیند باز اور سامنے ایک بیٹسمین جسے نہ صرف اپنی وکٹ بچانی ہوتی ہے بلکہ ٹیم کو راستہ بھی دکھانا ہوتا ہے۔ خواجہ نے یہ کردار اس خاموش وقار کے ساتھ نبھایا جو ان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ نہ زیادہ شور، نہ غیر ضروری جارحیت۔ بس ٹھہراؤ، صبر اور کلاس۔

ان کی اننگز اکثر اس طرح بنتی تھیں جیسے کوئی اچھا لکھاری آہستہ آہستہ کہانی سناتا ہے۔ ابتدا میں چند جملے، پھر منظر واضح ہونا شروع ہوتا ہے، پھر کرداروں کی آمد اور آخر میں ایک مکمل تصویر۔ وہ جلدی میں نہیں ہوتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کرکٹ میں بھی بعض کہانیاں وقت مانگتی ہیں۔ ان کے بلے سے نکلنے والا ہر اسٹروک چیخ کر نہیں بولتا تھا، وہ دھیرے سے دل میں اترتا تھا۔

لیکن عثمان خواجہ کی اصل پہچان صرف ان کی بیٹنگ نہیں بنی، بلکہ ان کا کردار بنا۔ وہ آسٹریلیا کی تاریخ کے پہلے مسلم کرکٹر تھے جنہوں نے مستقل جگہ بنائی۔ وہ پہلے آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر تھے جنہوں نے عوامی طور پر فلسطین کے لیے آواز اٹھائی، جنہوں نے میدان میں جوتوں پر پیغامات لکھے، جنہوں نے بتایا کہ کرکٹر ہونا خاموش رہنے کا نام نہیں، بلکہ صحیح وقت پر بولنے کا نام بھی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عثمان خواجہ صرف کھلاڑی نہیں رہے، ایک علامت بن گئے۔

ان کا یہ رویہ بھی ان کی "apartness" کو واضح کرتا ہے۔ وہ ٹیم کا حصہ تھے مگر بھیڑ کا حصہ نہیں تھے۔ وہ سسٹم میں تھے مگر سسٹم کا عکس نہیں تھے۔ وہ روایت میں تھے مگر روایت کے قیدی نہیں تھے۔ ان کے لیے کرکٹ صرف اسکور بورڈ کا کھیل نہیں تھی بلکہ انسان ہونے کا اظہار بھی تھی۔

ان کے کیریئر میں کئی ایسی اننگز آئیں جنہوں نے انہیں ہیرو بنا دیا، مگر شاید ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ وہ دلوں کے ہیرو بنے۔ وہ ان بچوں کے لیے امید بنے جو مختلف پس منظر سے آتے ہیں، جو کسی اور ملک میں جا کر خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں، جو سوچتے ہیں کہ شاید یہ میدان ان کے لیے نہیں۔ عثمان خواجہ نے خاموشی سے کہا: یہ میدان سب کا ہے، اگر تم ہمت رکھو۔

جب ان کا کیریئر اختتام کو پہنچا تو اعداد و شمار اپنی جگہ اہم تھے، مگر اصل میراث وہ تھی جو کاغذ پر نہیں لکھی جا سکتی۔ وہ میراث یہ تھی کہ انہوں نے آسٹریلوی کرکٹ کی تعریف بدل دی۔ اب آسٹریلوی کرکٹر صرف وہ نہیں جو مخصوص انداز میں بولے، مخصوص انداز میں کھیلے، بلکہ وہ بھی ہے جو اپنی پہچان کے ساتھ میدان میں اترے اور اسی پہچان کے ساتھ جیتے۔

عثمان خواجہ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی میں اصل کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ آپ کہاں پہنچتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ آپ وہاں پہنچ کر کیا بن جاتے ہیں۔ وہ آسٹریلیا کی ٹیم میں آئے تو ایک مختلف نام تھے، رخصت ہوئے تو ایک مکمل داستان بن کر۔ ایک ایسی داستان جو بتاتی ہے کہ کبھی کبھی انسان ٹیم کا حصہ ہوتے ہوئے بھی الگ ہوتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

وہ واقعی "a part but apart" تھے، ٹیم کا حصہ بھی اور اپنی شناخت میں سب سے جدا بھی۔

کچھ لوگ میدان میں آ کر صرف کھیل نہیں دکھاتے، وہ اپنے ہونے کا مفہوم بدل دیتے ہیں۔ عثمان خواجہ بھی انہی میں سے ہیں۔ ان کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی شور میں نہیں، خاموش استقامت میں ہوتی ہے۔ جو شخص اپنی پہچان کے ساتھ جیتا ہے، وہ ہار اور جیت دونوں سے بلند ہو جاتا ہے۔

وہ کھیل میں بھی وقار کی مثال بن کے آیا
لبوں پہ مسکاں، دل میں کمال بن کے آیا

نہ شور چاہا، نہ داد کی طلب کی اس نے
وہ اپنے ہونے کا اک سوال بن کے آیا

اندھیری رات میں بھی روشنی بکھیر گیا
وہ اجنبی سا مگر آشنا بن کے آیا

زمانہ جس کو الگ کہہ کے ٹال دیتا تھا
وہی تو وقت کی سب سے بڑی مثال بن کے آیا

وہ ٹیم میں رہ کے بھی سب سے جدا نظر آیا
کمال یہ ہے کہ خود اپنی مثال بن کے آیا

Check Also

Choti Chot Nekiyan Aur Bare Bare Mojze

By Javed Chaudhry