Nigah Mein Bulandi Laayen
نگاہ میں بلندی لائیں
زندگی میں خواہشات کی رمق باقی نہ رہے توانسانی وجود مردار کی سی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ دل و دماغ پر جمود طاری کرنے والے شخص کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک جپسی نے اپنے مقام یا منزل کی دلفریبی میں الجھ کر اسی مقام پر پڑاؤ ڈال لیا اور سفر کے ارادے کو ترک کرکے اپنی خانہ بدوش کی سی روش کو خیر باد کہ دیا ہو۔
روز مرہ زندگی میں ہم انسان بھی تو یہی کرتے ہیں اپنے ذہن کو قناعت پسندی کے مفہوم پر آمادہ کرتے ہوئے کسی ایک ہی مقام پر پڑاؤ ڈال لیتے ہیں اور اس بات پر حق بجانب ہوتے ہیں کہ زندگی کی آبلاپائی تمام ہوئی اور اب ہماری متعین منزل آن پہنچی ہے۔ ترقی کے تمام رستےمسدود ہو چکے ہیں اور ہم اپنی زندگی کا مقصد پا چکے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ سفر تعلیمی ہو، پیشہ ورانہ شعبے میں ہو یا شعور کی منازل طے کرنے کا ہو، سکونت تو سفر کی ضد ہوتی ہے نا اور جو رک جا ئے وہ کاہےکا مسافر۔۔
بقول شاعر
چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹھرے ذرا، کچل گئے ہیں
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بصارت کےساتھ بصیرت کی بینائی بھی عطا کی ہے تاکہ ہم زندگی کے سفر میں اپنے رب کی زمین پر پھیلی ہوئی نشانیوں پر غور و فکر اور مشاہدہ حق کی مشق جاری رکھ سکیں۔ اپنی نگاہ میں وہ بلندی لائیں کہ مظہرِ کائنات میں پنہاں راز دیدہ بینا پر افشاں ہوتے چلیں جائیں۔ کسی بھی منزل پر رسائی کے بعد بھی اپنے اندر نگاہِ جستجو کو بلند رکھا جائے کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔
بقول شاعرِ مشرق۔۔
منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر
اپنی طلب کا کاسہ خدا کے سامنے رکھتے ہوئے طویل آزمائیش کو صبر سے جھیلا جائے کہ جتنی بڑی طلب ہوگی اتنا ہی کٹھن اور خار دار امتحان ہوگا۔
متعلقہ شعبے سے وابستہ عرفان کے حصول کے لئے جہدِ مسلسل جاری رکھی جائےکیونکہ کامیاب شخص ہی تاریخ کے سنہری پنوں میں اپنا نام رقم کر پاتے ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے
تاریخ اقوام کو نہیں افراد کو دوام بخشتی ہے۔۔

