Monday, 15 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Arbaz Raza Bhutta
  4. Gilgit Baltistan Intikhabat 2026, Naaron Ki Goonj Mein Manshoor Ghaib

Gilgit Baltistan Intikhabat 2026, Naaron Ki Goonj Mein Manshoor Ghaib

گلگت بلتستان انتخابات 2026ء، نعروں کی گونج میں منشور غائب

گلگت بلتستان میں 7 جون 2026ء کو قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمول کا جمہوری عمل ہے، مگر خطے کی جغرافیائی، سیاسی اور بین الاقوامی حیثیت کے باعث یہ انتخابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کی نظریں اس انتخابی عمل پر مرکوز ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس مرتبہ رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 480 ہے، جن میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین شامل ہیں۔ ووٹنگ کے لیے 2 ہزار 450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جبکہ 7 ہزار 678 اہلکار انتخابی فرائض انجام دیں گے۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل اور 9 مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ 24 جنرل نشستوں کے لیے 396 امیدوار میدان میں ہیں اور اسمبلی میں 17 ووٹ حاصل کرنے والی جماعت وزیراعلیٰ منتخب کرتی ہے۔ سب سے زیادہ مقابلہ گلگت حلقہ GBA-2 میں ہے جہاں 58 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جبکہ دیامر کے ایک حلقے میں 11 امیدوار میدان میں ہیں۔

گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ یہاں اکثر وہی جماعت اقتدار میں آتی ہے جس کی حکومت اسلام آباد میں ہو۔ 2009ء میں پیپلز پارٹی، 2015ء میں مسلم لیگ ن اور 2020ء میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی۔ تینوں مرتبہ مرکز اور گلگت بلتستان میں ایک ہی جماعت براجمان تھی۔ 2023ء میں خالد خورشید جعلی ڈگری کے مقدمے میں نااہل ہوئے اور پھر پی ٹی آئی فارورڈ بلاک اور دیگر جماعتوں کے اشتراک سے حاجی گلبر خان وزیراعلیٰ بنے۔ یہ سیاسی کھیل عوام کی خدمت کم اور اقتدار کی چھینا جھپٹی زیادہ رہا ہے۔

اس بار انتخابی مہم میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی رہنما بھرپور انداز میں سرگرم رہے۔ نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور خواجہ سعد رفیق نے گلگت بلتستان میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کو گرفتار کرکے گلگت بلتستان سے نکال دیا گیا، اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ کو انتخابی مہم کے لیے گلگت آنے کی اجازت نہ دی گئی۔ تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان سے بھی محروم ہے اور اس کے امیدوار مختلف نشانات کے تحت میدان میں ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بدستور زیر بحث ہے کہ کیا تمام جماعتوں کو یکساں انتخابی مواقع میسر ہیں؟ کیونکہ انتخابات کی شفافیت کا تعلق صرف پولنگ ڈے سے نہیں بلکہ پورے انتخابی عمل سے ہوتا ہے۔

انتخابی جلسوں میں نعروں کی گونج تو سنائی دیتی ہے، مگر بیشتر جماعتیں گلگت بلتستان کے لیے کوئی جامع اور قابلِ عمل منشور پیش کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ عوام کے اصل مسائل وہی ہیں جو گزشتہ کئی انتخابات سے چلے آ رہے ہیں۔ بجلی کا شدید بحران، صحت کی ناکافی سہولتیں، دور دراز علاقوں میں خستہ حال سڑکیں، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی۔ یہ خطہ قدرتی وسائل، سیاحت اور جغرافیائی اہمیت سے مالامال ہے، مگر عوام پھر بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ انتخابی وعدوں کے باوجود ان مسائل کے مستقل حل کے لیے کوئی واضح روڈ میپ کم ہی نظر آتا ہے۔

گلگت بلتستان صرف ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ پاکستان کا ایک انتہائی حساس اور اسٹریٹجک خطہ ہے جو مسئلہ کشمیر کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں کے انتخابات پاکستان کے جمہوری تشخص اور کشمیر کے مقدمے سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے 1987ء کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ ایک ناقابلِ فراموش سبق فراہم کرتی ہے۔ اس وقت وہاں انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات سامنے آئے۔ یہ بات یاد رہے کہ 1987ء سے پہلے کشمیری عوام کا ایک بڑا طبقہ سیاسی عمل سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھا۔ پاکستان میں مارشل لاء کے باعث جمہوریت کمزور تھی اور کشمیری عوام کا رخ بڑی حد تک ہندوستانی سیاسی دھارے کی طرف تھا۔ مگر جب انتخابی عمل کی ساکھ پر سوالات اٹھے تو حالات نے یکلخت پلٹا کھایا۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جمہوری سیاست سے مایوس ہوگئی، "کشمیر بنے گا پاکستان" کے نعرے گونجنے لگے اور ایک دھاندلی زدہ انتخاب نے پوری وادی کی سیاست اور سلامتی کو یکسر بدل دیا۔ جس کا خمیازہ بھارت آج تک بھگت رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اس تجربے میں ایک واضح سبق موجود ہے۔ اگر ہم دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام کو آزادانہ اور منصفانہ حقِ رائے دہی ملنا چاہیے، تو پھر گلگت بلتستان کے انتخابات کو شفافیت، سیاسی مساوات اور عوامی اعتماد کی ایک مثال بنانا ہوگا ایسا انتخاب جس کے نتائج ہی نہیں بلکہ پورا انتخابی عمل بھی ہر قسم کے سوالات سے بالاتر ہو۔ الیکشن کمیشن، عدلیہ، فوج اور میڈیا سب کی ذمہ داری یکساں ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام سے بھی گزارش ہے کہ ووٹ کو امانت سمجھیں، خریدے نہ جائیں، دھمکایے نہ جائیں اور اپنے علاقے کے سچے نمائندوں کو منتخب کریں کیونکہ یہ ووٹ صرف آج کے پانچ سال کا نہیں، یہ اس خطے کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ضامن ہے۔

7 جون کو گلگت بلتستان کے عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے، لیکن اصل کامیابی کسی جماعت کی جیت یا ہار نہیں بلکہ ایک ایسے انتخابی عمل کا انعقاد ہوگا جو عوام کے اعتماد کو مضبوط کرے اور دنیا کو یہ پیغام دے کہ حساس اور متنازع خطوں میں جمہوریت ہی مسائل کا پائیدار حل ہے۔

About Arbaz Raza Bhutta

Arbaz Raza (known as Arbaz Raza Bhutta) is a student, journalist, and columnist. He currently works with Suno News, Dunya News, and The News International, and has previously written for Urdu Point, Daily Urdu Columns, Hamari Web, and other national newspapers. Follow him on Twitter @ArbazReza01.

Check Also

Akhir Naya Budget Kya Relief Laya Hai?

By Arbaz Raza Bhutta