Wednesday, 03 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ammar Riaz Chohan
  4. Pakistan He Kyun?

Pakistan He Kyun?

پاکستان ہی کیوں؟

گزشتہ چند ہفتوں میں امریکی میڈیا، یورپی میڈیا اور مشرقِ وسطیٰ کے میڈیا میں ایک سوال گردش کر رہا تھا کہ آخر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار پاکستان ہی کیوں ادا کر رہا ہے؟ آخر پاکستان میں ایسی کون سی بات ہے کہ امریکہ کا صدر بھی پاکستان کی تعریف کر رہا ہے اور ایران کا صدر بھی پاکستان کی تعریف کر رہا ہے؟ دیکھیے تو سہی، پاکستان اتنا اہم کیسے بنتا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کو پاکستان سے بات کرنی پڑ گئی۔

یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان کی اہمیت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ دونوں نے مل کر ایران پر حملہ کیا تو ان کو لگا تھا کہ ہم ایران میں بھی وینزویلا کی طرح چٹکی بجاتے ہی رجیم چینج کر دیں گے۔ لیکن ان کا یہ خیال اس وقت زمین بوس ہوا جب انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر اور ایران میں موجود ایک گرلز اسکول پر حملہ کرکے 160 سے زائد بچیوں کو شہید کر دیا۔ ایران کی قوم نے جب یہ شہادتیں دیکھیں تو وہ متحد ہوگئی اور سڑکوں پر نکل آئی۔

پھر جب ایران نے امریکہ کے خلیجی ممالک میں موجود فوجی اڈوں پر جوابی حملے شروع کیے اور ایران نے ایک امریکی F-16 طیارہ گرانے کا دعویٰ کیا، جس کی بعد میں پینٹاگون نے تردید کی، تو ڈونلڈ ٹرمپ کو احساس ہوا کہ یہ تو اسرائیل نے میرے ساتھ دھوکہ کر دیا ہے۔

یہ وہ موقع تھا جب اس کو اس جنگ سے نکلنے کے لیے پاکستان سے رابطہ کرنا پڑ گیا۔ آخر ٹرمپ نے پاکستان سے ہی کیوں رابطہ کیا؟ ٹرمپ کے خیال میں پاکستان کی جو فوجی اور سیاسی طاقت ہے، اس کے ایران کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں کیونکہ پچھلے سال بھی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے ایران کی مکمل حمایت اور ایران پر حملے کی مذمت کا اعلان کیا تھا، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی ایران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کے آس پاس موجود ممالک اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ وہ ایران کو راضی کر سکیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کرے۔

جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ہمارے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار صاحب اس وقت سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ جب ان کو وہاں اس حملے کی اطلاع ملی تو انہوں نے فوراً سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر حملے کی مذمت کر دی۔ پھر جب ایران نے جوابی حملے شروع کیے تو پاکستان نے اس کی بھی مذمت کر دی۔ تو ٹرمپ کو لگا کہ پاکستان نہ ہمارے ساتھ ہے اور نہ ہی ایران کے ساتھ، بلکہ درمیان میں کھڑا ہے۔

اب پاکستان نے ایران کے ساتھ بات چیت شروع کر دی۔ پاکستان کی بہت ساری کوششوں کے بعد بالآخر ایران نے بات چیت کے لیے حامی بھر لی۔ ایران کی طرف سے بھی کچھ شرائط پیش کی گئیں اور دوسری طرف امریکہ نے بھی اپنی شرائط پیش کیں۔ جب دنیا نے یہ دیکھا تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان تو Messenger اور Postman کا کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکہ کی بات تو ہوگئی کہ اس کو اس جنگ سے نکلنے کے لیے پاکستان کی ضرورت پڑی تھی، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ایران نے پاکستان پر اعتماد کیوں کیا؟

اس کی ایک وجہ تو پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ پاکستان نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرکے ایران پر یہ ظاہر کر دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کبھی سفارتی تعلقات نہیں رہے۔ پاکستان ہمیشہ اسرائیل کی ناجائز کارروائیوں کی مذمت کرتا آیا ہے۔ اسی وجہ سے ایران نے پاکستان کو ایک موقع دینے کا سوچا۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ جب ان کے سپریم لیڈر کو شہید کر دیا گیا تو انہوں نے دیکھا کہ پاکستان کی عوام اور حکومت نے کھل کر اس کی مذمت کی ہے۔ اسی بنا پر ایران نے پاکستان پر اعتماد کر لیا۔

پھر آپ نے دیکھا کہ امریکہ اور ایران کے وفود اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آئے۔ لیکن جب کسی بریک تھرو کی امید کی جا رہی تھی تو امریکی وفد اٹھ کر چلا گیا۔ پھر دوسری بار بھی اسلام آباد میں مذاکرات کی بات چیت ہوئی اور ٹرمپ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ خود پاکستان آئیں گے۔ لیکن جب ایران کے وفد کے نہ آنے کی خبر آئی تو ٹرمپ کو ایران کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کے بغیر چین کا دورہ کرنا پڑا، جو ناکام رہا۔

ابھی گزشتہ دنوں کی ہی بات ہے کہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ٹرمپ نے محاصرہ ختم کرنے کا اعلان کیا اور اپنی فوجوں کو گھر واپس آنے کا کہہ دیا۔

مختصراً یہ کہ امریکہ کو اس جنگ سے نکلنے کے لیے، جس میں اس کو اسرائیل نے پھنسا دیا تھا، پاکستان کی ضرورت پڑ گئی تھی۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ ہم اس جنگ سے نکل بھی جائیں اور یہ بھی ظاہر نہ ہو کہ ہمیں شکست ہوئی ہے۔ اسی طرح ایران بھی خود جنگ نہیں چاہتا تھا، لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ دنیا اسے ایک شکست خوردہ ریاست کے طور پر دیکھنا شروع کر دے۔ کیونکہ اگر ایران آج کمزوری دکھاتا ہے تو کل اس کے خلیجی ممالک کے ساتھ بھی معاملات خراب ہو سکتے ہیں۔

"پاکستان ہی کیوں؟" کا جواب یہ ہے کہ دونوں ریاستوں کو اس جنگ سے عزت کے ساتھ نکلنے اور خود کو مستحکم ریاستوں کے طور پر ظاہر کرنے کے لیے پاکستان کی ضرورت پڑ گئی تھی۔

اب جب اس سوال کا جواب مل گیا ہے تو یہ سوال بھی بنتا ہے کہ آخر پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے اتنی دلچسپی کیوں دکھائی؟ اس کا جواب، ان شاء اللہ، اگلے کالم میں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

ابھی کے لیے خدا حافظ!

Check Also

Hafizabad Ko University, Sheikhupura Mehroom Kyun?

By Muhammad Riaz