Sunday, 05 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Cryptocurrency, Bilal Bin Saqib Aur Pakistan Ki Salisi

Cryptocurrency, Bilal Bin Saqib Aur Pakistan Ki Salisi

کرپٹو کرنسی، بلال بن ثاقب اور پاکستان کی ثالثی

دنیا کے ایک مشھور عالمی میڈیا، فنانشل ڈیٹا اور نیوز کمپنی Bloomberg ہے جو خاص طور پر کاروبار، معیشت، سیاست اور مارکیٹس کی خبریں فراہم کرتی ہے، اس نے 30 مارچ 2026 کو ایک خبر شائع کی ہے، جس سے پاکستان کی ایران امریکہ اسرائیل جنگ میں ثالثی کے کردار کا ذکر ایک 35 سالہ پاکستانی نوجوان کے ذریعے بتایا گیا ہے تو آ ئیے چلتے ہیں۔

دنیا آج تیزی سے بدل رہی ہے اور اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں کرپٹو کرنسی نہ صرف سرمایہ کاری کا ذریعہ بنی ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک طاقتور ہتھیار بھی بن گئی ہے۔ پاکستان کے نوجوان بلال بن ثاقب نے اس نئے اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ملک کی اقتصادی شناخت مضبوط کی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے ایک اہم ثالثی کردار بھی ادا کیا۔

آئیے سب سے پہلے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی ہے کیا۔ کرپٹو کرنسی، ایک ایسا پیسہ ہے جو صرف انٹرنیٹ پر موجود ہوتا ہے۔ یہ نہ نوٹ ہوتا ہے نہ سکے، بلکہ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوتا ہے۔ آپ اسے موبائل یا کمپیوٹر میں دیکھ سکتے ہیں، لیکن ہاتھ سے پکڑ نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر JazzCash یا Easypaisa میں آپ کے پیسے ایک کمپنی یا بینک کے ذریعے محفوظ ہوتے ہیں، لیکن کرپٹو کرنسی کسی ایک بینک یا کمپنی کے کنٹرول میں نہیں ہوتی۔ یہ پوری دنیا میں چلتی ہے اور آپ اسے پاکستان سے کسی دوسرے ملک بھیج سکتے ہیں، وہ بھی بغیر بینک کے مداخلت کے۔

کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سیکیورٹی ہے۔ یہ خاص کوڈز اور محفوظ نظام، جسے blockchain کہتے ہیں، کے ذریعے محفوظ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کرپٹو کی قیمت مسلسل اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے، یعنی آج مہنگا، کل سستا۔ اسی لیے بہت سے لوگ اس میں سرمایہ کاری یا investment کرتے ہیں۔ سب سے پہلا اور مشہور کرپٹو Bitcoin ہے، جس نے دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسی کی بنیاد رکھی۔ ایک جملے میں کہا جائے تو کرپٹو کرنسی ایک ایسا پیسہ ہے جو صرف انٹرنیٹ پر موجود ہے اور کسی بینک کے کنٹرول میں نہیں ہوتا۔

اب تھوڑا ذکر ہو جائے بلال بن ثاقب کا۔

بلال بن ثاقب لاہور، پاکستان کے رہائشی ہیں اور 35 سال کے ہیں۔ انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے ماسٹرز کیا اور پہلے مختلف چھوٹے کام کیے، جیسے اسٹور چلانا تاکہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔ وہ سماجی خدمات میں بھی فعال رہے، Tayaba فاؤنڈیشن کے ذریعے غریب خواتین کو صاف پانی فراہم کیا اور COVID-19 کے دوران One Million Meals مہم میں حصہ لیا، جس پر انہیں برطانیہ کی شاہی فیملی اور وزیر اعظم Boris Johnson نے سراہا۔ کرپٹو کرنسی میں دلچسپی 2017 میں پیدا ہوئی اور بعد میں انہوں نے پاکستان میں اہم عہدے سنبھالے، جیسے وزیر خزانہ کے چیف ایڈوائزر برائے کرپٹو، CEO پاکستان کرپٹو کونسل اور چیئرمین Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority. بلال بن ثاقب نے پاکستان اور امریکی کرپٹو کمپنی World Liberty Financial کے درمیان تعلقات مضبوط کیے اور پاکستان کو ایران-امریکہ تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے میں مدد دی۔

بلال بن ثاقب نے اپنے تعلقات کو Trump کے خاندان کی ملکیت World Liberty Financial کے ساتھ مضبوط کیا۔ انہوں نے اس تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی شناخت کو امریکہ میں بہتر بنایا اور ملک کو بین الاقوامی ثالثی کے لیے تیار کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان نے نہ صرف اقتصادی منصوبے طے کیے بلکہ ممکنہ بین الاقوامی مذاکرات کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد میٹنگ وینیو بھی فراہم کیا۔

پاکستان کی یہ حکمت عملی خاص طور پر اس وقت اہم ہوئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھی۔ ہرمز کی تنگی کی وجہ سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی تھی اور پاکستان نے ثالثی کے لیے اپنی اہمیت بڑھانے کی ضرورت محسوس کی۔ بلال بن ثاقب نے کرپٹو کے ذریعے پاکستان کے عالمی اعتماد کو بڑھایا اور ملک کی ثالثی کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔

بلال نے عالمی کرپٹو لیڈرز کے ساتھ تعلقات قائم کیے، جیسے کہ Changpeng Zhao، بانی Binance اور دیگر مشہور کرپٹو سرمایہ کار۔ انہوں نے ان رہنماؤں کو پاکستان کے کرپٹو منصوبوں میں شامل کیا، جس سے ملک کے ڈیجیٹل اثاثوں کی ترقی میں مدد ملی۔ انہوں نے World Liberty Financial کے چیئرمین Zachary Witkoff کو پاکستان کے کرپٹو منصوبوں میں شمولیت کی ترغیب دی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوئے اور پاکستان کی عالمی شبیہہ بہتر ہوئی۔

کرپٹو کرنسی کی یہ حکمت عملی پاکستان کے لیے صرف مالی فائدہ نہیں لائی بلکہ اس نے ملک کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے۔ بلال بن ثاقب نے ملک میں ٹیکنالوجی کی تعلیم اور سکلز کے فروغ پر کام کیا تاکہ نوجوان اپنے وسائل سے ترقی کر سکیں اور ہر بار بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر انحصار نہ کریں۔

پاکستان کی یہ حکمت عملی، جہاں بلال بن ثاقب نے ٹیکنالوجی اور تعلقات کا امتزاج استعمال کیا، ایک مثالی مثال ہے کہ کس طرح ایک ملک محدود وسائل کے باوجود اپنی پالیسی کو عالمی سطح پر مؤثر بنا سکتا ہے۔ کرپٹو ڈپلومیسی نے پاکستان کی اقتصادی اور سیاسی تصویر بہتر کی اور ملک کی ثالثی کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر مستحکم کیا۔

آج پاکستان نہ صرف اقتصادی لحاظ سے خود کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی ثالثی کے طور پر بھی اپنی پہچان بنا رہا ہے۔ بلال بن ثاقب کا کردار اس میں ایک اہم ستون کی مانند ہے، جس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر اہم اور قابل اعتماد بنایا۔ کرپٹو کرنسی کے اس جدید استعمال نے واضح کر دیا کہ اگر ٹیکنالوجی اور خارجہ پالیسی کو سمجھداری سے جوڑا جائے تو ایک ملک عالمی سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس سب کے پیچھے ایک واضح مقصد تھا: پاکستان کی تجارت اور توانائی کے مسائل کو عالمی سطح پر بہتر طریقے سے حل کرنا۔ ایران کے ذریعے ہرمز کی تنگی کی وجہ سے عالمی توانائی کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہو رہی تھیں اور ایسے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے اپنے اعتماد کو بڑھانے کی ضرورت محسوس کی۔ بلال بن ثاقب کی کرپٹو مہارت نے یہ موقع پاکستان کے لیے حقیقت میں بدل دیا۔

بلومبرگ کا صدر دفتر نیویارک میں واقع ہے لیکن اس کے دفاتر دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔

Bloomberg روایتی اخبار کی طرح روزانہ "کاپیوں" میں شائع نہیں ہوتا، بلکہ: ڈیجیٹل پلیٹ فارم (ویب سائٹ، ایپ)، ٹی وی چینلز Bloomberg Terminal (پروفیشنل سروس) اس کے صارفین دنیا بھر میں لاکھوں (خاص طور پر بزنس اور فنانس پروفیشنلز) ہیں۔

Bloomberg دنیا کے بڑے اور معتبر نیوز اداروں میں شمار ہوتا ہے، خاص طور پر: بزنس اور معیشت، اسٹاک مارکیٹ، عالمی سیاست (economic angle سے)۔

یہ خبر بعد میں دوسرے پلیٹ فارمز نے بھی رپورٹ/ریفر کی کچھ نیوز سائٹس نے لکھا کہ بلال بن ثاقب نے امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔ Profit by Pakistan Today ایک رپورٹ میں کہا گیا: وہ "اہم کردار" ادا کر رہے ہیں مگر یہ زیادہ تر Bloomberg کی رپورٹ پر مبنی تھا۔

عام طور پر جنگ یا diplomacy میں کردار ہوتا ہے، وزرائے خارجہ، سفارتکار، فوجی قیادت لیکن یہاں: ایک "crypto entrepreneur" کا ذکر آیا، یہ ایک غیر معمولی زاویہ تھا اسی لیے Bloomberg نے اسے highlight کیا۔ بلال بن ثاقب facilitator ہو سکتے ہیں، لیکن اصل mediator ریاست پاکستان ہی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ بلال بن ثاقب کا کردار صرف مالی یا تکنیکی نہیں تھا، بلکہ وہ ایک bridge maker کے طور پر سامنے آئے، جس نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو نئی شکل دی اور ملک کی ثالثی کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر مستحکم کیا۔ کرپٹو کرنسی کے اس جدید استعمال نے ظاہر کیا کہ اگر ٹیکنالوجی اور خارجہ پالیسی کو سمجھداری سے جوڑا جائے تو عالمی سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

Check Also

Hijrat Ke Khwab Aur Haqiqat

By Sabiha Dastgir