Tuesday, 23 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Tehzeeb Ka Mayar Ye Nahi

Tehzeeb Ka Mayar Ye Nahi

تہذیب کا معیار یہ نہیں

یہ موضوع اپنی نزاکت کے باعث ہمیشہ سرگوشیوں میں قید رہا ہے۔ ہمارے معاشروں میں کچھ حقیقتیں ایسی ہیں جنہیں زندگی کا لازمی حصہ ہونے کے باوجود پردۂ خاموشی میں رکھا جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جن مراحل سے گزرے بغیر انسانی نسل کا تسلسل ممکن نہیں، انہی مراحل پر گفتگو کرتے ہوئے ہونٹ سوکھ جاتے ہیں اور نگاہیں جھک جاتی ہیں۔

عورت کی زندگی میں کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جب اس کا جسم ایک خاموش جدوجہد سے گزرتا ہے۔ یہ جدوجہد صرف جسمانی نہیں ہوتی، اس کے ساتھ درد، تھکن، جذباتی اتار چڑھاؤ اور کئی ان کہی کیفیات بھی وابستہ ہوتی ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ان احساسات کو سمجھنے کے بجائے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ عورت اپنے درد کو معمول سمجھ کر برداشت کرتی رہتی ہے اور معاشرہ اسے ایک ایسا راز قرار دے دیتا ہے جس پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

محبت کا اصل امتحان شاید یہی ہے کہ انسان ان تکلیفوں کو بھی محسوس کرنے لگے جن سے وہ خود کبھی نہیں گزرا۔ محبت صرف خوشیوں میں ساتھ چلنے کا نام نہیں بلکہ اس خاموش اذیت کو سمجھنے کا نام بھی ہے جو کسی اپنے کے چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے محبوب کے درد کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل محبت کی سب سے بلند منزل کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ کسی بڑے نظریے سے نہیں بلکہ کسی حساس دل کے ایک چھوٹے سے سوال سے شروع ہوئی ہیں۔ کسی نے پہلی بار یہ سوچا ہوگا کہ آخر وہ تکلیف جو کروڑوں عورتوں کی مشترکہ حقیقت ہے، اسے کم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اور پھر یہی سوال ایک خیال بنا، خیال ایک کوشش میں بدلا اور کوشش عورت کے عورت کے ایام مخصوصہ میں استعمال کرنے کیلئے بنائے گئے پیڈز کی شکل میں ایک سماجی شعور کی شکل اختیار کر گئی۔

اصل مسئلہ صرف صحت یا سہولت کا نہیں بلکہ احترام کا بھی ہے۔ جب کسی عورت کو اپنے فطری جسمانی عمل کے باعث شرمندگی محسوس کرنے پر مجبور کیا جائے تو یہ صرف اس کی ذات کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ پورے معاشرے کی فکری پسماندگی کا آئینہ بن جاتا ہے۔ مہذب معاشرے وہ نہیں ہوتے جو مشکل موضوعات پر خاموش رہیں بلکہ وہ ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر حقیقت کو وقار، علم اور حساسیت کے ساتھ قبول کریں۔

عورت جب پہلی بار اپنی زندگی کے اس مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو دراصل وہ بچپن سے بلوغت کی سرحد پر قدم رکھ رہی ہوتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں، نہ کوئی عیب اور نہ ہی کوئی ایسی بات جسے پردوں میں چھپا دیا جائے۔ یہ زندگی کی وہ سرخ تحریر ہے جسے قدرت نے تخلیق کے تسلسل کے لیے عورت کے وجود پر رقم کیا ہے۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی کے اس پرانے حصار کو توڑ دیں۔ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی رویوں میں ایسی فضا پیدا کریں جہاں عورت اپنے جسم، اپنی صحت اور اپنے مسائل کے بارے میں بلا خوف بات کر سکے کیونکہ شعور وہاں جنم لیتا ہے جہاں سوال پوچھنے کی اجازت ہو اور انسانیت وہاں پروان چڑھتی ہے جہاں دوسروں کے درد کو سمجھنے کی خواہش موجود ہو۔

آخرکار تہذیب کا معیار یہ نہیں کہ ہم کن موضوعات پر خاموش رہتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم زندگی کی کتنی سچائیوں کو احترام اور سمجھ داری کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک معاشرے کی بلوغت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کے درد کو کتنی سنجیدگی سے سنتا اور سمجھتا ہے۔

Check Also

Urs e Mubarak Hazrat Baba Haji Sher Muhammad Shaheed

By Peer Intizar Hussain Musawir