Mere Number Kam Aaye To Kya Hoga?
میرے نمبر کم آئے تو کیا ہوگا؟

وہ دسویں جماعت کا بچہ تھا، آنکھوں میں خوف اور ہاتھوں میں کتابیں۔ باپ نے موبائل ایک طرف رکھا، چشمہ اتارا اور قدرے سخت لہجے میں بولا: "کیا مطلب کیا ہوگا؟ فیل ہو گئے تو رشتےداروں میں ہماری بےعزتی ہو جائے گی۔ لوگ کیا کہیں گے؟" بچہ خاموش ہوگیا۔ اس کی خاموشی میں سوال تھا مگر زبان پر نہیں آیا۔ ابا! کیا قابلیت صرف بورڈ امتحانات میں نمبر لانے میں ہے؟
یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا تعلیمی اور تربیتی المیہ شروع ہوتا ہے۔ ہم اپنے بچوں سے بہت کچھ چاہتے ہیں مگر شاید ہمیں خود بھی پوری طرح معلوم نہیں کہ اصل میں چاہتے کیا ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم انہیں "کامیاب" دیکھنا چاہتے ہیں مگر کامیابی کی ہماری تعریف صرف ڈگری، نوکری، تنخواہ اور سماجی اسٹیٹس تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم بچے کو انسان بنانے کے بجائے ایک معاشی پراجیکٹ سمجھنے لگتے ہیں۔
اگر مشاہدہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستانی والدین کی اکثریت بچوں کے خواب نہیں سنتی بلکہ ان پر اپنے ادھورے خواب لاد دیتی ہے۔ جو خود ڈاکٹر نہ بن سکا، وہ بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا ہے۔ جو کاروبار میں ناکام ہوا، وہ بیٹے کو سی ایس ایس کے ذریعے "محفوظ زندگی" دینا چاہتا ہے۔ بچے کی دلچسپی، مزاج اور صلاحیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ اصل چیز یہ ہوتی ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
یہ محض انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی بحران ہے۔ ہم نے ایک ایسا سماج تشکیل دے لیا ہے جہاں کردار، اخلاق، شعور اور انسان دوستی کمزور جبکہ مقابلہ، دوڑ اور موازنہ شدید ہو چکا ہے۔ ہم بچوں کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ آگے کیسے نکلنا ہے مگر یہ نہیں سکھاتے کہ پیچھے رہ جانے والے کو کیسے دیکھنا ہے۔ ہم انہیں کامیاب ہونا سکھاتے ہیں مگر اچھا انسان بننے کا ہنر نہیں دیتے۔
امتحانی دباؤ اس بحران کی سب سے نمایاں علامت ہے۔ بچے کی کاپی پر نمبر کم ہوں تو اس کی عزت کم ہو جاتی ہے۔ وہی بچہ اگر سچ بولے، کسی کمزور کا ساتھ دے یا غلطی مان لے تو اس پر شاباش کم ہی ملتی ہے۔ یوں آہستہ آہستہ بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ اس معاشرے میں اخلاق سے زیادہ نتیجہ اور کردار سے زیادہ کارکردگی اہم ہے۔۔ چاہے وہ کارکردگی کسی بھی قیمت پر کیوں نہ ہو۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ تعلیم بری چیز ہے یا کامیابی غلط مقصد۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم تعلیم کو شعور کے ساتھ جوڑ رہے ہیں یا صرف روزگار کے ساتھ؟ کیا ہم بچوں کو سوچنا سکھا رہے ہیں یا صرف رٹانا؟ کیا ہم انہیں سوال کرنے کی اجازت دیتے ہیں یا صرف حکم ماننے کی تربیت دے رہے ہیں؟
دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے بہت پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ بچہ پہلے انسان ہے پھر طالب علم اور پھر پروفیشنل۔ ہمارے ہاں ترتیب الٹ ہے۔ یہاں بچہ پہلے نتیجہ ہے، پھر عزت کا ذریعہ اور آخر میں انسان۔۔ وہ بھی اگر وقت مل جائے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے یہ کڑا سوال کریں کہ کیا ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنا رہے ہیں کہ وہ ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں یا ہم انہیں بھی اسی دوڑ میں دھکیل رہے ہیں جس نے ہمیں بےچین، خوف زدہ اور ناخوش بنا دیا ہے؟ کیونکہ یاد رکھیے کامیاب انسان وہ نہیں ہوتا جو زیادہ کماتا ہے بلکہ وہ ہوتا ہے جو اپنے اندر کا انسان بچا کر رکھتا ہے اور یہ سبق کتابوں سے نہیں، والدین کے رویوں سے ملتا ہے۔

