Bojh Kyun Ban Jaate Hain?
بوجھ کیوں بن جاتے ہیں؟

گزشتہ دنوں ایک بزرگ سول کورٹ لاہور میں میرے پاس آنسوؤں سے تر آنکھوں کیساتھ تشریف لائے اور کہنے لگے "پتر ایک بات بتاؤ۔ جو ماں باپ اپنی جوانی میں اپنے کم سن بچوں کیلئے عزیز تر ہوتے ہیں وہی ماں باپ اپنے بڑھاپے میں اپنی اسی اولاد کے لئے بوجھ کیوں بن جاتے ہیں؟" انکی بات سننے کے بعد میں نے لاجواب نم دیدہ نظریں جھکا لیں۔ ماں باپ زندہ ہوں تو ان کی قدر کیوں نہیں ہوتی؟
گھر کی دہلیز پر جب ماں بیٹھی ہو اور باپ کمرے کے کسی کونے میں خاموشی سے کتاب کے ورق پلٹ رہا ہو تو یہ منظر ہمیں غیر معمولی نہیں لگتا۔ ہم اسے زندگی کی "نارمل اسٹیٹ" سمجھ لیتے ہیں۔ جیسے سورج کا نکلنا، ہوا کا چلنا، یا سانس کا آنا جانا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز روز ملتی رہے، انسان اس کی قیمت بھول جاتا ہے۔ ماں باپ کی موجودگی بھی ہمارے لیے اسی طرح کی ایک عادت بن جاتی ہے۔۔ قیمتی، مگر نظر سے اوجھل۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری ہر ضرورت کو اپنی خواہش پر ترجیح دی۔ بچپن میں ہماری بیماری ان کی راتوں کی نیند چرا لیتی تھی مگر آج ان کا بلڈ پریشر، شوگر یا جوڑوں کا درد ہمیں محض ایک "روٹین کی بیماری" لگتا ہے۔ ہم ڈاکٹر بدلنے کا مشورہ دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں مگر چند منٹ ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سننا ہمیں وقت کا ضیاع محسوس ہوتا ہے۔
والدین کا بڑھاپا ہمارے معاشرے میں اس لیے بھی بوجھ لگتا ہے کہ وہ اب دینے کے مرحلے سے نکل کر لینے کے مرحلے میں آ جاتے ہیں اور ہم نے ایک ایسا معاشرہ سیکھ لیا ہے جہاں قدر صرف اس کی ہے جو دے سکے۔۔ پیسہ، فائدہ، حیثیت۔ ماں باپ جب کمزور ہوتے ہیں تو وہ ہماری سہولتوں میں رکاوٹ بننے لگتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہسپتال جانا، ان کے لیے دوائیں لانا، ان کی باتیں دہرانا۔ یہ سب ہمیں ڈسٹربنس اور پرائیویسی میں مداخلت" لگتا ہے کیونکہ ہماری ترجیحات بدل چکی ہوتی ہیں۔
میں نے ایک بیٹے کو دیکھا جو اپنے والد کو وہیل چیئر پر بٹھا کر اسپتال لایا۔ والد راستے میں بار بار ایک ہی بات پوچھتے رہے اور بیٹے کے چہرے پر جھنجھلاہٹ صاف نظر آ رہی تھی۔ چند ہفتوں بعد وہی والد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اب بیٹا ہر بار اسپتال کے اسی کوریڈور سے گزرتا ہے تو رک کر کہتا ہے: "کاش، اس دن میں ذرا آہستہ چل لیتا، ذرا تحمل سے جواب دے دیتا"۔ والدین کی قدر اکثر ان کے بعد ہی سمجھ آتی ہے جب سمجھ آنا کسی کام کا نہیں رہتا۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم برے لوگ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم خودغرض رفتار کے اس دور میں جی رہے ہیں۔ یہاں وقت سب سے مہنگی چیز ہے اور ہم اسے صرف اپنے لیے بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ماں باپ چونکہ ہمیں روک نہیں سکتے، شکوہ کم کرتے ہیں، اس لیے ہم انہیں نظرانداز کرنا آسان سمجھتے ہیں۔ وہ شکایت کریں تو ہم کہتے ہیں: "آپ بہت نیگیٹو ہو گئے ہیں"۔
زندہ والدین کی خدمت کو بوجھ نہیں، اعزاز بنانے کے لیے سوچ بدلنا ہوگی۔ یہ ماننا ہوگا کہ جو وقت ہم آج ان پر لگا رہے ہیں، وہ دراصل اپنے کل پر سرمایہ کاری ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھنا، ان کی بات سننا، ان کے کام آ جانا۔۔ یہ سب احسان نہیں، قرض کی معمولی قسطیں ہیں جو ہم کبھی پوری ادا نہیں کر سکتے۔
ان کی خدمت کو رسمی نہیں، ذاتی بنائیے۔ دوائی دینا فرض ہے مگر دوائی دیتے وقت مسکرا دینا محبت ہے۔ ہسپتال لے جانا ذمہ داری ہے مگر ہاتھ پکڑ کر چلنا احترام ہے۔ یاد رکھیے، ماں باپ کی موجودگی کوئی مستقل نعمت نہیں۔ یہ ایک محدود مدت کا موقع ہے جو ختم ہو جائے تو صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور وہ یادیں یا تو سکون دیتی ہیں یا عمر بھر کا پچھتاوا۔
اگر آج ماں باپ زندہ ہیں تو سمجھ لیجیے زندگی نے آپ کو سب سے بڑا اعزاز دے رکھا ہے۔ اس اعزاز کو بوجھ نہ بننے دیں ورنہ کل یہ سوال خود سے پوچھتے رہ جائیں گے "جب وہ زندہ تھے تو میں کہاں تھا؟"

