Discipline Ka Kamal
ڈسپلن کا کمال

جارج واشنگٹن 22 فروری 1732ء میں امریکہ کی ریاست ورجینیا کے علاقے ویسٹ مورلینڈ کاؤنٹی میں پیدا ہوئے۔ انہیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بانی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے والد ایک کاشتکار تھے جو تمباکو کی فصل اُگاتے تھے۔ ابتدائی زندگی میں انہیں کئی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور لگاتار محنت کرتے رہے۔ بعد ازاں جارج واشنگٹن نے امریکی آزادی کی جنگ، جسے امریکی جنگِ آزادی بھی کہا جاتا ہے، میں اپنی فوج کی قیادت کی، برطانوی افواج کے خلاف اہم فتوحات حاصل کیں اور اپنی ثابت قدمی، دانشمندی اور قائدانہ صلاحیتوں کے باعث کامیابی حاصل کی۔
جنگ میں کامیابی کے بعد جارج واشنگٹن نے مختلف امریکی ریاستوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں ایک مضبوط وفاقی نظام کی بنیاد رکھی گئی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے آئین کی تشکیل عمل میں آئی، اسی وجہ سے انہیں امریکہ کے بانیوں میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ بعد ازاں وہ امریکہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور اپنی بصیرت اور قیادت سے نئی قوم کی تعمیر میں تاریخی کردار ادا کیا۔
جارج واشنگٹن نے اپنی زندگی میں جو کامیابیاں حاصل کی اس کی مین وجہ ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارنا تھا۔ ڈسپلن کیا ہے؟ میرے خیال میں اپنے ہر فیصلے پر عمل کرنے کا نام ڈسپلن ہے اور اور جارج واشنگٹن کی کامیابی کی اصل وجہ بھی یہی تھی۔
ان کی شخصیت میں ایسی کئی نمایاں خوبیاں موجود تھیں جنہوں نے انہیں تاریخ کے عظیم رہنماؤں میں شامل کر دیا۔ ان کی پہلی خوبی یہ تھی کہ اگرچہ ان کی رسمی تعلیم انتہائی محدود تھی لیکن انہوں نے اپنے بل بوتے پر مسلسل مطالعے اور عملی تجربے کے ذریعے اپنے علم اور صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا۔
ان کی دوسری نمایاں خوبی ان کی بے مثال بہادری تھی، وہ اپنے حقوق اور اصولوں کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوتے اور مشکل حالات میں بھی ثابت قدم رہتے تھے۔ تیسری خوبی یہ تھی کہ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے باوجود کبھی طاقت کا ناجائز استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے ہمیشہ قانون، انصاف اور قومی مفاد کو ترجیح دی۔ چوتھی اہم خوبی ان کی شائستگی، وقار اور اعلیٰ کردار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں امریکی تاریخ کے انتہائی باوقار اور مہذب صدور میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا طرزِ زندگی سادگی، دیانت داری اور متانت کا بہترین نمونہ تھا۔ پانچویں اور نہایت متاثر کن بات یہ تھی کہ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا، محدود وسائل کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی کسی مشکل کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ مسلسل محنت، عزم اور استقامت کے ذریعے انہوں نے دنیا کی تاریخ میں ایک عظیم مقام حاصل کیا۔
ابتدائی عمر میں جارج واشنگٹن ایک نہایت شرمیلے اور قدرے خوف زدہ بچے تھے۔ تقریباً چودہ سے پندرہ سال کی عمر تک وہ خود اعتمادی کی کمی کا شکار رہے۔ بظاہر وہ غیر معمولی ذہانت یا دلکشی کے حامل بھی نہیں تھے اور اکثر اپنے بہن بھائیوں سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے لیکن ان کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے ان کی شخصیت کو مکمل طور پر بدل دیا۔ ہوا یوں کہ نوعمری کے دنوں میں ہی انہیں ایک فرانسیسی مصنف کے آدابِ معاشرت سے متعلق اصولوں کا مجموعہ ملا جو بعد میں "110 Rules of Civilty" کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ تاریخی طور پر یہ 110 اصول تھے جن میں مہذب رویے، گفتگو کے آداب، دوسروں کے احترام اور اعلیٰ کردار کے بارے میں رہنمائی دی گئی تھی۔
جارج واشنگٹن نے ان تمام اصولوں کو اپنی نوٹ بک میں اپنے ہاتھ سے نقل کیا اور اپنے ساتھ عہد کیا کہ وہ ان 110 اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ انہوں نے ان اصولوں کو بار بار لکھا اور پڑھا، یہاں تک کہ وہ انہیں اچھی طرح ازبر ہو گئے۔ سولہ سال کی عمر کے بعد جب انہوں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو انہی اصولوں کو اپنا رہنما بنایا۔ زمینوں کی خرید و فروخت، کاروباری معاملات، ملازمین کے ساتھ برتاؤ، سماجی تعلقات حتی کہ سیاسی زندگی، ہر شعبے میں انہوں نے انہی اصولوں کی روشنی میں فیصلے کیے۔ انہی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو متحد اور مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جو بعد میں وہی ملک دنیا کی ایک عظیم طاقت بن گیا۔
جارج واشنگٹن کے دور میں ہی وائٹ ہاؤس کی تعمیر کا آغاز ہوا، جو آج امریکہ کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور قومی وقار کی علامت ہے۔ اگرچہ اس عمارت کی تعمیر ان کی صدارت کے دوران شروع ہوئی، تاہم وہ خود اس میں رہائش اختیار نہیں کر سکے۔ اس کے باوجود، امریکی ریاست کے بنیادی اداروں کے قیام میں ان کا کردار نہایت اہم تھا۔
جارج واشنگٹن کی زندگی اس بات کی بہترین مثال ہے کہ واضح اصول، مستقل محنت اور اپنے فیصلوں پر ثابت قدمی انسان کو غیر معمولی کامیابی عطا کر سکتی ہے۔ وہ اپنے بنائے اصولوں پر اس قدر کاربند تھے کہ ایک مرتبہ اپنے دورِ حکومت میں وہ گھوڑے پر سوار کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ایک سیاہ فام شخص نے انہیں سلام کیا، جارج واشنگٹن فوراً اپنے گھوڑے سے اترے، اپنی ٹوپی اتاری اور بڑے احترام کے ساتھ اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔ وہ غلامی کا دور تھا اور اُس دور میں گورے لوگوں کا ٹوپی اتار کر کسی کالے کو یوں سلام کا جواب دینا بہت عجیب بات تھی اور اپنے سر سے ٹوپی اتار کر سلام کا جواب دینا اس بات کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ وہ سامنے والے کو بہت عزت دے رہا ہے۔
جارج واشنگٹن کے عملے میں موجود ایک شخص نے حیران ہو کر کہا، "یہ تو ایک سیاہ فام غلام ہے، جبکہ آپ اس ملک کے صدر ہیں، پھر بھی آپ نے اسے اتنی عزت دی؟" جارج واشنگٹن نے نہایت خوبصورت جواب دیا: انہوں نے کہا کہ "میں نے بچپن ہی میں یہ اصول بنا لیا تھا کہ ہر انسان کی عزت کرنی ہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، گورا ہو یا کالا، غلام ہو یا کسی بڑے عہدے کا مالک" اور میں نے بچپن میں ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں اپنی سوسائٹی میں سب سے زیادہ خوش اخلاق شخص بنوں گا۔ لہذا کوئی بھی شخص ہو وہ میرے لیے قابل احترام ہے۔
جب وہ 60 سال کے ہوئے تو انہوں نے اپنی عملی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں نے 16 سال کی عمر میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ 60 سال کی عمر میں اپنے کام سے ریٹائر ہو جاؤں گا۔ اس لیے چاہے لوگ مجھے اگر مزید صدر دیکھنا چاہتے بھی ہوں، پھر بھی میں اپنے فیصلے پر قائم رہوں گا اور ریٹائرڈ زندگی گزاروں گا اور پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔
جارج واشنگٹن کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر کوئی بھی انسان اپنی زندگی چند اصولوں، نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور اچھے اخلاق کے ساتھ گزارے تو وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

