Shatt Al Furat Se Najaf Ki Saraye Tak
شط الفرات سے نجف کی سرائے تک

میرے ساتھ عجیب در گھٹنا ہوگئی۔ مَیں نجف سے چلتا ہوا کوفہ کو پار کرکے شط الفرات پہنچا۔ تاکہ قبیلہ بنی ثقیف کے علاقے اور اُن کے باغات کو دیکھ لوں، یہ چیزیں اور جگہیں پہلے میرے ناول (کوفہ کے مسافر) میں بھی آ چکی ہیں۔ یہاں مجھے کچھ پیاس محسوس ہوئی اور بھوک کا احساس بھی ہوا۔ ویسے بھی اتنے سفر کے بعد بھوک پیاس کا لگنا فطری تھا۔ مَیں نے جیبوں میں ہاتھ مارا کہ کچھ کھانے پینے کا سبھا کروں۔ عین اُسی وقت معلوم ہوا کہ پیسے تمام ہوٹل میں چھوڑ آیا ہوں۔
اب کھانے پینے کی فکر تو ہوا ہوگئی کہ اُس کا بندو بست تو کر ہی لیتا، ایک دوسری فکر لگ گئی۔ معاملہ یہ تھا کہ اتنا سفر اِس لیے پیدل کیا تھا کہ جہاں چلتے چلتے جہاں تھک گیا وہیں سے ٹیکسی لے کر ہوٹل پہنچ جائوں گا۔ مگر یہاں تو معاملہ یہ ہوا کہ ٹیکسی کو پیسے دینے کے لیے جیب میں ایک دینار بھی نہیں اور ہوٹل ایسی جگہ پر تھا جہاں سے ٹیکسی آدھا کلومیٹر باہر ہی رُکتی تھی، ہوٹل تک پہنچنے کا رستہ اِس لیے نہیں تھا کہ ہوٹل عین حرم کے پہلو میں تھا۔ لہذا ڈرائیور کو کیسے یقین دلائوں کہ میاں تم بیس منٹ یہیں رُکو، ہوٹل سے پیسے لے کر آتا ہوں۔
لہذا مَیں نے اگلا سفر ملتوی کیا اور وہیں سے پیدل وآپس ہونے کی ٹھان لی۔ کیونکہ جتنا بھی آگے جاتا، وآپسی اتنی ہی طویل ہوتی۔ اِدھر سردی کا عالم یہ تھا کہ ہوا گویا سائبیریا کا طواف کرکے لوٹتی تھی۔ سردیوں میں نجف کی تیز ہوا کا عالم نہ پوچھیے، طوفانِ برف و باد کو آنکھیں دکھاتی ہے۔ کھانے پینے کا معاملہ تو خیر ایسی بڑی بات نہیں تھی۔ البتہ پیدل چودہ کلومیٹر طے کر آیا تھا اور اب اتنا ہی وآپسی کا تھا اور وہ کرنا ضروری تھا۔ لیجیے صاحب مثالِ میثمِ تمار نخیلِ رہگزر سے کھجوریں کھاتا ہوا بالآخر شام کے تئیں نجف کی بارہ گاہ میں پہنچا۔ اب آپ خود اندازہ کر لیجیے ہمارا کیا بنا ہوگا؟
ابھی آن کر ہوٹل میں پائوں پسارے ہی تھے کہ علی کونین اور حاکم بھائی کا فون آ گیا کہ ناطق صاحب کہاں چھپے بیٹھے ہیں، باہر نکلیے، مل کر چائے وائے پیتے ہیں اور کچھ سخن وری کرتے ہیں۔ چلیے جی، اُسی وقت پھر باہر نکلا اور بابِ قبلہ سے اُن کو جا لیا اور ایک ہوٹل میں جا بیٹھے۔ وہاں چائے شائے پی۔ پھر جی چاہا کہ نجف کی گلیوں میں ذرا گھوم لیں۔ تب ہم ایک گھنٹہ نجف میں طواف گری کرتے رہے حتیٰ کہ رات 9 بجے دوبارہ ہوٹل پہنچے۔
رات ہم نے یہ طے کیا تھا کہ صبح نجف اشرف کا میوزیم ضرور دیکھیں گے۔ ہمارے ساتھ چلنے کا وعدہ باسط علی پتافی صاحب نے کیا۔ یہ صاحب یہاں طالب علم ہیں اور پچھلے تین سال سے یہیں ہیں۔ آج صبح ناشتے کے بعد ہم دوبارہ ضریحِ امیرؑ میں گئے اور اُس کے بعد پتافی صاحب بھی آ گئے۔ تب ہم میوزیم میں داخل ہوئے۔
اب صاحبانِ میوزیم کی حالت دیکھیے کہ اُنھوں نے ہم سے 50 ہزار عراقی دینار لیے، جو پاکستانی 12 ہزار بنتے ہیں اور ٹکٹ نہیں دیا۔ یعنی پہلوئے حرم میں کرپشن کا دھندا کھول رکھا ہے۔ جیسے ہی اندر پہنچے تو سمجھیے میوزیم کے نام پر سراسر دھوکا تھا۔ 1930 یا 40 کی چند اشیا موجود تھیں۔ باقی اللہ اللہ۔ البتہ ایک بات مزے کی پتا چلی کہ جب یہاں شہر نہیں تھا، تو یہ میوزیم کی جگہ واحد سرائے تھی جو زائرین کے لیے قیام و طعام کی جگہ تھی۔ جس کے اندر سرداب بھی تھا۔ عجم و عرب سے جتنے زائرین یہاں آتے تھے، اِسی جگہ ٹھہرتے تھے۔ گویا یہ عمارت اکیلا نشان تھی جس سے آپ نجفِ اشرف کی آبادی کی شروعات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
یہاں سے نکل کر ہم حرم کی لائبریری میں چلے گئے اور دو گھنٹے وہیں گزارے۔ اہلِ بیت اور تاریخ سے متعلق عرب اور فارسی میں ہزاروں کتابیں یہاں موجود ہیں جن کا ایک فی صد بھی اردو میں ترجمہ نہیں ہوا۔ اِس لیے اہلِ بیت کے بارے میں برصغیر کا جتنا علم ہے وہ سُنا سنایا ہے۔ اے کاش خمس کھانے والے ملا، مخیر حضرات اور صاحبِ دولت اِن کتابوں کو اردو میں منتقل کرنے کا کوئی بندو بست کر دیں۔ بخدا اگر کچھ ہی ملک و مال رکھنے والے لوگ نیت باندھیں تو یہ سارا خزانہ اُردو میں آ سکتا ہے۔ بے شک آپ مجلسوں پر اربوں روپیہ لگائیں، وہ بھی ضروری ہے لیکن اُن کا ایک فی صد ہی اِن کتابوں کے ترجمہ پر لگا دیں تو میرا خیال ہے امامِ زمانہؑ تک پہنچنے کی راہیں سمٹ جائیں گی۔ پھر آپ خود ہی دیکھیے کتنا بڑا ثواب ہوگا۔

