Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ahtasham Ul Haq
  4. Zehni Sehat Aur Autism, Aik Nazar Andaz Haqeeqat

Zehni Sehat Aur Autism, Aik Nazar Andaz Haqeeqat

ذہنی صحت اور آٹزم، ایک نظرانداز حقیقت

آج کی جدید دنیا میں ذہنی صحت، آٹزم اور لرننگ ڈس ایبلٹیز کو جسمانی بیماریوں جتنا ہی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اب یہ شعور عام ہو چکا ہے کہ اگر کسی انسان کو ذہنی، نفسیاتی یا نیورولوجیکل مسائل درپیش ہوں تو اُسے نظر انداز کرنے کے بجائے مکمل سپورٹ، عزت اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں NHS، لوکل کونسلز، اسکولز اور مختلف کمیونٹی ادارے ایسے افراد اور اُن کے خاندانوں کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں اب بھی آٹزم اور لرننگ ڈس ایبلٹیز کے حوالے سے شعور کی شدید کمی پائی جاتی ہے، جہاں اکثر لوگ ان مسائل کو بیماری سمجھنے کے بجائے شرمندگی یا کم عقلی سے جوڑ دیتے ہیں۔

برطانیہ میں آٹزم اور لرننگ ڈس ایبلٹیز رکھنے والے افراد کے لیے باقاعدہ سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ اگر کسی بچے میں آٹزم کی علامات ظاہر ہوں تو NHS کے ذریعے assessment، diagnosis، therapy اور educational support فراہم کی جاتی ہے۔ اسکولوں میں خصوصی اساتذہ، speech therapy، occupational therapy اور individual support plans دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح بالغ افراد کے لیے employment support، independent living اور mental health services بھی دستیاب ہیں۔

2025 اور 2026 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں لاکھوں افراد آٹزم، ADHD اور لرننگ ڈس ایبلٹیز سے متعلق سہولیات اور سپورٹ حاصل کر رہے ہیں۔ NHS England کے مطابق 2024-25 میں learning disability health checks میں نمایاں اضافہ ہوا اور 81 فیصد سے زائد رجسٹرڈ افراد کو باقاعدہ صحت کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اسی طرح autism diagnosis کے کیسز میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جون 2025 تک صرف انگلینڈ میں تقریباً 236,000 سے زائد افراد autism assessment کے لیے waiting list پر موجود تھے۔

تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ برطانیہ میں تقریباً ہر 100 میں سے 1 شخص autism spectrum پر موجود ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی لوگ تشخیص کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ NHS کی رپورٹس کے مطابق autistic افراد میں anxiety، depression اور دیگر mental health conditions کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ میں mental health اور physical health دونوں کو برابر اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کو دل، شوگر یا کوئی جسمانی بیماری ہو تو لوگ فوراً علاج اور ہمدردی کی بات کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر کسی شخص کو autism، anxiety یا learning disability ہو تو اُسے بھی ایک حقیقی health condition سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔

برطانیہ میں workplaces، colleges اور community centres میں "Mental Health Awareness" کے حوالے سے باقاعدہ training دی جاتی ہے تاکہ لوگ autistic یا learning disabilities رکھنے والے افراد کے ساتھ بہتر انداز میں پیش آ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ایسے افراد کو معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ ایک قابل اور باصلاحیت انسان سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے autistic افراد آج technology، arts، science اور business جیسے شعبوں میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔

اگر پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو فرق واضح محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان میں autism awareness پہلے کے مقابلے میں بہتر ضرور ہوئی ہے، مگر اب بھی زیادہ تر لوگ اس مسئلے کو مکمل طور پر نہیں سمجھتے۔ مختلف اندازوں کے مطابق پاکستان میں لاکھوں بچے autism spectrum یا learning disabilities کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، مگر اُن میں سے بڑی تعداد کی کبھی باقاعدہ diagnosis ہی نہیں ہو پاتی۔ بعض غیر سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 سے 4 لاکھ autistic بچے موجود ہو سکتے ہیں، جبکہ learning disabilities کے کیسز اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ تاہم ملک میں ابھی تک مکمل قومی ڈیٹا دستیاب نہیں۔

پاکستان میں اکثر والدین اپنے بچوں کی condition چھپاتے ہیں کیونکہ انہیں معاشرتی رویوں کا خوف ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ آج بھی autism کو "جادو"، "نظر" یا "پاگل پن" سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہی رویہ ان بچوں اور اُن کے خاندانوں کو ذہنی دباؤ کا شکار کر دیتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جسمانی بیماری کو تو فوراً تسلیم کر لیا جاتا ہے، مگر ذہنی یا developmental disorders کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

اگرچہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں autism centres اور therapy clinics موجود ہیں، مگر یہ سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ دیہی علاقوں میں صورتحال مزید مشکل ہے، جہاں نہ awareness موجود ہے اور نہ ہی trained professionals دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بچے بروقت therapy اور education نہ ملنے کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر پاتے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ autism کوئی شرمندگی نہیں بلکہ ایک neurological difference ہے۔ autistic افراد اکثر منفرد سوچ، creativity اور extraordinary skills رکھتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب ماحول، تعلیم اور سپورٹ فراہم کی جائے تو وہ معاشرے کا ایک مثبت اور کامیاب حصہ بن سکتے ہیں۔

برطانیہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے کمزور اور مختلف افراد کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ حکومت، میڈیا، اسکولز، مساجد اور خاندانوں سب کو مل کر پاکستان میں autism اور mental health awareness بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اسکولوں میں awareness programs، teachers training اور affordable therapy services وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں، کیونکہ جسمانی اور ذہنی صحت دونوں انسان کی مکمل زندگی کے لیے یکساں اہم ہیں۔ اگر ہم نے وقت کے ساتھ شعور پیدا نہ کیا تو ہزاروں خاندان خاموش اذیت میں زندگی گزارتے رہیں گے۔ لیکن اگر ہم نے ہمدردی، تعلیم اور قبولیت کو فروغ دیا تو پاکستان بھی ایک زیادہ باشعور، انسان دوست اور ترقی یافتہ معاشرہ بن سکتا ہے۔

Check Also

Ibrahimi Dabao Aur Muslim Dunya

By Fatima Tayyab Singhanvi