Wednesday, 03 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ahtasham Ul Haq
  4. Tehqeeq Ki Raah Aur Hamari Zehni Rukawaten

Tehqeeq Ki Raah Aur Hamari Zehni Rukawaten

تحقیق کی راہ اور ہماری ذہنی رکاوٹیں

انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی دور ایسا آیا ہو جس نے گزشتہ دو سو برسوں کی طرح دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہو۔ آج صبح آنکھ کھلتے ہی ہمارا واسطہ سائنس کی کسی نہ کسی ایجاد سے پڑ جاتا ہے۔ موبائل فون کا الارم، بجلی کی روشنی، انٹرنیٹ، گاڑیاں، ہوائی جہاز، جدید ادویات، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ سسٹم، یہ سب انسانی عقل، تحقیق اور مسلسل جستجو کا نتیجہ ہیں۔ لیکن ایک سوال ہمارے اجتماعی شعور کا تعاقب کرتا ہے: کیا ہم صرف ان ایجادات کے صارف ہیں یا ان کے خالق بھی؟

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ہم جدید ٹیکنالوجی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن اس سوچ کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں جس نے ان ایجادات کو جنم دیا۔ ہم اسمارٹ فون تو خرید لیتے ہیں، مگر اپنے بچوں کو سوال پوچھنے کی آزادی نہیں دیتے۔ ہم جدید ہسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں، لیکن تحقیق اور سائنسی شعور کو اکثر شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم مصنوعی ذہانت کے فوائد سمیٹنا چاہتے ہیں، مگر تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی سے گھبراتے ہیں۔

اصل مسئلہ سائنس اور مذہب کا نہیں، بلکہ ذہنیت کا ہے۔ جب کوئی معاشرہ سوال کرنے کے بجائے صرف ماننے کو ترجیح دینے لگے، جب دلیل کی جگہ شخصیت لے لے اور جب تحقیق کی جگہ روایت کو آخری سچ سمجھ لیا جائے، تو فکری جمود جنم لیتا ہے۔ یہی جمود ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ ہمیں ایک مختلف تصویر دکھاتا ہے۔ مسلمانوں کا سنہری دور اس وقت آیا جب بغداد، قرطبہ اور دمشق کے علمی مراکز میں سوال پوچھنا جرم نہیں بلکہ فضیلت سمجھا جاتا تھا۔ Ibn al-Haytham نے روشنی کے اسرار جاننے کے لیے تجربات کیے، Al-Khwarizmi نے ریاضی کے نئے دروازے کھولے اور Ibn Sina نے طب کو نئی جہتیں دیں۔ ان لوگوں نے علم کو جامد نہیں سمجھا بلکہ مسلسل تلاش اور تحقیق کا عمل قرار دیا۔

افسوس کہ آج ہمارا تعلیمی نظام بڑی حد تک حافظے کو عقل پر ترجیح دیتا ہے۔ طالب علم کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ کتاب میں کیا لکھا ہے، لیکن یہ کم سکھایا جاتا ہے کہ کتاب میں جو لکھا ہے، اس پر سوال کیسے اٹھایا جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم امتحانات میں نمبر تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر نئی سوچ اور نئی ایجاد پیدا کرنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا کی کامیابی کا راز صرف سرمایہ یا وسائل نہیں بلکہ سوچ کا انداز ہے۔ وہاں بچے کو چھوٹی عمر سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہر دعوے کے پیچھے ثبوت تلاش کرو، ہر مسئلے کا حل سوچو اور ہر روایت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہی رویہ لیبارٹریوں، تحقیقی مراکز اور یونیورسٹیوں میں نئی ایجادات کو جنم دیتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام نے کبھی علم اور تحقیق کی مخالفت نہیں کی۔ قرآن کی پہلی وحی ہی "پڑھنے" کا حکم دیتی ہے۔ قرآن بار بار انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ مسئلہ مذہب نہیں، بلکہ وہ طرزِ فکر ہے جو سوال کو بغاوت اور تحقیق کو خطرہ سمجھتا ہے۔ آج اگر ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف نئی ٹیکنالوجی درآمد کرنے کی بجائے نئی سوچ پیدا کرنا ہوگی۔ ہمیں ایسے نوجوان چاہئیں جو موبائل ایپ استعمال کرنے کے ساتھ اسے بنانے کا خواب بھی دیکھیں، جو دوا کھانے کے ساتھ نئی دوا ایجاد کرنے کی خواہش بھی رکھیں اور جو مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ اس میدان میں تحقیق بھی کریں۔

دنیا میں عزت صرف ان قوموں کو ملتی ہے جو علم پیدا کرتی ہیں۔ جو قومیں سوال پوچھتی ہیں، وہی جواب دریافت کرتی ہیں اور جو قومیں تحقیق کرتی ہیں، وہی مستقبل لکھتی ہیں۔ اگر ہم نے فکری جمود کی زنجیریں نہ توڑیں تو ہم ہمیشہ دوسروں کی ایجادات استعمال کرتے رہیں گے۔ لیکن اگر ہم نے تجسس، تحقیق اور تنقیدی سوچ کو اپنا لیا تو شاید آنے والی نسلیں صرف صارف نہیں بلکہ موجد اور رہنما بن کر ابھریں گی۔

Check Also

Mulazmat Behtar Ya Karobar

By Mohsin Khalid Mohsin