Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ahtasham Ul Haq
  4. Street Lights Vs Screen Lights

Street Lights Vs Screen Lights

اسٹریٹ لائٹس سے اسکرین لائٹس

​دنیا ہر چند سال بعد ایک نئی نسل کو جنم دیتی ہے، مگر کچھ نسلیں اپنے اندازِ فکر، عادات اور معاشرتی رویوں کی وجہ سے تاریخ میں خاص مقام بنا لیتی ہیں۔ 90s کی نسل اور آج کی "Gen Z" بھی انہی نمایاں نسلوں میں شمار ہوتی ہیں۔

90s کے لوگ وہ تھے جنہوں نے سادہ زندگی، محدود وسائل اور حقیقی میل جول کے دور میں آنکھ کھولی، جبکہ Gen Z ایک ایسی نسل ہے جو انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے ماحول میں پروان چڑھی۔ یہی فرق دونوں نسلوں کی سوچ، برداشت، تعلقات اور زندگی گزارنے کے انداز میں واضح نظر آتا ہے۔

​90s کی نسل کی سب سے بڑی خوبی "صبر" اور "انتظار" تھا۔ اس وقت اگر کسی دوست سے بات کرنی ہوتی تو گھنٹوں فون لائن خالی ہونے کا انتظار کرنا پڑتا، خط لکھے جاتے، یا ملاقات کا وقت طے کیا جاتا۔ معلومات حاصل کرنے کے لیے کتابیں، اخبارات اور اساتذہ پر انحصار ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نسل میں تحقیق، برداشت اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت زیادہ تھی۔

اس کے برعکس آج کی Gen Z فوری نتائج کی عادی ہو چکی ہے۔ ایک کلک پر کھانا، ایک سرچ پر معلومات اور ایک سوائپ (swipe) پر تفریح میسر ہے۔ یہی تیزی جہاں سہولت بنی، وہیں بے صبری اور جلد بازی کو بھی بڑھا گئی۔ آج کئی نوجوان چند سیکنڈز کی ویڈیو دیکھنے کے عادی ہیں، جس کے باعث لمبی گفتگو، کتاب یا گہرے مطالعے میں ان کی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔

​تاہم صرف تنقید کرنا بھی درست نہیں۔ Gen Z کی اپنی حیران کن خوبیاں ہیں۔ یہ نسل ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور استعمال کرنے میں غیر معمولی مہارت رکھتی ہے۔ ایک 16 سالہ نوجوان آج وہ کام کر سکتا ہے جس کے لیے ماضی میں پوری ٹیم درکار ہوتی تھی۔ کنٹینٹ کریشن (Content creation)، گرافک ڈیزائننگ، آن لائن بزنس اور فری لانسنگ جیسے شعبوں میں Gen Z نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

آج کے نوجوان کم عمری میں ہی کاروبار شروع کر رہے ہیں، عالمی مارکیٹ سے جڑ رہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ 90s کے دور میں کسی ہنر کو دنیا تک پہنچانا مشکل تھا، جبکہ آج ایک موبائل فون پوری دنیا سے رابطہ جوڑ دیتا ہے۔

​پاکستان میں بھی اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ آج ایسے نوجوان انٹرپرینیورز (entrepreneurs) موجود ہیں جنہوں نے کم عمری میں ہی ٹیکنالوجی اور بزنس کی دنیا میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ مثال کے طور پر سلمان نذیر نے پاکستان میں آن لائن فوڈ ڈلیوری کلچر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ مونس رحمان نے ڈیجیٹل ایمپلائمنٹ پلیٹ فارم کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے۔

اسی طرح آج کئی نوجوان ایمیزون (Amazon)، شاپی فائی (Shopify)، فری لانسنگ اور اسٹارٹ اپس کے ذریعے گھر بیٹھے انٹرنیشنل بزنس چلا رہے ہیں اور کم عمری میں مالی طور پر مضبوط ہو رہے ہیں۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ آج کی Gen Z صرف نوکری تلاش نہیں کرتی بلکہ خود مواقع پیدا کرنا بھی جانتی ہے۔

​دوسری طرف 90s کی نسل کے تعلقات زیادہ مضبوط اور حقیقی ہوتے تھے۔ خاندان اکٹھا بیٹھتا، کھانا ایک ساتھ کھایا جاتا، محلے داری زندہ تھی اور دوستیاں برسوں نبھائی جاتی تھیں۔ آج سوشل میڈیا نے رابطے تو بڑھا دیے مگر تعلقات کی گہرائی کم کر دی۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ آج ایک نوجوان کے ہزاروں فالوورز (followers) ہو سکتے ہیں مگر پھر بھی وہ تنہائی محسوس کرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال اینگزائٹی (anxiety)، ڈپریشن (depression) اور سیلف کمپیریزن (self-comparison) کو بڑھا رہا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت حصہ دکھاتا ہے، جس سے دوسروں کو اپنی زندگی کم تر محسوس ہونے لگتی ہے۔

​90s کے بچوں کی تفریح کھیل کے میدان، سائیکل، کرکٹ، لڈو اور دوستوں کی محفلیں تھیں۔ گرنے، ہارنے اور انتظار کرنے سے وہ ذہنی طور پر مضبوط بنتے تھے۔ آج کی Gen Z کی بڑی تفریح موبائل اسکرین بن چکی ہے۔ اس سے معلومات تو بڑھیں مگر جسمانی سرگرمیاں کم ہوگئیں۔

یہی وجہ ہے کہ نئی نسل میں اٹینشن اسپین (attention span) یعنی مسلسل توجہ دینے کی صلاحیت پہلے کے مقابلے میں کم دیکھا جا رہا ہے۔ کئی نوجوان ایک وقت میں کئی ایپس (apps) استعمال کرتے ہیں، مگر ایک کام پر دیر تک توجہ برقرار رکھنا ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

​لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ Gen Z کو صرف کمزور نسل کہنا درست نہیں۔ یہ نسل اپنے حقوق، ذہنی صحت اور سیلف ریسپیکٹ (self-respect) کے بارے میں زیادہ باشعور ہے۔ 90s کے دور میں بہت سے لوگ ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کو بیماری ہی نہیں سمجھتے تھے، جبکہ آج کے نوجوان مینٹل ہیلتھ (mental health) پر کھل کر بات کرتے ہیں۔

اسی طرح یہ نسل ظلم، ناانصافی اور سماجی مسائل پر آواز اٹھانے میں بھی زیادہ متحرک نظر آتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق اور تعلیم جیسے موضوعات پر نوجوانوں کی عالمی سطح پر آواز سنائی دیتی ہے۔

​تاہم Gen Z کی ایک بڑی خامی "فوری شہرت" کی خواہش بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر کسی کو مشہور ہونے کا خواب دیا ہے، جس کی وجہ سے محنت اور مستقل مزاجی کا سفر بعض اوقات مشکل محسوس ہوتا ہے۔ کئی نوجوان چند مہینوں میں کامیابی چاہتے ہیں، جبکہ 90s کی نسل سالوں کی محنت اور آہستہ ترقی کو معمول سمجھتی تھی۔

اسی طرح کمپیریزن کلچر (comparison culture) نے بھی نوجوانوں کو متاثر کیا ہے۔ دوسروں کی کامیابی، خوبصورتی یا لائف اسٹائل دیکھ کر اپنی زندگی سے عدم اطمینان بڑھتا جا رہا ہے۔

​اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ نسلوں کا نہیں بلکہ ماحول کا ہے۔ 90s کی نسل کو سادہ دنیا ملی، جبکہ Gen Z کو تیز رفتار اور ڈیجیٹل دنیا۔ ایک نسل نے کمی میں جینا سیکھا، جبکہ دوسری نے "کثرت" یعنی ہر چیز کی فوری دستیابی میں آنکھ کھولی۔

Check Also

Hum To Chalay Mandi

By Azhar Hussain Azmi