Taleem Ka Girta Hua Mayar, Qaum Ke Mustaqbil Par Swaliya Nishan
تعلیم کا گرتا ہوا معیار، قوم کے مستقبل پر سوالیہ نشان
کیا کوئی قوم اس وقت ترقی کی جانب اڑان بھر سکتی ہے جب اس کی تعلیم کا معیار مسلسل گرتا جا رہا ہو؟ کیا ہم واقعی ایک روشن مستقبل کی امید رکھ سکتے ہیں جب ملک میں تعلیمی بحران شدت اختیار کر رہا ہو؟ کسی بھی قوم کی ترقی کا راستہ اس کے تعلیمی اداروں سے ہو کر گزرتا ہے، مگر جب تعلیم کا معیار ہی سوالیہ بن جائے تو پوری قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور شعور کی بنیاد ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جس نے انسان کو جہالت کی گہرائیوں سے نکال کر اجالوں سے روشناس کرایا۔ مگر آج کل پاکستان کا تعلیمی نظام معیاری تعلیم فراہم کرنے سے قاصر ہے، جس کی بدولت معاشرے میں یہ روشنی مدھم پڑتی نظر آ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس قدر کمزور تعلیمی نظام کے ساتھ ہم واقعی ترقی کی دوڑ کا حصہ بن سکتے ہیں؟
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ بچوں میں شمار ہوتا ہے (UNESCO کے مطابق)۔ اس کے علاوہ ملک کی شرحِ خواندگی تقریباً 58 فیصد کے آس پاس ہے، جو خطے کے کئی ممالک سے کم ہے۔
جب ہمارے تعلیمی ادارے زوال کا شکار ہوں، نصاب فرسودہ ہو اور تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے تو ایسی صورت میں خود کو جدید دور کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق تصور کرنا حقیقت ہے یا محض ایک دلفریب وہم؟ ایک ایسی طاقت جو قوموں کو عروج عطا کرتی ہے، جب وہ خود زوال کا شکار ہو تو پھر نوجوان ایک روشن مستقبل کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟
ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم کو اپنی قومی پالیسیوں کا مرکزی ستون بنا کر نہ صرف معاشی استحکام حاصل کیا بلکہ سماجی انصاف اور فکری بالیدگی کو بھی فروغ دیا۔ پاکستان کے تناظر میں اگرچہ تعلیمی اداروں اور داخلوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر معیار میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار اتنا ناقص کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام ہے، جس میں تعلیم کا مقصد شعور حاصل کرنا یا غور و فکر کرنا نہیں بلکہ صرف امتحان پاس کرنا رہ گیا ہے۔ نصاب کو سمجھنے، سوچنے اور تحقیق کرنے کے بجائے طلبہ اپنی پوری توانائی رٹا بازی پر صرف کر دیتے ہیں۔
کیا اس تعلیمی طریقہ کار کے ساتھ ہم ذہین سائنسدان، بہترین ڈاکٹرز، مخلص استاد یا کامیاب لیڈر پیدا کر سکتے ہیں؟ یقیناََ اس کا جواب نفی میں ہے۔
رٹا سسٹم ایک دیمک کی طرح ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں کو چاٹ رہا ہے اور ان کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں پر مستقل قفل لگا رہا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ تعلیمی اداروں میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سہولیات کا فقدان ہے۔ پاکستان میں ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں بنیادی سہولیات موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں 40 فیصد سے زائد اسکولوں میں صاف پانی اور بجلی تک دستیاب نہیں۔
ہمارے ہمسایہ ممالک میں طلبہ ابتدائی سطح تک عملی تعلیم حاصل کرکے ہنر مند بن جاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یونیورسٹی گریجویٹ بھی اکثر بنیادی عملی مہارتوں سے محروم رہتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہے، جہاں نہ عمارت ہے، نہ فرنیچر، نہ پانی، نہ بجلی اور نہ ہی تربیت یافتہ اساتذہ۔ ایسے حالات میں تعلیمی معیار کا بلند ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔
موجودہ تعلیمی بحران محض ایک شعبہ جاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی و اقتصادی چیلنج ہے۔ پاکستان میں نصابِ تعلیم روایتی اور غیر عملی ہے، جو تخلیقی سوچ کے بجائے یادداشت پر زور دیتا ہے۔
سرکاری اداروں میں وسائل کی کمی جبکہ نجی اداروں میں مہنگی فیسوں کے باعث تعلیمی ناہمواری بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے باوجود بڑی تعداد میں نوجوان عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل نہیں۔
اساتذہ کی تربیت کا نظام بھی غیر یکساں ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق اساتذہ کی معیاری تربیت کے بغیر تعلیمی نظام بہتر نہیں ہو سکتا۔
غربت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں لاکھوں بچے تعلیم چھوڑ کر کم عمری میں محنت مزدوری پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت اور میرٹ کے بجائے سفارش کا نظام بھی معیار کو متاثر کرتا ہے۔
تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے، جس کی شرح پاکستان میں تقریباً 6 سے 8 فیصد کے درمیان بتائی جاتی ہے، جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ غربت میں اضافہ، معاشرتی ناہمواری، تنقیدی سوچ کی کمی اور معیشت کی سست روی اسی بحران کے واضح نتائج ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، جس میں تحقیق، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہو۔ اساتذہ کی باقاعدہ تربیت، سرٹیفیکیشن اور کارکردگی کا مؤثر نظام متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
امتحانی نظام کو شفاف، ڈیجیٹل اور میرٹ پر مبنی بنانے سے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اگر اصلاحات کو سنجیدگی، تسلسل اور خلوص کے ساتھ نافذ کیا جائے تو پاکستان کا تعلیمی نظام نہ صرف بہتر ہو سکتا ہے بلکہ ایک روشن مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
بصورتِ دیگر، وقت کا پہیہ ہمیں مزید پیچھے دھکیل سکتا ہے۔ اب فیصلہ وقت کے ساتھ نہیں بلکہ وقت سے پہلے کرنا ہوگا۔

