Laal Shahbaz Qalandar
لعل شباز قلندر
اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے حضرت یہ جانتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام صوفیاء کرام کی تعلیمات کی وجہ سے پھیلا صوفیاء کرام کون ہوتے ہیں یہ عموماً لوگوں کو نہیں پتا ہوتا لیکن اس کی مختلف تعریف بیان کی گئی ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ صوفیاء کرام کی زندگی "اصحاب صفہ" سے مطابقت اور مماثلت رکھتی ہے۔ اس لئے اس کو"صوفی" کہا گیا۔ آنحضرتﷺ کے زمانے میں کچھ صحابہ کرام مسجد نبویﷺکے ایک "صفہ" میں رہائش اختیار کررکھی تھی اس لئے ان کو "اصحاب صفہ" کہا جاتا ہے۔
ایک الگ تعریف میں لفظ "صوفی" سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے زمانے کے عیش و عشرت کے مقابلے میں اسلام کی اصل سادگی پر قائم تھے دیکھاجائے تو لفظ صوفی پر صوفیائے کرام کے محقیقین نے بہت بحث کی ہے بعض محقیقین کا خیال ہے کہ صوفی کو صوفی اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ صوف کا لباس استعمال کرتا ہے بعض کہتے ہیں کہ صوفی اس لیے کہتےہیں کہ وہ صف اول میں ہوتا ہے۔
البیرونی نے "کتاب الہند" میں صوفی کے توجیہہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تصوف اصل میں "سین" سے تھا اور اس کا مادہ "سوف" تھا جس کے معنی یونانئی زبان میں حکمت کے ہیں۔ دوسری صدی ہجری میں جب کتابوں کا ترجمہ ہوا تو یہ لفظ عربی زبان میں آیا اور رفتہ رفت صوفی ہوگیا۔ صوفی وہ ہوتا ہے جس کا باطن دنیا کے تمام کدورتوں سے پاک ہوچکا ہواور اس پر بھی اپنے کو دوسروں سے کسی درجہ میں بھی زیادہ نہ سمجھے۔ یعنی نفسانی لذتوں کو ترک کرنا۔ غرض یہ کہ تصوف دل کی پاکیزگی، ظاہر کی صفائی، تزکیہ نفس، حسن اخلاق اور ذکرالہٰی کا نام ہے صوفی کا منزل مقصود قرب الٰہی ہے۔
صوفی کی تربیت کے لئے چار منزلیں ہیں جن میں شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت شامل ہے۔ پہلی منزل شریعت ہے یعنی اللہ تعلیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا اور ان کے احکامات کی پابندی کرنا ہے۔ دوسری منزل طریقت ہے اس کا مطلب اخلاق کی تہذیب یعنی وہ طریقہ جو طالب اپنے پیر کی ہدایت پر اختیار کرے اور اس کے ذریعہ دل کی پاکیزگی اور قلب کی صفائی کرے۔ تیسری منزل معرفت ہے یعنی ذات حق کی معرفت کرنا ہے اور چوتھی منزل حقیقت ہے یعنی باطنی حال کی افادیت و دوستی مراد لی جاتی ہے۔
کچھ لوگ تصوف کی تعلیمات کو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوفیاء کرام نے اپنی تعلیمات کی بنیاد ہی قرآن اور حدیث پررکھی ہے۔ تمام صوفیاء کا اجماع ہے کہ اللہ ایک ہے تنہا ہے، منفرد ہے، بے نیاز ہے، قدیم ہے، عالم ہے، قادرہے، زندہ ہے، سمیع ہے، بصیر ہے، عظیم ہے، جلیل ہے، کبیر ہے، سخی ہے، مہربان ہےاور بہت بڑا ہے۔ غرض یہ کہ تمام صوفیاء کرام نے یہی درس دیا ہے کہ ظاہری عبادات کے ساتھ تزکیہ نفس اور اچھے اخلاق پر توجہ دی جائے۔
آپ سب کو معلوم ہے کہ برصغیر میں سب سے پہلے اسلام سندھ میں آیا۔ عرب سیاحوں اور تاریخ دانوں کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کی آمد سے پہلے اور ان کے زمانے میں سندھ میں سندھی زبان بولی اور پڑھی جاتی تھی اور اس میں ادب بھی موجود تھا۔ بہرحال صوفیاء کرام نے سندھی ادب وثقافت کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سومرہ حکمرانوں کا دور تھا اسی دور میں حضرت لعل شہباز قلندر بھی سندھ میں آئے اور سندھ کے لوگوں اپنے روحانی فیض سے مستفیدفرمایا۔ انہوں نے اپنا پیغام سندھی شاعری کے ذریعے عوام تک پہنچایا۔
انہوں نے تصوف کے حوالے سے سندھی شاعری کی روایات، رجحانات اور اقدار متعین کئے اور شاعری مین رنگینی، رعنائی، شگفتگی، جاذبیت اور نغمگی پیدا کی اور اس کو با مقصد بنا کر بھی خیال رکھا۔ انہوں نے سندھ کے معاشی معاشرتی حالات کی ترجمانی بھی کی اور سندھی ثقافت کی عکاسی بھی کی۔ اس طرح انہوں نے سندھ ثقافت کی نہ صرف ترجمانی کی بلکہ صوفیانہ افکار کے ذریعہ اس کی تظہیر بھی کی۔
عام طور پر انہیں قلندر لعل شہباز کہتے ہیں اصل نام سید عثمان ہے اور باقی القاب ہیں جیسے لعل، شہباز، سیف اللسان، قلندر وغیرہ چونکہ عموماً لال رنگ کے کپڑے پہنے رہتے تھے اس لیے انہیں لعل کہا جاتا ہے ان کے ایک دوست حضرت جلال بخاری بھی سرخ رنگ کے کپڑے پہنے رہتے تھے اور انہیں بھی مرشد نے "سرخ" خطاب عطا کیا تھا۔ قلندر کا لقب انہیں قلندری اختیار کرنے کی وجہ سے ملا۔ آپ کی نسب نامہ حضرت امام جعفر صادقؑ سے ملتا ہے۔
قلندر شہبار کو بچپن سے ہی علم حاصل کرنے کا شوق تھا اور سات سال کی عمر میں انہوں نے کلام مجید حفظ کرلیا تھا اس کے علاوہ تھوڑے ہی عرصے میں عربی اور فارسی زبان میں بھی مہارت حاصل کی۔ حضرت لعل شہباز کو بچپن سے ہی سیروسیاحت کا بہت شوق تھا انہوں نے بہت سیاحت کی تاہم یہ بات مصدقہ ہے کہ آپ نے مشہد اقدس میں امام علی رضاؑ کے مزار کی زیارت کی فریض حج ادا کیا، کربلا معلےٰ جانے کا شرف نصیب ہوا جہاں بابا ابراھیم ولی اللہ سے ملاقات ہوئی اور ان سے فیضیاب ہوئے اور مرشد کے حکم کے مطابق سندھ کا رخ کیا۔
سلسلہ سبزواری کے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ کربلا میں ہی "میرکلاں" سے آپ کی ملاقات ہوئی اور آپ نے انھیں سہون جانے کا حکم دیا۔ قلندر نامہ کا دعویٰ ہے کہ آپ سہون میں سن 649 میں تشریف اور اس ضمن میں انہوں نے ایک فارسی شعر سے تاریخ نکالی ہے۔ سہون میں جب آئے تو آپ نے اسی جگہ قیام کیا جو آج آپ کی درگاہ ہے اس وقت یہ ہندہ فاحشہ عورتوں کی آماجگاہ تھی۔ آپ جس روز آئے اس روز جو بھی ان فاحشہ عورتوں کے پاس آیا وہ اپنے مطلب میں قادر نہ ہوا۔ سب نے ایک دوسرے سے پوچھا اور حیران ہوئے کہ آخر کیا ماجرا ہے۔ ہوتے ہوتے لوگوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ "ولی اللہ" آگئے ہیں۔ اس کا اتنا اثر ہوا کہ عورتیں اور مرد آپ کے قدموں میں گر جئے اور سچے دل سے تونہ کرکے آپ کے فیض سے مستفید ہونے لگے اس طرح کہا جاتا ہے کہ آپ کے آنے سے قبل اس علاقے کی سرسبزی و شادانی میں کمی ہوگئی تھی لیکن آپ کی آمد سے یہ علاقہ پھر سے سسبز وشاداب ہوگیا۔
کچھ مقبرے کی رسومات کے حوالے سے بات کی جائے کہ حضرت لعل شہبار قلندر کی درگاہ میں تین وقت نوبت لگتی ہے ایک شام کے وقت اور دوسری رات کے وقت جب دروازہ بند کیا جاتا ہے۔ ان نوبت کے اوقات کار مقرر کرنے کے لیے قدیم زمانے کا گھڑیال رکھا ہوا ہے اس کے قریب ایک دیگچی میں پانی بھرا ہوا ہوتا ہے جس میں ایک سوراخ دار پیالی ہے جس میں باریک سوراخ سے پانی رس رس کر اندر آتا رہتا ہے۔ جب یہ پیالی ڈوب جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک گھڑی گزرگئی اس طرح اوقات معلوم ہوتے رہتے ہیں اور جب ایک گھڑی گزرتی ہے تو نوبت پر چوٹ لگائی جاتی ہے جس سے ایک گھڑی گزرنے کا اعلان ہوتا ہے تین وقتی نوبت کو دھمال کہا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو دھمال سندھ کے دیگر بزرگوں کی درگاہوں پر بھی لگتی ہے۔ درصل دھمال ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی "شوروغل"، "تھپ" اور "چوٹ" وغیرہ کے ہیں اصطلاحاً یہ ایک قسم کا راگ ہے جو فقیر عموماً کرتے ہیں۔
آپ کے دریائے فیض سے بہت سے لوگ مستفید ہوئے۔ جب آپ کا وصال قریب ہوا تو اپنے طالبوں کو ہدایت دے کر مراقبہ میں بیٹھ گئے اور اسی حالت میں وصال فرمایا۔ آپ کی تدفین وہیں پر ہوئی جہاں آپ نے سب سے پہلے تکیہ بنایا تھا۔ ماہ شعبان میں 18 سے 20 تاریخ تک سال آپ کی درگاہ پر عرس ہوتا ہے جس میں دور دور سے لوگ آکر شریک ہوتے ہیں اور آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ عرس میں صرف سندھ ہی سے نہیں بلکہ مکران، پنجاب، بلوچستان، سرحد اور ایران سے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اب تو سندھ حکومت کی طرف سے ادبی کانفرنس اور ثقافتی شو بھی منایا جاتا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے پورے صوبے میں عام تعطیل ہوتی ہے اخبارات اسپیشل اشو نکالتے ہیں۔
الغرض یہ کہ حضرت سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر کی زندگی محض ایک صوفی کی داستان نہیں بلکہ عشق الہیٰ اور خدمت خلق کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کی تپش آج بھی لاکھوں دلوں کو گرما رہی ہے۔ آپ نے سندھ کی دھرتی کو اپنی روحانیت، علم اور رواداری سے وہ جلا بخشی کہ سہون شریف انسانیت کے اتحاد کا مرکز بن گیا ہے۔ آپ کا پیغامِ امن، مساوات اور محبت "ہی تھا جو کسی خاص فرقے یا مذہب ایک محدود نہ تھا یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپ کے آستانے پر رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ہر پیاسا اپنی روحانی پیاس بجھانے آتا ہے۔ لعل شہباز قلندر کی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ سچی بزرگی تخت وتاج مین نہیں بلکہ نفس پر قابو پانے اور انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے میں پوشیدہ ہے حضرت کا فیض آج بھی جاری ہے اور قیامت تک حق کے متلاشیوں کےلیے مشعل راہ رہے گا۔

