Sifarat Se Mafahmat Tak
سفارت سے مفاہمت تک
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو ایک سفارتی راستہ اختیار کرنے میں پاکستان کے کردار کو بجا طور پر سراہا جانا چاہیے۔ یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ دانشمندانہ قیادت، مسلسل رابطہ کاری اور مثبت سفارت کاری کے ذریعے بظاہر ناقابلِ حل نظر آنے والے تنازعات میں بھی پیش رفت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا مختلف جنگوں، تنازعات اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، پاکستان کا ایک ذمہ دار اور تعمیری کردار ادا کرنا یقیناً باعثِ اطمینان اور قومی فخر کی بات ہے۔
تاہم ایک فکر مند پاکستانی شہری کی حیثیت سے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ جس سفارتی مہارت اور عزم کا مظاہرہ عالمی سطح پر کیا گیا ہے، کیا اسی جذبے کو ملک کے اندر اور اپنے خطے میں موجود چیلنجوں کے حل کے لیے بھی بروئے کار نہیں لایا جانا چاہیے؟ پاکستان کو آج جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں بعض ایسے ہیں جن کے دیرپا حل کے لیے محض سیکیورٹی اقدامات ہی نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، قومی مفاہمت اور وسیع تر مکالمے کی بھی ضرورت ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پائی جانے والی بے چینی، احساسِ محرومی اور سیکیورٹی چیلنجز اس بات کے متقاضی ہیں کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ ان صوبوں کے عوام پاکستان کے برابر کے شہری ہیں اور ان کے سیاسی، معاشی اور سماجی تحفظات کو سنجیدگی سے سننا اور دور کرنا قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے۔ یقیناً ریاست کی رٹ اور قانون کی بالادستی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مفاہمت، شمولیت، ترقیاتی عمل اور بامعنی سیاسی مکالمہ بھی پائیدار امن کے لیے ضروری عناصر ہیں۔ جو عناصر ہتھیار اٹھانے کے بجائے آئین اور سیاسی عمل کے دائرے میں رہ کر اپنی بات کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے مکالمے اور شراکت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔
اسی طرح کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام سے جڑا ہوا ایک اہم تنازع ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور مستقبل میں بھی یہ موقف برقرار رہنا چاہیے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر مسلسل کوششوں، بین الاقوامی فورمز پر مؤثر انداز میں مقدمہ پیش کرنے اور خطے میں امن کے لیے مثبت اقدامات جاری رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہونے کے بجائے کسی قابلِ قبول اور پائیدار حل کی جانب بڑھ سکے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ دونوں ممالک مذہب، تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ کے مضبوط رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ سرحدی سلامتی اور دہشت گردی جیسے معاملات یقیناً اہم ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کے باوجود مسلسل رابطے، سفارتی مصروفیت، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر روابط کے ذریعے غلط فہمیوں کو کم کرنے اور اعتماد سازی کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان درحقیقت پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات بھی بدستور کشیدہ ہیں، جبکہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال نے مزید تشویش کو جنم دیا ہے۔ اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں اور پاکستان کو اپنے قومی مفادات، آبی حقوق اور اصولی مؤقف کا بھرپور دفاع کرنا چاہیے۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا کے تقریباً دو ارب عوام کی خوشحالی، ترقی اور استحکام کا انحصار بالآخر امن، رابطے اور تعاون پر ہے۔ اگر پاکستان مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن بقائے باہمی کی پیشکش جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت ہوگا بلکہ عالمی برادری کے سامنے بھی اس کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہوگا۔
ملک کے اندر بھی قومی مفاہمت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ سیاسی اختلافات کسی بھی جمہوری معاشرے کا فطری حصہ ہیں، لیکن اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ایسا سیاسی ماحول جہاں تمام آئینی و جمہوری قوتوں کو مساوی مواقع حاصل ہوں، جہاں مکالمے کو ترجیح دی جائے اور جہاں برداشت اور احترام کی ثقافت کو فروغ دیا جائے، وہی پاکستان کو سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
پاکستان نے حالیہ سفارتی کامیابی کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہی حکمت، صبر، دور اندیشی اور مفاہمت کا جذبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، کشمیر، افغانستان اور بھارت کے حوالے سے پالیسی سازی میں بھی جھلکے تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے اور خود پاکستان کے مستقبل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی سفارتی کامیابیوں کو صرف قومی اعزاز کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ انہیں ایک مثال کے طور پر اپنائیں کہ اختلافات خواہ کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، مکالمہ، اعتماد سازی اور خیرسگالی ہی پائیدار امن اور ترقی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔
ایک پُرامن، متحد، مستحکم اور خوداعتماد پاکستان ہی وہ خواب ہے جسے ہر محبِ وطن اور فکر مند شہری حقیقت کا روپ دھارتے دیکھنا چاہتا ہے۔

