Pakistan: Aik Be Chain Zehan Ki Rudad
پاکستان: ایک بے چین ذہن کی روداد
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے ملک میں زندہ ہیں جو بیک وقت کئی مختلف زمانوں میں سانس لے رہا ہے۔ ایک پاکستان وہ ہے جو جدید عمارتوں، ڈیجیٹل بینکاری، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کی بات کرتا ہے۔ دوسرا پاکستان وہ ہے جہاں آج بھی صاف پانی، معیاری تعلیم، بنیادی صحت اور انصاف ایک خواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان ایسا فاصلہ حائل ہو چکا ہے جو صرف دولت کا نہیں، سوچ، مواقع اور امید کا بھی ہے۔
میرے ذہن میں اکثر یہ سوال گردش کرتا ہے کہ آخر ہم ایک قوم ہوتے ہوئے بھی اتنے بٹے ہوئے کیوں ہیں؟ ہمارے شہروں اور دیہات میں فاصلہ ہے، امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ ہے، حکمران اور عوام کے درمیان فاصلہ ہے، تعلیم یافتہ اور محروم طبقوں کے درمیان فاصلہ ہے، حتیٰ کہ ایک ہی شہر کے دو محلوں کے رہنے والے بھی گویا دو مختلف دنیاؤں کے باسی دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی شاید غربت نہیں بلکہ ناہمواری ہے۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جن کے لیے دنیا کی بہترین جامعات، بہترین علاج اور بہترین مواقع دستیاب ہیں اور دوسری طرف کروڑوں لوگ ہیں جن کی زندگی روزگار، مہنگائی اور بنیادی ضروریات کی مسلسل جدوجہد میں گزر جاتی ہے۔ جب ایک معاشرے میں مواقع کی تقسیم غیر منصفانہ ہو جائے تو محرومی صرف جیبوں میں نہیں، دلوں میں بھی جنم لیتی ہے۔
ہماری سیاست بھی اس تقسیم کو کم کرنے کے بجائے اکثر بڑھاتی رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے بجائے مختلف خانوں میں تقسیم کرتی رہی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کی فراہمی آسان بنائی، مگر ساتھ ہی نفرت، افواہوں اور تعصب کو بھی نئی طاقت دی۔ آج ہر گروہ اپنے سچ کے ساتھ کھڑا ہے اور دوسروں کے سچ کو سننے پر آمادہ نہیں۔
تعلیم کا شعبہ بھی اس خلیج کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف مہنگے نجی ادارے ہیں جہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان عالمی منڈی میں جگہ بنا لیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے تعلیمی ادارے ہیں جو بچوں کو بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے سے قاصر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی ملک کے نوجوانوں کے درمیان صلاحیتوں اور مواقع کا فرق مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
ان حالات میں مایوسی ایک فطری ردِعمل معلوم ہوتی ہے، مگر مایوسی کسی قوم کا مستقبل تعمیر نہیں کرتی۔ اگر ہمیں اپنے حالات بدلنے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں معجزوں کے انتظار سے دستبردار ہونا ہوگا۔ کوئی ایک رہنما، کوئی ایک جماعت، کوئی ایک ادارہ یا کوئی بیرونی طاقت ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتی۔ پائیدار تبدیلی ہمیشہ معاشروں کے اندر سے جنم لیتی ہے۔
بہتری کی ابتدا تعلیم سے ہونی چاہیے۔ ایسی تعلیم جو صرف ڈگری نہیں بلکہ تنقیدی سوچ، برداشت، سائنسی ذہن اور عملی مہارت پیدا کرے۔ ہمیں اپنی معیشت کو پیداوار، صنعت، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ساتھ جوڑنا ہوگا تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے حقیقی مواقع پیدا ہوں۔ قانون کی بالادستی کو نعرے سے حقیقت بنانا ہوگا تاکہ عام شہری کو بھی وہی تحفظ اور انصاف ملے جو طاقتور طبقوں کو حاصل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں قومی مکالمے کی نئی روایت بھی قائم کرنا ہوگی۔ ہمیں ایک دوسرے کو سننا سیکھنا ہوگا۔ اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوری معاشروں کی طاقت سمجھنا ہوگا۔ صوبوں، زبانوں، فرقوں اور طبقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے بغیر کوئی ترقی دیرپا نہیں ہو سکتی۔
مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے مسائل جتنے گہرے ہیں، اس کے لوگوں کی صلاحیتیں بھی اتنی ہی وسیع ہیں۔ یہ سرزمین بے شمار محنتی، باصلاحیت اور باوقار انسانوں کا گھر ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی توانائی الزام تراشی اور نجات دہندوں کی تلاش میں ضائع کرنے کے بجائے اداروں کی مضبوطی، تعلیم کی بہتری اور معاشی انصاف کے قیام پر صرف کریں۔
شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ ہم تقسیم کے اس دور میں باہمی ربط پیدا کر سکیں۔ اگر ہم نے طبقوں، علاقوں اور ذہنوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کم کر لیے تو مستقبل ہمارے حق میں ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے یہی راستہ اختیار کیے رکھا تو آنے والی نسلیں بھی انہی سوالوں کے جواب تلاش کرتی رہیں گی جن کا سامنا آج ہم کر رہے ہیں۔
یہ سہی ہے کہ قومیں ایک دن میں نہیں بنتیں اور ہم پچھلی اٹھ دہائیوں سے یہ بات رٹے جارہے ہیں! مگر ہمیں یہ حقیقت بھی ماننی ہوگی قومیں ایک دن یہب فیصلہ ضرور کرتی ہیں کہ انہیں کس سمت جانا ہے۔ پاکستان کو بھی اب یہی فیصلہ کرنا ہوگا۔

