Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Meritocracy Ka Fareb

Meritocracy Ka Fareb

میرٹوکریسی کا فریب

میرٹوکریسی خود کو انصاف کے طور پر پیش کرتی ہے: ایک ایسا نظام جہاں صلاحیت اور محنت کامیابی کا تعین کرتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ مائیکل جے سینڈل اپنی کتاب The Tyranny of Merit میں دلیل دیتے ہیں کہ، یہ تصور حل کم اور ایک مہذب عذر زیادہ ہے۔ یہ صرف عدم مساوات پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے اخلاقی جواز بھی فراہم کرتا ہے۔

میریٹوکریسی کی دنیا میں کامیاب لوگ صرف کامیاب نہیں ہوتے بلکہ "حقدار" سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ناکام افراد کو محض بدقسمت نہیں بلکہ "قصوروار" ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہی آج کی اشرافیت Elitism کا خاموش تشدد ہے۔ یہ مراعات کو خوبی کا لباس پہناتا ہے اور ساختی ناکامی کو ذاتی کمزوری بنا کر پیش کرتا ہے۔

یہ منظر خاص طور پر پاکستان جیسے پسماندہ معاشروں میں نمایاں ہے، جہاں "میرٹ" اکثر ایک غیرجانبدار پیمانہ نہیں بلکہ پہلے سے موجود مراعات کی نئی شکل ہوتا ہے۔ معیاری تعلیم تک رسائی، انگریزی زبان پر عبور، شہری روابط، یہ سب حاصل کردہ نہیں بلکہ وراثتی اثاثے ہیں۔ مگر انہی کو کامیابی کی دلیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ان سے محروم کروڑوں افراد کو محنت کی کمی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔

یہ میریٹوکریسی نہیں، بلکہ درجہ بندی ہے جسے اخلاقی رنگ دے دیا گیا ہے۔

سینڈل کا نقطۂ نظر اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا ہے! اگر میرٹوکریسی مکمل طور پر منصفانہ بھی ہو، تب بھی یہ سماجی زندگی کو نقصان پہنچائے گی۔ کیونکہ یہ انسانی اقدار کو کامیابی سے جوڑ دیتی ہے، جس سے اشرافیہ میں غرور اور باقی لوگوں میں تذلیل جنم لیتی ہے۔ یوں عدم مساوات صرف معاشی فرق نہیں رہتی بلکہ کردار کا فیصلہ بن جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ عمل جمہوریت کو بھی کمزور کر دیتا ہے، بداعتمادی بڑھتی ہے اور "حقدار" اور "نااہل" کی زبان سیاسی تقسیم کو گہرا کرتی ہے۔

تو کیا اس میں کوئی خیر تلاش کی جا سکتی ہے؟ صرف اسی صورت میں جب ہم میریٹوکریسی کے بنیادی فریب کو تسلیم کریں۔ کامیابی کبھی مکمل طور پر ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتی، اس میں قسمت، وقت اور سماجی حالات کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار کرنا بلند نظری نہیں بلکہ خود فریبی ہے۔ ایک زیادہ منصفانہ معاشرہ اسی اعتراف سے شروع ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم انسانی وقار کو صرف کامیابی سے جوڑنے کی عادت ترک کریں، ان کاموں کی قدر پہچانیں جنہیں بازار اور اشرافیہ نظرانداز کرتی ہے اور مشترکہ تقدیر کے احساس کو دوبارہ زندہ کریں۔

سینڈل کوئی آسان حل پیش نہیں کرتے اور یہی اس تنقید کی کمزوری بھی ہے۔ اخلاقی دلائل اگر عملی تبدیلی سے خالی ہوں تو وہ خود اشرافیہ کی گفتگو بن کر رہ جاتے ہیں، دلکش مگر محدود۔ اس کے باوجود ان کی تنبیہ اہم ہے: جو معاشرہ میرٹ کو عبادت بنا لے، وہ آخرکار یکجہتی کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ میرٹوکریسی کو کیسے بہتر بنایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اس پر بھروسا کر سکتے ہیں؟ کیونکہ اگر انصاف ہی وہ زبان بن جائے جس کے ذریعے ہم محرومی کو جائز ٹھہراتے ہیں، تو میرٹوکریسی صرف ایک خامی نہیں، بلکہ ایک ایسا فریب ہے جسے ہم نے اجتماعی طور پر سچ مان لیا ہے۔

Check Also

Zara Nam Ho To

By Dr. Ijaz Ahmad