Thursday, 04 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Bharat Aur Pakistan: Jang Ya Aman?

Bharat Aur Pakistan: Jang Ya Aman?

بھارت اور پاکستان: جنگ یا امن؟

اس مسئلے کو اگر ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو بھارت اور پاکستان کے درمیان امن صرف ایک سفارتی یا سیاسی خواہش نہیں، بلکہ یہ ہمارے لوگوں کی بہتر زندگی کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔ اس خطے کی تاریخ، سیاست اور معیشت پر کام کرنے والے بہت سے دانشور بار بار اس بات کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں۔

اصل بات بہت سادہ ہے دونوں ملکوں میں کروڑوں لوگ آج بھی غربت، بے روزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلسل دشمنی دونوں ملکوں کی ترقی پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ وہ پیسہ، وقت اور توانائی جو عوام کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ ہو سکتی تھی، وہ دفاعی اخراجات، سرحدی کشیدگی اور سیاسی بحرانوں میں لگ جاتی ہے۔

فیض احمد فیض نے جنگ، نفرت اور تقسیم کے ماحول کے خلاف ہمیشہ انسان دوستی کی بات کی۔ ان کی شاعری بار بار یہ یاد دلاتی ہے کہ اصل جدوجہد انسان کی عزت، امن اور انصاف کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ مستقل دشمنی کے لیے۔ انہوں نے لکھا تھا:

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ شعر صرف تقسیم کے درد کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس تلخ حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ سیاسی تنازعات کا اصل بوجھ عام لوگ اٹھاتے ہیں۔

تنازع کی اصل قیمت: معاشی ماہر امرتیہ سین Amartya Sen جیسے مفکرین کافی عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ ترقی صرف GDP بڑھنے کا نام نہیں۔ اصل ترقی یہ ہے کہ لوگوں کو اچھی تعلیم، بہتر صحت، محفوظ زندگی اور آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔۔ اس نظر سے دیکھیں تو بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلسل کشیدگی براہِ راست انسانی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ دونوں ملک اربوں روپے ہتھیاروں، فوجی تیاریوں اور سرحدی انتظامات پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ یہی وسائل اسکولوں، اسپتالوں، پانی، بجلی اور دیہی ترقی پر لگ سکتے تھے۔

ساحر لدھیانوی نے اسی تضاد پر بہت گہری تنقید کی تھی۔ ان کی نظموں میں بار بار یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب لوگ بھوک، غربت اور محرومی کا شکار ہوں تو جنگی جنون کس کے فائدے کے لیے ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے:

خون اپنا ہو یا پرایا ہو

نسلِ آدم کا خون ہے آخر

یہی سوچ جنوبی ایشیا کے تناظر میں بھی اہم ہے، جہاں سرحد کے دونوں طرف عام انسانوں کے خواب، خوف اور ضروریات ایک جیسی ہیں۔

صرف جنگ ہی مسئلہ نہیں ہوتی۔ جنگ کامسلسل خوف بھی بہت مضر ہے اور نقصان پہنچاتا ہے۔ تجارت متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور پورا خطہ معاشی طور پر پیچھے رہ گیا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں کے کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں پر۔

سیکیورٹی کا چکر: بین الاقوامی سیاست کے ماہرین اکثر کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان ایک "سیکیورٹی ڈائلیما" security dilemma میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یعنی ایک ملک جب اپنی حفاظت کے ذرائع کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو دوسرا اسے خطرہ سمجھتا ہے اور پھر دونوں طرف ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جاتی ہےاور مسلسل ہورہی ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ نہ مکمل جنگ ہوتی ہے، نہ مکمل امن، صرف مسلسل بداعتمادی اور خوف کی فضا قائم ہے۔

کیفی اعظمی نے جنگ اور طاقت کی سیاست کے مقابلے میں انسان اور محبت کو ترجیح دی۔ ان کی شاعری میں بار بار یہ احساس ملتا ہے کہ سرحدیں انسانوں کے دلوں سے بڑی نہیں ہوتیں۔ ان کا معروف شعر ہے:

آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی

اگرچہ یہ شعر براہِ راست جنگ پر نہیں، مگر اس میں موجود بے چینی اور سماجی اضطراب اسی دنیا کی عکاسی کرتا ہے جہاں عام آدمی ہمیشہ غیر یقینی حالات کی قیمت چکاتا ہے۔

چونکہ ہمارے یہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے کوئی بھی بڑا تنازع صرف سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ عام آدمی کے لیے امن کوئی شاعرانہ خیال نہیں، بلکہ بقا کی ضرورت ہے۔

معاشی فائدے جو ضائع ہو رہے ہیں: جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں آپس کی تجارت بہت کم ہے۔ باوجود اسکے کہ بھارت اور پاکستان جغرافیائی طور پر اتنے قریب ہیں، ثقافتی طور پر اتنے جڑے ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے درمیان تجارت اپنی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے۔

اگر دونوں ملک معمول کے تعلقات قائم کریں، اپس میں تجارت کے رستےکھولیں، ٹرانسپورٹ اور کاروباری روابط بہتر کریں، تو اس کا فائدہ براہِ راست عام لوگوں کو ہوگا۔ نئی نوکریاں پیدا ہوں گی، چیزیں سستی ہوں گی، کاروبار بڑھے گا اور معیشت زیادہ مستحکم ہوگی۔

گلزار نے کئی بار اپنی نظموں اور گفتگو میں اس دکھ کا اظہار کیا ہے کہ سیاست نے ان لوگوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے جو زبان، ثقافت، موسیقی اور یادوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی تحریروں میں بار بار "سرحد" ایک سیاسی لکیر کے طور پر سامنے آتی ہے، انسانی تقسیم کے طور پر نہیں۔ ان کا ایک معروف احساس یہ ہے کہ:

سرحدیں انسان بناتے ہیں، رشتے نہیں

یہ صرف شاعری یا لفاظی نہیں بلکہ ان کے مجموعی فکری مؤقف کا خلاصہ ہے، مگر یہی سوچ اس پورے مسئلے کے مرکز میں موجود ہے۔

مشترکہ مسائل، مشترکہ حل: بھارت اور پاکستان دونوں کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے: پانی کی کمی، آبادی میں اضافہ، ماحولیاتی تبدیلی Climate Change، سیلاب، خشک سالی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور زرعی بحران۔ مثلاً دریائے سندھ کا نظام سیاسی سرحدوں کو نہیں مانتا۔ موسمیاتی تبدیلی دونوں ملکوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ایسے مسائل کا حل صرف تعاون سے نکل سکتا ہے۔

چونکہ دونوں ممالک مسلسل ایک دوسرے پر شک کرتے رہے ہیں، تو ایسے مسائل حل کرنے کے لیے ضروری معلومات کا تبادلہ، مشترکہ منصوبہ بندی اور اعتماد پیدا ہی نہیں ہو پاتا۔

اکثر مدبرین مختلف مواقعوں پر اکثر اوقات عوامی گفتگو میں یہ مانتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے عام لوگ ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے، اصل مسئلہ سیاسی بیانیوں، تاریخی زخموں اور طاقت کی سیاست کا ہے۔ ان کے مطابق ادب، موسیقی اور ثقافت ہمیشہ نفرت سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

ثقافت اور لوگوں کے درمیان فاصلے: ایک اور نقصان جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے، وہ سماجی اور ثقافتی دوری ہے۔ بھارت اور پاکستان کی زبانیں، موسیقی، کھانے، فلمیں، شاعری اور روایات ایک دوسرے سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔ جب سیاسی تعلقات خراب ہوتے ہیں تو ثقافتی تبادلے بھی رک جاتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے صرف میڈیا یا سیاسی بیانیوں کے ذریعے دیکھنے لگتے ہیں۔

ششی تھرور جیسے لکھنے والے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ مشترکہ تاریخ رکھنے والے معاشروں کے درمیان مصنوعی دیواریں دونوں طرف نقصان پہنچاتی ہیں۔

امن کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ انسانوں کے درمیان اختلافات ہمیشہ رہتے ہیں۔ لیکن امن کا مطلب یہ ہے کہ مسائل بات چیت سے حل کیے جائیں، دشمنی سے نہیں۔

اصل ترجیح کیا ہونی چاہیے؟ اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو بھارت اور پاکستان دونوں کے اصل مسائل اندرونی ہیں، بیرونی نہیں۔ غربت، تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات جیسے چیلنجز کہیں زیادہ اہم ہیں۔ لیکن جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، تو پوری توجہ انہی تنازعات پر چلی جاتی ہے۔ وسائل بھی ادھر لگتے ہیں، سیاست بھی اسی کے گرد گھومنے لگتی ہے اور عوامی مسائل پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اسی لیے مختلف نظریات رکھنے والے بہت سے تجزیہ کار آخرکار ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں: بھارت اور پاکستان کے درمیان استحکام کوئی "لگژری" نہیں، بلکہ خطے کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری شرط ہے۔

نتیجہ: امن سے نہ تو سارے مسائل فوراً ختم ہو جائیں گے، نہ غربت جادو کی طرح غائب ہو جائے گی۔ لیکن یہ ضرور ہوگا کہ ایک بہت بڑی رکاوٹ کم ہو جائے گی جو دونوں ملکوں کی ترقی کو سست کرتی ہے۔

عام لوگوں، کسانوں، مزدوروں، طلبہ، دکانداروں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں، کے لیے امن کا مطلب ہے بہتر زندگی، زیادہ مواقع، کم خوف اور زیادہ استحکام۔

فیض، ساحر، کیفی، گلزار اور جاوید اختر جیسے ادیبوں اور شاعروں کی آوازیں ہمیں یہی یاد دلاتی ہیں کہ جنگیں آخرکار عوام کو کمزور کرتی ہیں، جبکہ امن انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔

اس لحاظ سے امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں۔ امن دراصل ترقی، وقار اور انسانی مستقبل کی بنیاد ہے۔

Check Also

Aaj Ka Ustad Mutasir Kyun Nahi Karta?

By Imran Ismail