Aaiye Zara Ghor Karen
آئیے ذرا غور کریں
آئیے ذرا غور کریں کہ ہم کتنی خوبصورت دنیا میں رہتے ہیں؟ ہم صبح آنکھ کھولتے ہیں، دن گزارتے ہیں اور رات کو سو جاتے ہیں۔ زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے، مگر شاید اسی مصروفیت میں ہم ان بے شمار نعمتوں کو دیکھنا بھول جاتے ہیں جو ہر لمحہ ہمیں اپنے رب کی یاد دلاتی ہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ انسان سب کام چھوڑ کر چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جائے، اپنے اردگرد دیکھے اور سوچے کہ آخر ہم کس قدر عظیم نعمتوں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔
جب میں صبح سورج کو طلوع ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے رب کی رحمت یاد آتی ہے۔ اندھیری رات کے بعد روشنی کا پھیل جانا محض ایک روزمرہ کا منظر نہیں بلکہ ایک نعمت ہے۔ وہی سورج زمین کو حرارت دیتا ہے، کھیتوں کو زندگی دیتا ہے اور ہمارے دنوں کو روشن کرتا ہے۔ ہم شاید اس کے عادی ہو چکے ہیں، لیکن اگر ایک دن یہ روشنی نہ ہو تو زندگی کتنی دشوار ہو جائے۔
تب دل میں سورۂ رحمن کی وہ صدا گونجتی ہے: "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ"، پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
پھر میں پرندوں کی سریلی آوازیں سنتا ہوں۔ صبح کی خاموش فضا میں ان کی چہچہاہٹ ایک عجیب سی تازگی پیدا کر دیتی ہے۔ وہ نہ کل کی فکر کرتے ہیں اور نہ آنے والے دنوں کی۔ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور رزق کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ ان کی آوازوں میں بھی ایک سبق ہے، ایک یقین ہے، ایک شکر ہے۔
درختوں کو ذرا دیکھیں۔ کتنے خاموش ہیں، مگر کتنے فیاض ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا آندھی، وہ اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ ہمیں سایہ دیتے ہیں، پھل دیتے ہیں، ہوا کو پاکیزہ بناتے ہیں۔ جب ہوا چلتی ہے اور ان کی شاخیں آہستہ آہستہ جھومتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بھی اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہوں۔
باغوں میں کھلے ہوئے پھولوں کو دیکھو۔ ان کے رنگ، ان کی خوشبو اور ان کی نزاکت دل کو حیران کر دیتی ہے۔ ایک ہی مٹی سے کتنے مختلف رنگ اور خوشبوئیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ حسن خود بخود تو نہیں آیا۔ اس کے پیچھے ایک ایسا خالق ہے جو حسن کو بھی جانتا ہے اور محبت کو بھی۔
پھر رات آتی ہے۔ آسمان ستاروں سے بھر جاتا ہے اور چاند اپنی نرم روشنی زمین پر بکھیر دیتا ہے۔ ایسے لمحوں میں انسان اپنی نہائیت چھوٹی سی حیثیت کو محسوس کرتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اس عظیم کائنات میں تنہا نہیں ہے۔ ایک رب ہے جو اسے دیکھتا ہے، سنتا ہے اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔
بارش برستی ہے تو سوکھی زمین زندہ ہو جاتی ہے۔ مٹی سے خوشبو اٹھتی ہے، درخت دھل جاتے ہیں اور فضا میں ایک نئی تازگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہر بارش گویا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مایوسی کے بعد امید آتی ہے، خشک سالی کے بعد رحمت آتی ہے اور مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔
سمندر اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہیں، دریا بہہ رہے ہیں، پہاڑ اپنی شان سے کھڑے ہیں اور جنگلات میلوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے کامل نظام کے تحت چل رہا ہے جس میں کوئی کمی نہیں، کوئی بے ترتیبی نہیں۔ یہ سب اپنے رب کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
لیکن دیکھو، اللہ کی نعمتیں صرف آسمانوں، زمینوں، درختوں اور دریاؤں تک محدود نہیں ہیں۔ ذرا اپنے آپ کو بھی دیکھو۔ تمہاری آنکھیں جو یہ سب دیکھ رہی ہیں، تمہارے کان جو یہ آوازیں سن رہے ہیں، تمہارا دل جو محبت محسوس کرتا ہے، تمہاری عقل جو سوچتی اور سمجھتی ہے، یہ سب بھی اللہ کی عطا ہیں۔
اور پھر وہ لوگ جو تمہاری زندگی کا حصہ ہیں۔ ماں کی محبت، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کا ساتھ، دوستوں کی مخلصی، اولاد کی مسکراہٹ اور وہ تمام لوگ جو تمہارے لیے دعا کرتے ہیں یا تمہیں یاد رکھتے ہیں۔ یہ رشتے بھی اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ دنیا کے حسین مناظر اپنی جگہ، مگر کسی سچے دل کی محبت ان سب سے بڑھ کر سکون دیتی ہے۔
اکثر ہم خوشی کو دور کہیں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ وہ ہمارے آس پاس بکھری ہوتی ہے۔ ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میں، بارش کی ایک بوند میں، کسی بچے کی ہنسی میں، کسی اپنے کی دعا میں، یا ایک پرسکون رات کے سکوت میں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ نعمتیں کم ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں دیکھنا بھول جاتے ہیں۔
اسی لیے جب کبھی زندگی مشکل لگے، دل پر بوجھ ہو یا حالات تمہاری خواہش کے مطابق نہ ہوں، تو ذرا رک جانا۔ آسمان کی طرف دیکھنا، اپنے دل کی دھڑکن سننا، ایک گہری سانس لینا اور سوچنا کہ تمہارے رب نے تمہیں کیا کیا عطا کیا ہے۔ پھر سورۂ رحمن کی وہ صدا خود بخود دل میں گونجنے لگے گی:
"فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ"
آخر ہم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلا سکتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ زندگی خود ایک نعمت ہے۔ سانس ایک نعمت ہے۔ صحت ایک نعمت ہے۔ ایمان ایک نعمت ہے۔ محبت ایک نعمت ہے۔ امید ایک نعمت ہے اور اپنے رب کو پہچان لینا، اس کی رحمت کو محسوس کرنا اور اس کے سامنے عاجزی سے سر جھکا دینا سب سے بڑی نعمت ہے۔
انسان جتنا غور کرتا ہے، اتنا ہی اس پر یہ حقیقت روشن ہوتی جاتی ہے کہ وہ نعمتوں کے بیکراں سمندر میں رہ رہا ہے۔ ہر منظر، ہر موسم، ہر سانس اور ہر دھڑکن اپنے رب کی رحمت کی گواہی دے رہی ہے۔
آئیے، اس دنیا کو صرف آنکھوں سے نہ دیکھیں بلکہ دل سے محسوس کریں۔ ہر صبح کو ایک تحفہ سمجھیں، ہر شام کو ایک راحت جانیں، ہر نعمت پر شکر ادا کریں اور ہر حال میں اپنے رب کی حمد بیان کریں۔
اور جب دل اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شمار کرنے لگے تو ہماری زبان بے اختیار پکار اٹھے گی:
الحمد للّٰہ رب العالمین
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

