Naye Saal Ka Azm, Khwab Se Haqeeqat Ka Safar
نئے سال کے عزم، خواب سے حقیقت کا سفر

نیا سال محض کیلنڈر کی ایک نئی تاریخ نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کو اپنی ذات، اپنی زندگی اور اپنے خوابوں پر ازسرِنو غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہر سال کے آغاز پر ہم کئی خواہشات، ارادے اور خواب دل میں سجا لیتے ہیں۔ یہ خواب کبھی کامیابی کے ہوتے ہیں، کبھی سکون کے، کبھی خود کو بہتر بنانے کے اور کبھی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کیا خواب دیکھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ان خوابوں کو حقیقت میں کیسے ڈھالتے ہیں۔
نئے سال کے عزم دراصل اسی خواب سے حقیقت کے سفر کی پہلی سیڑھی ہوتے ہیں۔ انسانی فطرت میں امید کا عنصر ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ نیا سال اس امید کو تازہ کر دیتا ہے کہ شاید یہ سال پچھلے سال کی ناکامیوں کا ازالہ کر دے، شاید اس بار ہم وہ سب کچھ حاصل کر لیں جو پہلے ممکن نہ ہو سکا۔ مگر محض امید کافی نہیں ہوتی۔ عزم وہ قوت ہے جو امید کو سمت دیتا ہے اور خواب کو عمل میں بدلتا ہے۔ بغیر عزم کے خواب محض خیال رہ جاتے ہیں اور بغیر عمل کے عزم صرف الفاظ کا مجموعہ بن جاتا ہے۔
اکثر لوگ نئے سال پر بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، مگر کچھ ہی دنوں میں وہ وعدے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم خواب تو دیکھتے ہیں، مگر ان کی تکمیل کے لیے عملی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ خواب اور حقیقت کے درمیان جو خلا ہے، اسے پُر کرنے کے لیے نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
نیا سال ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی بلکہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے شروع ہوتی ہے۔ نئے سال کے عزم کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ حقیقت پسندانہ ہوں۔ غیر حقیقی اور مبالغہ آمیز اہداف انسان کو مایوسی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر ہم خود کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کن پہلوؤں میں بہتری ممکن ہے اور کن عادات کو ترک کرنا ضروری ہے۔
خواب وہی کارآمد ہوتے ہیں جو ہماری صلاحیتوں اور حالات کے مطابق ہوں اور عزم وہی مضبوط ہوتا ہے جس کی بنیاد خود شناسی پر ہو۔ خواب سے حقیقت کے سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ خوف ہے۔ ناکامی کا خوف، لوگوں کی رائے کا خوف اور بعض اوقات کامیابی کا خوف بھی انسان کو آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ نیا سال ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ خوف کے سائے سے نکل کر ہی ہم اپنی اصل طاقت کو پہچان سکتے ہیں۔
عزم کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کبھی ناکام نہیں ہوں گے، بلکہ یہ ہے کہ ناکامی کے باوجود ہم رکیں گے نہیں۔ اس سفر میں وقت کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وقت ایک ایسا سرمایہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا۔ نئے سال کا عزم اگر وقت کی قدر کے بغیر کیا جائے تو وہ محض ایک رسمی اعلان بن کر رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خوابوں کی تکمیل کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات واضح کرنی پڑتی ہیں۔ غیر ضروری مصروفیات سے بچنا اور اپنی توانائی کو درست سمت میں استعمال کرنا ہی خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ہنر ہے۔
نئے سال کے عزم کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ دوسروں کے لیے بھی بہتر بننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ہمارے خواب صرف ذاتی فائدے تک محدود ہوں تو ان میں وسعت اور گہرائی پیدا نہیں ہو سکتی۔ جب ہم اپنے عزم میں دوسروں کی خوشی، معاشرے کی بہتری اور انسانیت کی خدمت کو شامل کرتے ہیں تو ہمارا سفر زیادہ بامعنی ہو جاتا ہے۔ ایسے خواب دیرپا ہوتے ہیں اور ایسی حقیقت معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتی ہے۔ خواب سے حقیقت تک پہنچنے کے لیے خود احتسابی نہایت ضروری ہے۔
ہمیں وقتاً فوقتاً یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہم اپنے عزم پر کہاں تک قائم ہیں۔ اگر ہم راستے سے بھٹک جائیں تو خود کو الزام دینے کے بجائے اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔ نیا سال ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل عمل ہے، جہاں اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ نئے سال کے عزم کا تعلق صرف مادی کامیابیوں سے نہیں بلکہ ذہنی اور روحانی سکون سے بھی ہے۔ اگر ہم اپنے خوابوں میں دل کی تسکین، اندرونی امن اور شکر گزاری کو شامل کریں تو ہماری زندگی زیادہ متوازن ہو سکتی ہے۔
حقیقت کی اصل خوبصورتی بھی اسی توازن میں ہے، جہاں خواب ہمیں آگے بڑھنے کی تحریک دیتے ہیں اور عزم ہمیں زمین سے جوڑے رکھتا ہے۔ نئے سال کے عزم دراصل خود سے کیا گیا ایک وعدہ ہوتے ہیں۔ یہ وعدہ کہ ہم کل سے بہتر آج بننے کی کوشش کریں گے، کہ ہم خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعبیر کے لیے عمل بھی کریں گے۔ خواب سے حقیقت کا سفر آسان نہیں، مگر یہی سفر زندگی کو معنی عطا کرتا ہے۔ اگر ہم سچائی، محنت اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنا لیں تو نیا سال محض ایک نیا آغاز نہیں بلکہ ایک نئی پہچان بن سکتا ہے۔

