Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abida Raz Bhutto
  4. Parinde Joint Family System Mein Rehte Hain

Parinde Joint Family System Mein Rehte Hain

پرندے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں

اتوار کی صبح سویرے اپنے گھر کے چھوٹے سے باغیچے میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا میں چڑیوں کا چہچہانا دل کو بہت لبھا رہا تھا۔ ابھی ان کے ذکر سے سرور لے ہی رہی تھی کہ اتنے میں سبطین حیدر (میرا چھوٹا بیٹا) آنکھیں ملتا ہوا آ کر میری گود میں بٹھ گیا۔ اسکول جانے والے دنوں میں ان کے آگے ڈھول بجا لیں۔ مجال ہے انکو سنائی دے اور چھٹی والے دن ان کا بس چلے تو تہجد کے وقت اٹھ کے بیٹھ جائیں۔

خیر موصوف تھوڑا ہوش میں آئے تو کہنے لگے "مما یہ پرندے اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں؟" میں نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں۔ تھوڑا سوچنے کے بعد کہنے لگا "پھر اپنے دل میں کریں ناں، اتنا چیں چیں چیں کیوں کر رہے ہیں؟"

ہا ہا ہا۔۔ میں اس کی معصومیت پر ہنسی۔۔

پھر اس کو مطمئن کرنے کے لیے کہا کہ ان کا یوں ذکر کرنا اللہ پاک کو بہت پسند ہے۔

ہہہہہممممم اچھا اسلئے بابا بھی اتنی اونچی آواز میں اللہ پاک کا ذکر کرتے ہیں۔۔!

اس بار میں نے اپنی جان چھڑانے کے لیے اسے ہاں کہہ دیا۔ یہ سن کر وہ میری گود سے اتر کر اندر کمرے میں جانے لگا۔ میں خوش ہوئی کہ چلو بات سمجھ میں آگئی ہے میرے نور نظر کو۔ لیکن یہ خوش فہمی بھی چند سیکنڈ کی تھی۔۔ آخر میرا بیٹا تھا اتنی جلدی کیسے مانتا۔۔

ہاں جی اب کیا ہے؟ میں نے اس کے دوبارہ واپس آنے پر پوچھا۔۔

لیکن مما بابا تو کبھی کبھی خاموش ہو جاتے ہیں اور یہ اتنی چڑیائیں ھیں یہ تو خاموش بھی نہیں ہوتیں۔ ایسا کیوں؟

ابھی میں بولنے ہی لگی تھی کہ جناب خود ہی کہنے لگے "میں بتاؤں۔۔ "

ہاں جی بتائیں۔۔ میں نے متجسس ہو کر کہا۔

"مما یہ پرندے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں ناں اسلیے"۔۔

یہ کہہ کر سبطین حیدر تو اندر چلا گیا لیکن میں گہری سوچ میں پڑ گئی۔۔ واقعی اگر پرندوں کا آج کل کے انسانوں سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پرندوں میں مل جل کر رہنے کا فن انسانوں سے زیادہ ہے۔ ایسا کیا ہے کہ یہ ننھی سی مخلوق پیار محبت سے رہنے میں اشرف المخلوقات سے سبقت لے جاتی ہے۔۔

شاید ان کی زمینیں نہیں ہوتیں جن کے بٹواروں پر یہ لڑیں۔۔ شاید ان کے ہاں لڑکیوں کو بیل بکری نہیں سمجھا جاتا۔۔ شاید انکے چاچے مامے رشتہ ناں ملنے پر قطع تعلق نہیں کرتے۔۔ ان کے ہاں شاید "کارو کاری" نہیں ہوتا۔۔ اسلیے؟

ان میں نکاح بل جبر نہیں ہوتا ہوگا۔۔ ان کی جوائنٹ فیملی سسٹم میں انکے سارے کزنس (cousins) شریف النفس ہونگے۔ جہاں انکے خرافاتی حرکات اور نظریات سے کوئی بے آبرو نہیں ہوتا ہوگا۔۔ مال ملکیت پر قبضہ نہیں ہوتا ہوگا۔۔ انکے خاندان کے جڑے رہنے کے لیے کزن میرج ضروری نہیں ہوگی۔۔ ان کے ایسے وڈیرے نہیں ہونگیں جو جرمانے کے طور پر کسی کی بہن بیٹی کو دشمنوں کے حوالے کرتے ہونگے اور خود کو عزتدار کہلاتے ہونگے۔۔

پرندوں میں یہ سب نہیں ہوتا۔ وہ ساتھ ہوتے ہیں۔۔ پر آزاد ہوتے ہیں۔۔ اسلیے جوائنٹ فیملی بری نہیں ہوتی۔ بس اسکا سسٹم ناکارہ ہو جاتا ہے۔ جسے وقت کے ساتھ آپ ڈیٹ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے لیے شور کی نہیں بلکہ شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ ویسے آپس کی بات ہے اگر میری امی جان سے کوئی یہ سوال پوچھے تو ان کا جواب ہوگا "بیٹا پرندوں کے پاس موبائل فون نہیں ہوتا اسلیے خوش ہیں"۔ ورنہ یہ بھی کوئی کسر ناں چھوڑتے۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ ضرور بتائیے گا۔۔

Check Also

Ibrahimi Dabao Aur Muslim Dunya

By Fatima Tayyab Singhanvi