Thursday, 18 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Ye Tanqeed Tang Nazri Ki Alamat Hai

Ye Tanqeed Tang Nazri Ki Alamat Hai

یہ تنقید تنگ نظری کی علامت ہے

جامعۃ الرشید کے استاذ، محقق اور مبلغِ دین ڈاکٹر مفتی رشید احمد خورشید صاحب کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں ایک متنازع شخصیت انہیں کتاب پیش کر رہی ہے۔ اس تصویر کو بنیاد بنا کر بعض حلقوں نے ان پر تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا۔ خود مفتی صاحب اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ تصویر محرم الحرام کے حوالے سے ہونے والی ایک ٹی وی ٹرانسمیشن کی ہے، جہاں مختلف مکاتبِ فکر، مختلف نظریات اور مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کی آمد و رفت معمول کی بات ہوتی ہے۔

محض ایک تصویر کسی شخص کے عقائد، نظریات، وابستگیوں یا موقف کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہو تو سرکاری تقریبات، بین المسالک کانفرنسوں، ٹی وی پروگراموں اور قومی اجتماعات میں مختلف مکاتبِ فکرکے افراد کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا بھی قابلِ اعتراض قرار پانا چاہیے، حالانکہ کوئی سنجیدہ شخص محض ملاقات، مصافحے یا تصویر کو نظریاتی ہم آہنگی کی دلیل نہیں سمجھتا، افسوس مگر یہ کہ بعض تنگ نظر لوگ ماضی میں بھی اسی سوچ کی بنیاد پر مولانا طارق جمیل صاحب اور دیگر علمائے کرام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

میں ذاتی طور پر مفتی رشید احمد خورشید صاحب کو برسوں سے جانتا ہوں۔ 2012ء میں جامعۃ الرشید میں کمپیوٹر کے ابتدائی اسباق انہی سے سیکھنے کا موقع ملا اور ان سے دوستانہ تعلق بھی قائم رہا۔ ان کی شخصیت میں علم، شائستگی، اعتدال اور اخلاص نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ مفتی ابولبابہ شاہ منصور رحمہ اللہ کے ساتھ ان کا تعلق ایک نہایت قریبی شاگرد کا تھا اور اس تعلق پر خود اساتذہ کو بھی فخر تھا۔ صحافتی زندگی میں جب مجھے روزنامہ اسلام کے اسلامی صفحے کی ذمہ داری ملی تو ملک بھر کے علماء کرام کے مضامین شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

مفتی رشید احمد خورشید صاحب نے میری درخواست پر ایک عرصے تک مسلسل لکھا اور ان کے مضامین قارئین میں بے حد مقبول رہے۔ وقت کے ساتھ ان کی علمی صلاحیت، متوازن فکر اور عمدہ اسلوب نے انہیں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا میں ایک نمایاں مقام دلایا۔ آج وہ ان معدودے چند علماء میں شمار ہوتے ہیں جو شور، سنسنی اور وقتی مقبولیت کے بجائے امت کو درپیش اہم اور ضروری موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اہلِ سنت والجماعت کا موقف نہایت حکمت، وقار اور علمی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ بالخصوص سیرتِ طیبہ ﷺ کے حوالے سے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سوشل میڈیا ماحول میں جہاں اکثر لوگ ٹرینڈز کے پیچھے دوڑتے ہیں، مفتی رشید احمد خورشید صاحب جیسے افراد فکری اور دینی رہنمائی کا اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کا انداز نہ اشتعال انگیز ہے، نہ نفرت پھیلانے والا اور نہ ہی فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف طبقات کے لوگ ان کی گفتگو کو توجہ سے سنتے ہیں۔

دعوت، مکالمہ اور اپنے موقف کی وضاحت ہمیشہ لوگوں سے ملنے جلنے اور ان سے رابطہ رکھنے ہی کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ اگر اہلِ حق صرف اپنے محدود حلقوں تک خود کو محصور کر لیں اور مختلف نظریات رکھنے والوں سے رابطہ ہی ختم کر دیں تو اپنا مؤقف دوسروں تک کیسے پہنچائیں گے؟ علماء اور داعیانِ حق نے ہمیشہ مختلف افکار رکھنے والے لوگوں سے ملاقاتیں کیں، مکالمہ کیا اور دلائل کے ذریعے اپنا نقطۂ نظر واضح کیا۔

اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری اور جائز امر ہے، لیکن کسی ایک تصویر کو بنیاد بنا کر کسی عالمِ دین کی پوری علمی، دعوتی اور فکری زندگی کو مشکوک بنا دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ہم واقعی حق، دیانت اور انصاف کے علمبردار ہیں تو ہمیں شخصیات کا فیصلہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کسی ایک تصویر کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کے مجموعی علمی کردار، خدمات اور واضح مؤقف کی روشنی میں کرنا چاہیے۔

Check Also

Pakistan: Aik Be Chain Zehan Ki Rudad

By Aftab Alam