Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Sab Topi Drama Chal Raha Hai

Sab Topi Drama Chal Raha Hai

سب ٹوپی ڈرامہ چل رہا ہے

عجیب ڈھنگ کے حکمران، نمونے سیاست دان اور مسخرہ میڈیا ہے۔ کئی دنوں سے بڑی دھوم مچی ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے، حالانکہ یہ سب ایک طے شدہ ٹوپی ڈرامہ ہے۔ عوام کو دکھانے کے لیے پچاس فیصد اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔ حکومت تو ہمیشہ کی طرح عوام کا خون نچوڑنے میں مصروف ہے۔ اس نے حسبِ توقع انکار کر دیا اور پیپلز پارٹی نے بھی خاموشی سے معاملہ سمیٹ لیا کہ ٹھیک ہوگیا حضور۔ گویا کہنا چاہتی ہو: "ہم نے کون سا واقعی یہ مطالبہ منوانا تھا، عوام کو صرف یہ دکھانا تھا کہ ہم نے آواز اٹھائی ہے"۔

اگر واقعی مطالبہ منوانے کا ارادہ ہوتا تو حکومت کی اتحادی اور اس کی بیساکھی بننے والی جماعت ہونے کے ناطے اپنا مطالبہ منوا سکتی تھی، لیکن مقصد سرکاری ملازمین کو حقیقی ریلیف دلانا نہیں بلکہ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تھا۔

اب میڈیا کا تماشا بھی دیکھ لیجیے۔ کئی دنوں سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ سرکاری ملازمین کو بڑی خوشخبری ملنے والی ہے، تنخواہوں میں نمایاں اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ اب یہ خبر بھی دھوم دھڑکے سے دی جا رہی ہے کہ حکومت غالباً سات سے دس فیصد اضافہ کرے گی۔ میڈیا کا انداز دیکھ کر لگ رہا کہ شاید لاکھ دو لاکھ روپے اضافہ ہورہا ہے، لیکن حساب لگائیں تو یہ اضافہ بیشتر ملازمین کے لیے بمشکل تین سے چار ہزار روپے بنتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت پورا سال بجلی، گیس، پٹرول، ٹیکسوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عوام کی جیبیں خالی کرتی رہتی ہے۔ سرکاری ملازمین کو سال میں صرف ایک بار بجٹ کے موقع پر کسی اضافے کی امید بندھتی ہے، لیکن مہنگائی کی رفتار کے مقابلے میں یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو حکومت سال بھر مہنگائی کے ذریعے ملازمین کی جیب سے آخری روپیہ تک نکلوا لیتی ہے، وہی سال کے اختتام پر تین چار ہزار روپے کا اضافہ کرکے احسان جتانے لگتی ہے اور یہ بھی تب، اگر حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات پورے ہو جائیں اور ان کے لیے اربوں روپے کا کوئی نیا جہاز نہ خریدنا ہو یا کوئی اور عیاشی درپیش نہ ہو۔

سرکاری ملازمین کی حالت اس فقیر جیسی ہوگئی ہے جو ایک گھر میں بھیک مانگنے گیا۔ گھر کی بڑھیا نے کہا: "جاؤ، آٹے کی ٹینکی سے ایک مٹھی آٹا لے لو۔ " فقیر نے دیکھا تو ٹینکی خالی تھی۔ بڑھیا آئی اور کہنے لگی: "میں نے تو کہا تھا تھوڑا سا آٹا لینا، مگر تم نے تو ساری ٹینکی خالی کر دی!" پھر اس نے فقیر کے تھیلے میں موجود آٹا اپنی ٹینکی میں انڈیل دیا اور اسی میں سے ایک مٹھی آٹا واپس اس کے تھیلے میں ڈال کر کہا: "لو، اب جاؤ۔ تمہیں ایک مٹھی آٹا مل گیا" سرکاری ملازمین کو ملنے والا یہ نام نہاد اضافہ بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے اور وہ بھی سرکاری ملازمین پر عاید کیے گئے ٹیکسوں سے حاصل ہوا ہے۔

Check Also

Tehzeeb Ka Tohfa

By Sarfraz Saeed Khan