Wednesday, 24 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. NGOs, Gumshuda Afrad Aur Awami Sawalat

NGOs, Gumshuda Afrad Aur Awami Sawalat

این جی اوز، گمشدہ افراد اور عوامی سوالات

جامعۃ الرشید میں دورانِ تعلیم استاذِ محترم مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب بعض این جی اوز کے حوالے سے ایسے حقائق اور مشاہدات بیان کرتے تھے جو سننے والے کو غور و فکر پر مجبور کر دیتے تھے۔ انہوں نے اس موضوع پر شاید متعدد کالم بھی تحریر کیے تھے۔ مختلف ادوار میں بعض این جی اوز کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں اور ان کے بارے میں مختلف نوعیت کی تنقید اور الزامات سامنے بھی آتے رہے ہیں۔

ان دنوں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ اگر بعض مخلص لوگ انفرادی جہدوجہد اور محدود وسائل کے باوجود چند برسوں میں بڑی تعداد میں بچھڑے، لاپتا یا گمشدہ افراد کو ان کے خاندانوں سے ملانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اس میدان میں کام کرنے والے بڑے اداروں اور تنظیموں کی کارکردگی کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ بہت سی این جی اوز اور فلاحی تنظیمیں اخلاص، دیانت داری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہیں، تاہم اس شعبے میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض اداروں میں انتظامی اخراجات کا حجم بہت زیادہ ہوتا ہے، جس کے باعث یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حاصل ہونے والے فنڈز کا کتنا حصہ براہِ راست مستحقین پر خرچ ہوتا ہے اور کتنا دفاتر، تنخواہوں اور دیگر انتظامی امور پر صرف ہو جاتا ہے۔ اسی لیے مالیاتی شفافیت، آزاد آڈٹ اور مؤثر نگرانی کے مطالبات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ فلاحی اداروں کی کامیابی صرف اس بنیاد پر نہیں جانچی جانی چاہیے کہ ان کے زیرِ کفالت کتنے افراد ہیں، بلکہ اس بنیاد پر جانچی جانی چاہیے کہ وہ کتنے افراد کو ان کے خاندانوں تک پہنچانے، ان کی شناخت بحال کرنے یا ان کی مؤثر بحالی میں کامیاب ہوئے۔

مختلف اوقات بعض این جی اوز اور شیلٹر ہومز کے حوالے سے یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ بعض افراد کی شناخت، ریکارڈ یا منتقلی کے معاملات میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک میں این جی اوز، یتیم خانوں اور شیلٹر ہومز کے نظام سے متعلق مختلف تحقیقی رپورٹس اور سرکاری دستاویزات میں انتظامی کمزوریوں، نگرانی کے فقدان اور شفافیت کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ More Than Shelter میں بھی بعض شیلٹر ہومز اور دارالامانوں میں انتظامی اور نگرانی سے متعلق مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔

اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بعض تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض ممالک کے شیلٹر ہومز میں موجود بہت سے بچوں کے والدین یا قریبی رشتہ دار زندہ ہوتے ہیں، جس کے باعث بچوں کی نگہداشت اور خاندان سے علیحدگی کے نظام پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں بعض اداروں کے خلاف تحقیقات، مقدمات اور سرکاری کارروائیاں بھی سامنے آ چکی ہیں، تاہم ہر معاملے کو اس کے مخصوص حقائق اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی پرکھا جانا چاہیے۔

ناقدین عموماً مالیاتی شفافیت، فنڈز کے استعمال، نگرانی کے نظام، شناختی ریکارڈ کی درستگی اور مستحقین کی بحالی کے عمل سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں۔ بعض خاندانوں کی جانب سے یہ شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ اپنے گمشدہ یا بچھڑے ہوئے عزیزوں کی تلاش اور واپسی کے عمل میں غیر ضروری تاخیر ہوئی۔ البتہ ایسے دعوؤں کی نوعیت ہر معاملے میں مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے ان کا غیر جانب دارانہ اور شفاف جائزہ لینا ضروری ہے۔

بعض ماہرین کے نزدیک اس صورتِ حال کی ایک بڑی وجہ ریاستی نگرانی کے نظام میں موجود کمزوریاں ہیں۔ اگر حکومت تمام شیلٹر ہومز اور فلاحی اداروں میں موجود افراد کا بائیومیٹرک ریکارڈ، شناختی معلومات اور نقل و حرکت کا ریکارڈ ایک مرکزی اور قابلِ نگرانی ڈیٹا بیس سے منسلک کرے تو شفافیت میں اضافہ اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ بہت سی این جی اوز اور فلاحی تنظیمیں انتہائی دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ انسانی خدمت انجام دے رہی ہیں۔ تاہم کسی بھی شعبے کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے احتساب، شفافیت اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہیں۔ ضروری ہے کہ شیلٹر ہومز اور فلاحی اداروں کے لیے باقاعدہ آڈٹ، مرکزی ڈیٹا بیس، بائیومیٹرک ریکارڈ اور آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہو، تاکہ حقیقی خدمت انجام دینے والے اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو اور بدانتظامی یا بے ضابطگی کے امکانات کم سے کم رہ جائیں۔

Check Also

Aalmi Adam Ke 100 Azeem Novel

By Asif Masood