Thursday, 04 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Deeni Madaris Aur Niju Schools: Asatza Ka Muashi Istehsal

Deeni Madaris Aur Niju Schools: Asatza Ka Muashi Istehsal

دینی مدارس اور نجی اسکولز: اساتذہ کا معاشی استحصال

​کچھ روز قبل درس نظامی کے ایک انتہائی محترم عالمِ دین اور مفتی استاد سے گفتگو ہوئی۔ وہ روایتی علوم کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔ انہیں دینی تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے تقریباً اٹھائیس تیس برس بیت چکے ہیں اور اتنے ہی عرصے سے وہ ملک کے ایک معروف، بڑے اور مالی اعتبار سے مستحکم جامعہ میں کلیدی تدریسی و انتظامی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے انتہائی دل گرفتہ ہو کر کہا: "اٹھائیس تیس سالہ طویل تدریسی خدمات کے باوجود آج تک میری ماہانہ تنخواہ پچاس ہزار روپے تک بھی نہیں پہنچ سکی"۔

​ان کا یہ جملہ محض ایک استاد کا ذاتی دکھ نہیں، بلکہ ہمارے پورے تعلیمی اور معاشرتی نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ دیگر انسانوں کی طرح ان کے بھی بیوی بچے ہیں، ان کی تعلیم و تربیت، صحت اور دیگر ناگزیر ضروریاتِ زندگی ہیں۔ انہوں نے گہرے دکھ کے ساتھ کہا کہ اگر تدریس کے آغاز میں کسی نے ان کی رہنمائی کی ہوتی تو وہ اپنی عصری تعلیم کی بنیاد پر کسی کالج یا یونیورسٹی کا رخ کرتے۔ ​یہ المیہ تو ملک کے ایک مقتدر اور بڑے جامعہ کے سینئر استاد کا ہے۔

اب ذرا تصور کیجیے کہ ان چھوٹے مدارس کا کیا حال ہوگا جن کے مالی وسائل محدود ہیں؟ وہاں پڑھانے والے نئے مدرسین، جن کا تجربہ بھی کم ہے، کس کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہوں گے؟ اس کمر توڑ مہنگائی کے دور میں جہاں پچاس ساٹھ ہزار روپے میں بھی ایک اوسط خاندان کا گزارا ناممکن ہو چکا ہے، وہاں مدارس کے اساتذہ کو آج بھی بیس پچیس ہزار روپے ماہانہ مل رہے ہیں۔ مدارس کے مدرسین کا مشاہرہ کم از کم اتنا تو ہونا چاہیے جتنا ریاست نے ایک عام غیر ہنر مند مزدور کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ معاشی استحصال صرف دینی مدارس تک محدود نہیں ہے، پاکستان کے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی حالتِ زار اس سے بھی بدتر ہے۔ ان کی تنخواہیں بھی آٹے میں نمک کے برابر ہیں، جبکہ کام ان سے صبح سے شام تک لیا جاتا ہے۔ نجی اسکولوں کے مالکان معمولی باتوں پر اساتذہ کی تذلیل کرتے ہیں، جب جی چاہے ملازمت سے برطرف کر دیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر تنخواہیں کاٹ لی جاتی ہیں۔ گرمی یا سردی کی تعطیلات میں بھی تنخواہیں روک کر ان کا استحصال جاری رکھا جاتا ہے۔ ان اساتذہ کے بھی خاندان اور ضروریات ہیں۔

​جس معاشرے میں علم کے تاجر کھرب پتی بن جائیں اور علم بانٹنے والے دو وقت کی روٹی کو ترسیں، وہاں نسلوں کی تربیت نہیں، بلکہ ان کا فکری قتلِ عام ہوتا ہے۔ ریاست کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں ایک ایسا جامع نظام وضع کرے جس کے تحت خواہ مدرسہ ہو یا اسکول، کسی بھی تعلیمی ادارے میں استاد کی تنخواہ سرکاری طور پر مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم نہ ہو۔ جہاں حکمران طبقہ اپنے پروٹوکول، مراعات اور عیاشیوں پر سالانہ اربوں روپے پانی کی طرح بہا دیتا ہے، کیا وہاں ان معمارانِ قوم کے لیے ریاستی خزانے سے کوئی معقول وظیفہ یا معاشی پیکیج مقرر نہیں کیا جا سکتا؟

​افسوس مگر حکومتِ وقت اس بحران کو حل کرنے کے بجائے پہلے سے موجود لنگڑے لولے تعلیمی نظام کو بھی تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ سرکاری اسکولوں کو تیزی سے "آؤٹ سورس" کیا جا رہا ہے، جس سے اساتذہ کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے اور ان کے معاشی تحفظات دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جہاں تعلیم کا شعبہ اب کہیں بھی باوقار اور محفوظ نہیں رہا۔ اگر ہم نے اب بھی اساتذہ کی معاشی کسمپرسی کا نوٹس نہ لیا تو باصلاحیت افراد تعلیم کے شعبے کی طرف رخ نہیں کریں گے، علم کی شمعیں بجھ جائیں گی اور معاشرہ اندھیروں کی نذر ہو جائے گا۔

Check Also

Iran Ka Muqadma

By Najam Wali Khan