Thursday, 08 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abdul Hannan Raja
  4. Kamzor Difa, Khokhle Naare Aur Venezuela

Kamzor Difa, Khokhle Naare Aur Venezuela

کمزور دفاع، کھوکھلے نعرے اور وینزویلا

ریاست کے پاس قدرت کے عطا کردہ ذخائر ہوں، وسیع رقبہ ہو، ملک نباتاتی حسن سے مالا مال ہو اور معدنیات کے ذخائر بھی، یہ سب دشمن کی عسکری طاقت سے بچانے کو ناکافی۔ وینزویلا اس کی تازہ مثال۔ اس حملہ سے دوسری بات جو سمجھ آئی کہ تکبر اور طاقتور کے ساتھ ہمہ وقت ٹکراؤ اور الجھاؤ ذلت آمیز انجام سے دوچار کرتا ہے۔ وینزویلا کے صدر کے انجام سے اہل پاکستان کے تمام طبقات کے لیے بھی اسباق ہیں اور ہر ایک کو حسب حال سمجھنا ہوگا۔

2026 کے آغاز میں امریکی صدر کی حیران کن کاروائی نے جہاں کمزور ممالک کی خودمختاری داو پر لگا دی وہیں امریکی صدر ٹرمپ کی شخصیت کا یہ پہلو بھی نکھر کر سامنے آیا کہ وہ کانگریس، کابینہ اور سینٹ سے منظوریوں کے چکر میں پڑتے ہیں اور نہ اپنے کسی فیصلہ پر انتظار کی تکلیف اٹھانے کے قائل۔ سو طاقتور بدمست ہاتھی کے ساتھ معاملات کیسے کرنے ہیں یہ دنیا کے اکثر ممالک کی قیادتوں کا امتحان بالخصوص پاکستان کے لیے۔

وینزویلا پر امریکی حملہ نے روس کے دفاعی نظام کی معذوری بھی آشکار کر دی روسی ٹیکنالوجی اب کس مقام پر کھڑی ہے یہ سوالیہ نشان کہ بھارت کے بعد وینزویلا میں ناکامی سے امریکی دفاعی نظام کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔

وینزویلا ان بدقسمت ممالک میں شامل کہ جو سب سے زیادہ پٹرولیم کے 303 بلین سے زائد کے ذخائر ہونے کے باوجود معاشی قوت بن سکا اور نہ اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا سکا۔ وجہ اندرونی چپقلش، بدعنوانی اور بدانتظامی۔ یہی وجہ رہی کہ ریڈار اندھے ہوئے اور لولا لنگڑا دفاعی نظام چند گھنٹوں میں راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ اربوں ڈالر، معدنی ذخائر، بلند و بالا عمارات اور کھوکھلے نعرے اسے بچا نہ پائے۔ ناقابل تسخیر دفاع اور عزم مصمم ایسی حقیقت کہ جس سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ وینزویلا کے صدر اس انجام کا شکار نہ ہوتے اگر اندر کی صفوں میں غدار نہ ہوتے۔ اسی لیے باحمیت قومیں غداروں کو معاف نہیں کرتیں۔

وال سٹریٹ جنرل اور رائٹرز میں دفاعی تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ تیل کے ذخائر کی لالچ امریکہ کے خلاف گوریلا وار شروع کر سکتی ہے۔ وینزویلا کی پیچیدہ جغرافیائی صورتحال، گھنے جنگلات اور پہاڑی سلسلہ گوریلا جنگجووں کے لیے موزوں ترین جبکہ یہ تخریب کاری عالمی دنیا کو تیل کے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ نکولس مادورو لاطینی امریکہ کے تمام کارٹلز کے لیے گاڈ فادر کا درجہ رکھتے تھے اس صورتحال میں امریکہ کے لیے پرامن طریقہ سے تیل کے ذخائر پر قبضہ برقرار رکھنا دشوار ہو سکتا ہے۔ امریکی حملہ کے بعد اقوام متحدہ بھی اپنا جواز کھو چکا طاقتور کے آگے اس ادارے کا کردار مشکوک اور محدود ہونے لگا ہے۔

یہ سوال ہر قاری کے ذہن میں جنم میں لیتا ہے کہ قدرتی ذخائر اس ملک کو کیوں نہ بچا سکے تو ماہرین اس کی بڑی وجوہات بیان کرتے ہیں کرپشن، انتظامی کمزوری، تیل پر 90 فی صد انحصار اور غیر سنجیدہ قیادت کہ جو طاقتور پڑوسی کے خلاف مسلسل محاذ آرائی اختیار اور تند و تیز بیانات سے اسے مشتعل کر رہا تھا۔ وینزویلا میں معاشی عدم استحکام اور تیل کے پیداوار میں کمی کا سلسلہ ہوگوشاویز کے دور میں شروع ہوا جب انہیں شوشلسٹ انقلاب کا شوق چرایا۔

ماہرین کے مطابق اسی اقدام سے کرپشن نے جڑیں مضبوط کیں۔ شاویز کے انقلاب کے بعد امریکی و دیگر غیر ملکی کمپنیاں وینزویلا سے رخصت ہوگئیں جس سے معیشت کو بڑا جھٹکا لگا۔ 2007 میں وینزویلا نے ExxonMobil کے اثاثے ضبط کر لیے جبکہ بین الاقوامی ثالثی کورٹ کے فیصلے کے باوجود وینزویلا نے اسے اربوں ڈالر کے معاوضے ادا نہیں کیے۔ موجودہ صدر کی امریکی مخالف مہم اور مبینہ طور پر انڈر ورلڈ کی سرپرستی اور دنیا کے سب سے زیادہ کروڈ آئل کے ذخائر نے امریکہ کو حملہ پر اکسایا۔ اس جیسے دیگر ممالک کے لیے دنیا اب غیر محفوظ ہو چکی۔ یہ سوال آنے والے کئی سالوں تک ذہنوں کو پریشان کئے رکھے گا۔

***

پنجاب ٹریفک پولیس صوبے میں ٹریفک کی بلاتعطل روانی برقرار رکھنے، قوانین پر عمل درآمد کروانے کے ساتھ شہری نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ جرمانوں کی نئی شرح لاگو ہونے کے بعد یہ فورس حکومتِ پنجاب کو اربوں روپے کا ریونیو بھی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی۔ یہ درست کے ٹریفک قوانین کی پابندی اور سڑکوں پر ٹریفک کا نظم و ضبط اس قوم کی مہذب ہونے کی پہچان ہے اب ھم کتنے مہذب ہیں یہ فیصلہ قارئین خود ہی کر سکتے ہیں؟

ہمارا مقصد اس کالم کے ذریعے حکومت پنجاب اور ادارہ کے ذمہ داران کی توجہ وارڈنز کے کلیدی و بنیادی مسائل کی طرف توجہ دلانا ہے کہ سرد و گرم شدید موسمی حالات میں کھلے آسمان تلے فرائض انجام دینے والے گوشت پوست کے اہل کاروں کو گرمی و تیز دھوپ کی تمازت بھی متاثر کرتی ہے اور موسلا دھار بارش اور یخ بستہ سردی بھی انکی رگوں میں دوڑتا خون منجمد کرتی ہے جبکہ اعلی افسران سے لیکر سیاست دانوں تک اور سڑک سے گزرنے والے ہر کس و ناکس کی نظر ان پر ہی ہوتی پے رہی سہی کسر ہاتھ میں پکڑے سیل فون اور سوشل میڈیا کی بدتہذیبی پوری کر دیتی ہے۔

سرد و گرم موسم، بے آرامی، طویل ڈیوٹی اور بے پناہ دباؤ کے باعث فورس کے جوان جہاں ایک طرف ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے وہیں جسمانی بیماریوں کا شکار بھی ہوتے نظر آتے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ، دو ماہ کے دوران پنجاب میں 8 ٹریفک وارڈنز دل کے دورے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان کی عمریں 40 سے 44 سال کے درمیان تھیں، جو اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ مسلسل ذہنی دباؤ، طویل ڈیوٹی اوقات اور غیر متوازن طرزِ زندگی کس قدر خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔

تاثر یہ قائم ہو رہا پے کہ جوانوں کو بذریعہ چالان ریونیو جمع کرنے کا فریضہ سونپ دیا گیا ہے جس سے عوام کے اندر اضطراب اور فورس کے لیے منفی جذبات پیدا ہونا فطری امر مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کے لیے اقدامات نہ کیے جائیں۔ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے دنیا بھر میں رائج اور قوانین کی پاسداری کا یہ اہم طریقہ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں جوانوں کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ روایت بن چکا جو چوکوں، چوراہوں پر فرائض سرانجام دینے والے جوانوں کے مورال پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

بہترین نتائج کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ڈیوٹی کے اوقات محدود کیے جائیں، افسران کی جانب سے تضحیک آمیز رویہ کی بجائے اخلاقی حدود کے اندر سرزنش، خوراک و علاج کے بہترین انتظامات، رخصت کے فارمولہ پر نظرثانی اور دیگر بنیادی سہولیات کو بہتر کرکے ان کی کارکردگی کو مزید نکھارا جا سکتا ہے۔

Check Also

Sir Major James Abbott: Aik Muntazim, Aik Insan

By Asif Masood