Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abdul Hannan Raja
  4. Hukumat, Form 47 Aur Pti Ki Siasi Committee

Hukumat, Form 47 Aur Pti Ki Siasi Committee

حکومت، فارم 47 اور PTI کی سیاسی کمیٹی

دنیا بھر میں وقتاََ فوقتاََ سیاسی انتشار اور اداروں کے ساتھ ٹکراو کا ماحول گرم رہتا ہے مگر اکثر میں ریاست ہی غالب رہتی ہے۔ پاکستان کا ماحول دیگر کے مقابلے میں اس لحاظ سے قدرے منفرد کہ یہاں کے عوام سیاسی و فوجی آمریت کے ادوار دیکھتے رہے۔ پاکستان میں ہی ذوالفقار علی بھٹو پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے اور ان کے دوسرے دور حکومت میں تو مخالفین کو خوب مشق ستم بھی بنایا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کو کرپشن تو کبھی مقتدرہ سے تنازع کے باعث حکومتوں کی برطرفی کے صدمات سہنا پڑے اور اب PTI اسی راہ پر کوہاٹ کے جلسہ میں مقررین کا لب و لہجہ عیاں کرتا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ لڑنے، مارنے، بدتہذیبی اور بلند و بانگ دعوے کرنے والے کپتان دوست نہیں مگر سمجھے کون؟ ہم نے انہی کالموں میں متعدد بار اس بات کا اظہار بھی کیا کہ PTI کو سیاست کرنی چاہیے بغاوت نہیں، کہ سیاسی جماعت کو باغیانہ روش زیب نہیں دیتی ہے پھر بھی اگر وہ حدود پار کرنے پہ تلے ہیں تو اپنے آئیڈیل شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کا انجام دیکھ لیں۔

پی ٹی آئی کے سنجیدہ و فہمیدہ لوگوں نے 9 مئی سے قبل اور بعد محاذ آرائی کی حدت اور شدت کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر بھگوڑے یوٹیوبرز اور انتہا پسند سیاسی راہنماوں کے ہاتھوں یرغمال پارٹی میں مفاہمت کی ہر کوشش ناکام بنا دی جاتی ہے اور اب تو ایک ایک کرکے تجربہ کار، کہنہ مشق اور سیاسی بصیرت کی حامل قیادت کو فیصلہ سازی حتی کہ پارٹی سے الگ کیا جا رہا ہے اور نئی سیاسی کمیٹی کی تشکیل اس کی تازہ مثال، کمیٹی میں اگر علی امین گنڈا پور، شاہ فرمان، علی محمد خان اور سابق صدر عارف علوی جیسے پرانے وفاداروں کی جگہ نہیں بنی تو شیر افضل مروت کا یہ کہنا کہ "PTI کا جو وفادار ہے وہ گناہ گار ہے" درست ہی نظر آتا ہے۔

معروف قانون دان قاضی انور کا پارٹی سے استعفی اور علی محمد خان کی باتیں پارٹی کے مستقبل کا پتہ ہی تو دے رہی ہیں اب تو PTI کے اپنے لوگ اسے فارم 47 کی سیاسی کمیٹی قرار دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے محاذ آرانہ پالیسی تو اپنی حکومت کے اواخر میں ہی شروع کر دی تھی مگر اس نے خطرناک صورتحال عمران خان کے شیخ مجیب الرحمٰن کو ہیرو قرار دینے کے بیان کے بعد اختیار کی۔ انہوں نے جب اپنی احتجاجی تحریک کو عوامی لیگ کی طرز پر چلانے کا عندیہ دیا تو ریاستی اداروں کے کان کھڑے ہو گئے اور اس سے قبل 9 مئی کا سانحہ رونما جبکہ مقتدرہ میں قیادت کی تبدیلی کے بعد ریاست میں ہارڈ اسٹیٹ ڈاکٹرائن لاگو ہو چکا تھا جس میں مجیبی طرز سیاست کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ ریاست کسی کے ہاتھوں یرغمال ہونے کو تیار اور نہ کسی اور سقوط کی متحمل۔

سو ایک طرف اگر 9 مئی کو بھی ناقابل قبول جرم قرار دیا گیا تو دوسری طرف بنگلہ دیشی ولن شیخ مجیب الرحمٰن کے نظریات کا احیا بھی ناقابل برداشت۔ سو ہارڈ اسٹیٹ ڈاکٹرائن نے تمام کرداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا صائب اور مشکل فیصلہ کیا اور فیض حمید کو سزا اس جانب پہلا قدم۔ مگر افسوس کہ عمران خان کسی مدبر سیاست دان کی طرح بدلتے حالات کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔

اسے PTI کی بدقسمتی کہیے یا پاکستان کی خوش بختی کہ شیخ مجیب کو ہیرو قرار دینے کے چند ہی روز بعد شیخ مجیب کی بیٹی عوامی غیض و غضب کا ایسا شکار ہوئیں کہ بھارت جا کے پناہ لینے پر مجبور ہوگئیں۔ بنگالی عوام نے نہ صرف شیخ مجیب کی باقیات تک کو حرف غلط کی طرح مٹا ڈالا اور 50 سال بعد پاکستان زندہ باد کے نعرے بنگلہ دیشی سرزمین پر گونجنے لگے بلکہ اب تو بنگلہ دیشی حکومت پاکستان سے دفاعی معاہدہ کے بعد اخوت کے نئے رشتہ میں پیوست ہوتی نظر آ رہی ہے۔ شیخ مجیب کے نظریات کی تباہی اور بیٹی کا ذلت آمیز فرار اس بات کا بین ثبوت کہ جھوٹ، نفرت اور تعصب کی بنیاد پر سیاست و مقبولیت کا انجام ذلت کے سوا کچھ نہیں۔

پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج، امریکہ سمیت غیر ممالک سربراہان کو پیغامات، بیرون ملک پاکستانیوں سے زر مبادلہ نہ بھجوانے کی اپیلیں، بھارتی بیانیہ کی مبینہ ترویج اور بار بار عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کی کوششوں نے اسے مقتدرہ سے دور بلکہ بہت دور اور معتدل سیاسی جماعت کا اعزاز چھین لیا۔ سیاسی میدان میں اب وہ جماعت تنہا کہ جس کے لیے 2018 میں ملک کی تمام چھوٹی و بڑی جماعتوں کو اس کی حمایت پر مجبور کیا گیا۔ حتی کہ سینٹ میں اپوزیشن کی واضح اکثریت کو بھی PTI کی محبت میں اقلیت میں بدل دیا گیا۔ مفاہمت کے بادشاہ کی چھ، سات سال قبل کی گئی پیشین گوئی کہ PTI فریق مخالف سے نہیں اپنے ہی بوجھ تلے دبے گی سچ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ 9 مئی اور پھر 24 نومبر کے احتجاج کے بعد حکمت عملی میں مثبت تبدیلی اسے نئی سیاسی زندگی دے سکتی تھی۔

مگر افسوس بانی اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے انکے اسی رویہ اور پارٹی کے بھگوڑے یوٹیوبرز کے جھوٹے افسانوں نے معتدل راہنماوں کی ہر سنجیدہ کوششوں کو بار بار ناکام بنایا۔ اس وقت صورتحال یہ کہ پی ٹی آئی کے پاس مقبولیت کا بیانیہ تو ہے اور ووٹ بنک کے دعوے بھی۔ مگر عملاََ اس کا ظہور ہے نہ طاقت کے اظہار کی قوت۔ کپتان کے بار بار احکامات ردی کی ٹوکری کی نذر ہو رہے ہیں کہ رہائی کے لیے پارٹی موثر مہم چلانے میں مکمل ناکام۔ مگر جھوٹے یوٹیوبرز کہ جو خان کو پراڈکٹ کے طور پر بروئے کار لا کر ڈالر بنانے میں مصروف کہ انہیں کپتان کی رہائی سے غرض ہے نہ پارٹی سے۔

اب تو اڈیالہ جیل کے باہر قائد کی ہمشیرگان کی بے بسی بھی دیدنی، کہ جن کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے پورے راولپنڈی ڈویزن اور کے پی سے 1500، دو ہزار کارکنان تک موجود نہیں ہوتے۔ آئے روز بدلتی اور غیر مبہم پالیسی نے قیادت کو مخمصے میں ڈال رکھا ہے اسی لیے بعض اراکین اسمبلی محترمہ علیمہ خان حتی کہ کپتان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا بوجھ اٹھانے سے کترانے لگے ہیں۔ کپتان اپنے ہر پیغام میں وزیر اعلی کے پی اور پارٹی کو اسلام آباد پرجارحیت کا حکم دیتے ہیں مگر اس پر عمل ممکن نظر نہیں آتا۔ خود کو ذات کے قلعہ میں محصور اور بات چیت کے دروازے بند کرکے راستے کھلتے ہیں اور نہ طاقت کے زور پر ریاست کو زیر کیا جا سکتا ہے۔

معتبر خبر ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کے نیٹ ورک کے گرد گھیرا تنگ ہونے کو ہے۔ مزید تفصیل اگلے کالم میں!

پس تحریر: ستھرا پنجاب کی خاتون ورکر نصرت بی بی نے اشرافیہ حتیٰ کے عام افراد کے ہاتھوں پامال ہونے والی دیانت داری کا بھرم رکھا۔ 10، بیس ہزار نہیں پورے 09 لاکھ اس نے دوران صفائی دیکھے، دماغ نے گھوڑے دوڑائے ہوں گے مگر ایمان متزلزل نہ ہوا۔ مالک کو ڈھونڈا اور امانت پوری دیانت داری سے پہنچائی۔ نصرت بی بی نے ہمارے معاشرے کی روبہ زوال اقدار کو سر بلند کیا۔ یقیناََ رزق حلال پر قناعت کرنے والوں کو ہی اللہ دیانت و امانت کی توفیق دیتا ہے۔

Check Also

Pakistanio, Mumlikat Ke Sath Khare Ho Jao

By Muhammad Riaz