Americi Iqdamat Aur Aqwam e Alam Ke Khadshat
امریکی اقدامات اور اقوام عالم کے خدشات

جنگیں رکوانے اور امن کے دعوے دار ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگی جنون کیسے سوار ہوگیا شاید اس میں نوبیل ایوارڈ کمیٹی کا بھی کردار کہ کمیٹی نے انکی نامزدگی کو نظر انداز کرکے عالمی امن خطرہ میں ڈال دیا۔ ری پبلکن رکن کانگریس ڈان بیکن اور ڈیمو کریٹک سنیٹر مارکی کی جانب سے ٹرمپ سے کمانڈر انچیف کے عہدے کا اختیارات واپس لینے کے لیے 25 ویں ترمیم نافذ کرنے کے مطالبے کو کتنی پذیرائی ملتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر یہ طے ہے کہ مسٹر ٹرمپ نے بالاتفاق حریف و حلیف کے خلاف محاذ کھول کر ثابت کر دیا کہ ان سے کسی بھی اقدام کی توقع اسی لیے تو ری پبلکن و ڈیموکریٹک دونوں ہی پریشان کہ کیا خبر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کسی لمحے تیسری عالمی جنگ کا ہی بگل نہ بجا دیں۔ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مدت صدارت پوری کر پاتے ہیں یا نہیں مگر ان کے ہوتے ہوئے امریکہ ہی نہیں دنیا بھی خطرہ سے دوچار رہے گی۔ 13 سے 23 جنوری کے دوران یورپ کے 10 ممالک کے سروے میں اکثریت خود کو امریکہ سے غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔
اسرائیلی وزیر نیر برکات نے امن بورڈ میں پاکستان و ترکیہ کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیا کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے مخالف، جبکہ بھارت بھی پاکستان کی شمولیت پر سخت معترض ہے۔ مسلمان اور کمزور ممالک اقوام متحدہ سے اب کیا فریاد کریں اور کب تلک امید بھری نگاہوں سے اسے تکتے رہیں کہ UNO نے آج تک مسلم دنیا پر ہونے والے مظالم روک پائی اور نہ اسرائیلی، امریکی اور بھارتی جارحیت۔ امریکہ اور چند طاقتور ممالک کے لیے اقوام متحدہ موم کی وہ گڑیا کہ جسے وہ اپنی طاقت سے جدھر چاہیں موڑ لیں اور کمزور ممالک کے لیے یہ تھانے دار کہ قانون اور ضابطے بتا اور دھکما کر انہیں بڑی طاقتوں کا چارہ بنانے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں مسلم دنیا کا کردار غیر موثر اور رسمی ہی رہ گیا کہ ان کی پیش کردہ قرادادوں پر گزشتہ 70 سالوں سے کوئی عمل نہیں۔ اسے اقبال نے یوں بیاں کیا۔۔
ہوا ہے بندہ مومن فسونی فرنگ
اسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نمناک
مگر یہ بات چھپانے سے چھپ نہیں سکتی
سمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعت چالاک
شریک حکم غلاموں کو کر نہیں سکتے
خریدتے ہیں فقط انکا جوہر ادراک۔
ان حالات میں مسلم دنیا کو کم از کم اپنے تنازعات کے حل اور پناہ کے لیے OIC کو فعال، مضبوط اور فیصلہ ساز کر لینا چاہیے وگرنہ طاقت کا سیلاب کسی وقت ان کو بہا لے جا سکتا ہے۔ اب حکومت و دیگر بااثر اسلامی ممالک اس شمولیت کو اہل غزہ کے حق میں کس طرح بروئے کار لاتے ہیں یہ انکے اتحاد اور حکمت پر منحصر۔ اگر اہل غزہ کے زخموں پر مرہم اور اسرائیلی جارحیت پر قابو پا لیا جاتا ہے تو یہ خوش آئند، وگرنہ یہ ہمارے گلے کا طوق۔
فی الوقت تو پاکستان کو یہ اعزاز کہ امریکی صدر فیلڈ مارشل کا ذکر احترام سے کرتے ہیں جبکہ پاکستانی وزیر اعظم بھی ان کے لفظی شر سے بچے ہوئے ہیں۔ فرانس، برطانیہ، کینیڈا جیسے ممالک کے سربراہان کی بھرے اجلاس میں بے توقیری ہو چکی تو پھر پیچھے بچتا کیا ہے۔ ادھر روانگی سے قبل فلسطینی سفیر سے وزیر اعظم کی ملاقات اور بعد ازاں فلسطینی وزیر اعظم کا پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرنا غیر معمولی ہے۔
ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا مقدمی نے گزشتہ روز اقوام متحدہ میں پاکستانی کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا جس سے لگتا ہے کہ پاکستان فلسطین اور ایران کو اعتماد میں لیکر تنی رسی پر سہی چل تو رہا ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات کی تردید بھی واضح طور پر آ چکی۔ سیدھی بات تو یہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی حکومت ہوتی فیصلہ یہی ہونا تھا کہ یہ مجبوری بھی تھی اور ضروری بھی کہ پاکستان عرب ممالک سے جدا موقف اپنا سکتا ہے اور نہ طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کے سامنے اکیلا کھڑا ہونے کی پوزیشن میں۔ کہ پورا یورپ اور لاطینی امریکہ کے ممالک بھی ٹرمپ کی جارحانہ اور غیر متوقع پالیسی سے حیران بھی ہیں اور پریشان کہ کہیں وہ طاقت اور دھونس تو کہیں معاشی ہتھیار بروئے کار لا کر ڈرا دھمکا رہا پے اب تو روس نے بھی ایک ارب ڈالر دینے کی حامی بھر کر اپنا وزن بورڈ آف پیس میں ڈال دیا جبکہ چین بھی بدمست ہاتھی کے سامنے کھڑا ہونے کو تیار نہیں اور اس نے فی الوقت خاموشی میں ہی عافیت جانی ا
معروضی حالات میں اگر بعض حلقے BoP میں شمولیت کے مخالف ہیں تو کم از کم ان کا نکتہ نظر بھی حکومت کو سن لینا چاہیے۔ پاکستان کی دو جماعتوں نے اس وقت نظریاتی تقسیم پیدا کر رکھی ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز امر نہیں کہ PTI اور JUI صبح، شام مسجدوں، عبادت گاہوں، سکولوں اور بازاروں پر حملے اور ہزاروں بے گناہوں کی قاتل TTP اور BLA جیسی دہشت گرد تنظیموں سے مذاکرات کی حامی تو دوسری طرف پاکستان کے بورڈ آف پیس کا ممبر بننے کی مخالفت؟ دونوں جماعتوں نے اہل غزہ کے لیے عملا کیا کیا وہ سب کے سامنے۔ روزانہ سینکڑوں لاشوں پر ایک نے تو مذمت تک کی زحمت نہ کی تو دوسری نے روایتی بیان دیگر اپنی ذمہ داری نبھائی۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان اور عوام ایک طرف اپنی معاشی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں تو دوسری طرف ہم 6 گنا بڑے دشمن بھارت کہ جس کی پشت پر اسرائیل کا شیطانی دماغ اور ٹیکنالوجی سے نبرد آزما تو دوسری طرف سرحد کے اس پار طالبان رجیم کو پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے ہر طرح کے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں ان حالات میں پاکستان عالمی اور سب سے بڑھ کر مسلم دنیا سے الگ کیسے رہ سکتا ہے یہ سوال ہر اس فرد کے لیے جو پاکستان کو ہمہ وقت مطعون کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ درست کہ سفارتی پالیسیاں عوام یا پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ سفارتی حلقوں میں بنتی ہیں اور حالات کی نزاکتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ سازی کی جاتی ہے مگر اس کے باوجود اگر اپوزیشن قیادت کو اعتماد میں لینا سیاسی ماحول کے تناو میں کمی کا موجب بن سکتا ہے۔

